ورٹیگو لازمی فلم کیوں ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ورٹیگو، ان چند فلموں میں سے ایک ہے جنہیں ہر فلم ساز کے لیے دیکھنا لازمی تصور کیا جاتا ہے اور جن کے بغیر اب فلم سازی کا کوئی تعلیمی نصاب مکمل تصور نہیں کیا جاتا۔ انیس سو اٹھاون میں بننے والی اس فلم کو آرٹ ڈائریکشن اور ساؤنڈ کے شعبوں میں آسکر کے لیے نامزد کیا گیا لیکن ان میں بھی اسے کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ کاروباری اعتبار سے بھی یہ فلم 1958 کی امریکی فلموں میں ایکسویں نمبر پر رہی۔ کچھ نقادوں نے اگرچہ اسے اچھا کہا لیکن کچھ بڑے نقادوں نے اسے بہت بری طرح رگیدا۔ ان میں نیو یارکر کے مبصر بھی شامل تھے جو اسے ’دور ازکار حماقت‘ قرار دے رہے تھے۔ یہ فلم 1983 تک نظر انداز ہوتی رہی لیکن اس کے بعد سے لگتا ہے کہ نقادوں نے جس طرح اسے سراہنا شروع کیا اس کا سلسلہ کہیں ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ورٹیگو، الفرڈ ہچکاک کے سہ فلمی سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔ اس سلسلے کی پہلی فلم رئر ونڈو، 1954 ہے اور تیسری فلم سائیکو ہے جو ہچکاک نے میں 1960 بنائی۔ فلم کے مرکزی کردار سکاٹی فرگوسن، میڈلین ایلسٹر، جوڈی بارٹن، گیون ایلسٹر اور میجی ووڈ ہیں۔ سکاٹی فرگوسن قانون کا تعلیم یافتہ ہے اور پولیس کا اعلیٰ عہدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور پولیس میں جاسوس کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یہ کردار جم سٹیورٹ نے ادا کیا ہے۔
جوڈی بارٹن مقامی سٹور میں کام کرنے والی، میڈلین کی ہم شکل اور ہم عمر لڑکی ہے جسے میڈلین کاشوہر میڈلین کا کردار ادا کرنے کے آمادہ کرتا ہے۔ میڈلین اور جوڈی کے کردار کم نواک نے ادا کیے ہیں۔ میجی ووڈ، سکاٹی فرگوسن کے سابق منگیتر اور دوست ہے۔ سکاٹی کی محبت نہ ملنے کے بعد اس نے کسی کو نہیں اپنایا لیکن سکاٹی سے دوستانہ تعلقات بھی ختم نہیں کیے۔ اب وہ عورتوں کے اندرونی لباسوں کے اشتہارات بنانے کا کام کرتی ہے۔ سکاٹی سے اس کا تعلق مامتا سے بھر پور دوست کا ہے اور وہ ہر برے وقت میں اس کے کام آتی ہے۔ یہ کردار باربرا بِل نے نبھایا ہے۔ گیون ایلسٹر میڈلن کا شوہر ہے۔ اس نے میڈلین کے خبطی پن کو جانتے ہوئے بھی شادی اس لیے کی ہے کہ اس کی دولت حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن جلد بازی میں ہے اور خود کشی کے رجحان کو دوسروں کے لیے یقینی بنا کر میڈلن سے جان چھڑانے کے درپے ہے تا کہ دولت کا لطف اٹھا سکے۔ یہ کردار ٹام ہل مور نے کیا ہے۔ فلم شروع ہوتے ہی سکرین پر ایک عورت کا ہر طرح کے تاثرات اور جذبات سے خالی چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ سب سے پہلے چہرے کا نچلا بایاں حصہ سامنے آتا ہے، اس کے بعد ہونٹ اور پھر ڈر اور حوف سے بھری ہوئی آنکھیں جو پہلے بائیں اور پھر دائیں جانب دیکھتی ہیں۔ اس کے بعد کیمرہ بائیں آنکھ کو سکرین پر پھیلاتا ہے اور دور کرتا ہے۔ آبجیکٹ کو زوم اِن کرتے ہوئے کیمرے کے پیچھے لے جانے کےشاٹ کی اس تکنیک کو فلم میں مسلسل استعمال کر کے کئی علامتی معنی تشکیل دیے گئے ہیں۔ آنکھ پھیلتے پھیلتے پُتلی رہ جاتی ہے اور تمام سکرین شوخ سُرخ رنگ سے بھر جاتی ہے اور اس میں سے فلم کا ٹائٹل ورٹیگو ابھرتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے ٹائٹل آتے ہیں اور آخر میں آنکھ پھر زوم اِن ہوتی ہے اور اس میں سے ’ڈائریکٹڈ بائی الفرڈ ہچکاک‘ کے الفاظ برآمد اور ڈیزالو ہوتے ہیں اور فلم کا پہلا منظر شروع ہو جاتا ہے۔ سان فرانسیسکو کے ایک علاقے میں مکانوں کی چھتوں پر سوٹ میں ملبوس جاسوس سکاٹی فرگوسن اور ایک باوردی پویس اہلکار کسی مجرم کا تعاقب کر رہے ہیں۔ ایک جگہ چھت سے وردی والا کامیاب چھلانگ لگاتا ہے لیکن سکاٹی کامیاب نہیں ہو پاتا اور ٹائلوں والی چھت کی منڈیر پکڑ کر گرنے سے بچتا ہے۔ وردی والا مجرم کا تعاقب چھوڑ کر اسے بچانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ اس میں سکاٹی تو بچ جاتا ہے لیکن بچانے والا گ کر ہلاک ہو جاتا ہے۔ اسی موقع پر سکاٹی میں دبا ہوا ایکرفوبیا (بلندی کا خوف) بیدار ہوتا ہے اور بعد میں وہ اس احساس سے پولیس کی ملازمت چھوڑ دیتا ہے کہ اگر اسے یہ مرض نہ ہوتا تو وہ اپنے آپ کو خود بچانے کو کوشش کر سکتا تھا اور اگر وہ ایسا کرتا تو ایک اور آدمی کی جان اسے بچانے میں نہ جاتی۔ منظر میجی کے سٹڈیو کا ہے جہاں سکاٹی ملازمت چھوڑنے کے بعد میجی سے مستقبل کے بارے میں مشورہ کر رہا ہے۔ اس دوران سکاٹی کو گیون ایلسٹر کی یہ پیش کش آتی ہے کہ وہ اس کے بیوی میڈلین ایلسٹر کی حفاظت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری نبھائے کچھ انکار کے بعد سکاٹی یہ پیشکش قبول کر لیتا ہے۔ میڈلین مسلسل گھومتی پھرتی رہتی ہے اور اس دوران روزانہ ہوٹل میکٹرک ضرور جاتی ہے۔ ہوٹل سے معلومات حاصل کرنے پر سکاٹی کو پتہ چلتا ہے کہ میڈلین نے ہوٹل میں اپنی پردادی کیرولیٹا والڈس کے نام پر کمرہ لے رکھا ہے۔ ہوٹل کے اس کمرے میں اس کی پردادی کی تصویر بھی لگی ہوئی ہے جو ہو بہو میڈلین کے ہم شکل ہے۔ مزید تحقیق پر سکاٹی کو علم ہوتا ہے کہ ہوٹل میکٹرک دراصل میڈلین کا آبائی گھر ہے جسے بیچ دیا گیا تھا۔ ان معلومات کے اگلے ہی روز میڈلین سان فرانسیسکو کے گولڈن گیٹ برِج پر جاتی ہے اور دریا میں چھلانگ لگا دیتی ہے لیکن سکاٹی اسے ڈوبنے سے بچا لیتا ہے۔ وہ بے ہوش میڈلین کو اپنے گھر لاتا ہے اور اس کا لباس تبدیل کر کے اپنے بستر پر لٹا دیتا ہے۔ جب میڈلین کو ہوش آتا ہے تو وہ حیران ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ اسے کچھ یاد نہیں لیکن اسی دوران جب سکاٹی ٹیلی فون سننے کے لیے دوسرے کمرے میں جاتا ہے تو وہ کچھ بتائے بغیر اس کے گھر سے چلی جاتی ہے لیکن اس دوران دونوں کے درمیان پسندیدگی کا تعلق قائم ہو جاتا ہے اور بعد میں وہ سکاٹی کو اپنے ان خوابوں کے بارے میں بتاتی ہے جن میں اسے ایک چرچ دکھائی دیتا ہے۔ سکاٹی سراغ لگا لیتا ہے کہ جس چرچ کا وہ ذکر کر رہی ہے وہ سینٹ یوان باؤٹیسٹا ہے۔ سکاٹی پتا چلاتا ہے کہ میڈلین کا خاندان سینٹ یوان باؤٹیسٹا کے قریب رہ چکا ہے۔ وہ اُسے یقین دلاتا ہے کہ چرچ اس کے بچپن کی دبی ہوئی یادوں کا حصہ ہے۔ میڈلین کے کہنے پر وہ اسے وہاں لے جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کر میڈلین چرچ کی بڑی گھنٹی والے مینار پر جانا چاہتی ہے اور سکاٹی کے منع کرنے کے باوجود مینار کی گھومتی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگتی ہے۔ کچھ گریز کے بعد سکاٹی بھی اس کے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہے لیکن نصف سیڑھیوں سے اوپر پہنچتے ہی اس میں بلندی سے ڈر کا پرانا احساس پیدا ہو جاتا ہے اور وہ سیڑھیاں چڑھنے کے لیے اپنی رفتار برقرار نہیں رکھ پاتا اور اس سے پہلے کہ وہ میڈلین تک پہنچے وہ مینار کے بالائی حصے سے نیچے چھلانگ لگا چکی ہوتی ہے۔ سکاٹی میڈلین کے جسم کو مینار سے ملحق عمارت کی چھت پر بے حس و حرکت پڑے ہوئے دیکھتا ہے۔ اس کے بعد سکاٹی ایلسٹر کے پاس جاتا ہے اور اپنی ناکامی کا اعتراف کرتا ہے اور اس کی وجہ بھی بتاتا ہے۔ ایلسٹر اگرچہ اسے اطمینان دلاتا ہے کہ اس میں اس کوئی قصور نہیں کیونکہ وہ ایک بار پہلے بھی اس کی جان بچا چکا ہے لیکن سکاٹی اس احساسِ ندامت سے بیمار پڑ جاتا ہے اور سال بھر تک ہسپتال میں زیر علاج رہتا ہے جس کے دوران میجی اس کا خیال رکھتی ہے اور اسے احساسِ ندامت سے نکلنے میں مدد بھی دیتی ہے۔ ہسپتال سے نکلنے کے بعد سکاٹی کے ملاقات ایک بار پھر ایک ایسی عورت سے ہو جاتی ہے جو میڈلین کی ہم شکل ہے۔ یہ جوڈی بارٹن ہے جو ایک سٹور میں کام کرتی ہے۔ میڈلین کے لیے پیدا ہونے والی پسندیدگی کی بنا پر سکاٹی اس سے تعلقات بڑھاتا ہے اور اسے اپنے اپارٹمنٹ لے آ تا ہے۔ جوں جوں دونوں کی قربت بڑھتی ہے سکاٹی کا یہ اصرار بھی بڑھتا چلا جاتا ہے کہ جوڈی میڈلین جیسے لباس پہنے اور اسی کی طرح رہے سہے اور بال بھی بنائے پہلے تو جوڈی اس کی باتیں مانتی چلی جاتی ہے لیکن پھر تنگ آ جاتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے کہ وہ سکاٹی کو چھوڑ کر چلی جائے گی لیکن جانے سے پہلے وہ اس کے نام ایک خط لکھتی ہے جس میں وہ اس بات کا انکشاف کرتی ہے کہ ایلسٹر نے کس طرح اسے میڈلین کا ہم شکل ہونے کی بنا پر استعمال کیا اور شروع سے لے چرچ کا واقعہ پیش آنے تک سکاٹی کے جس میڈلین سے مراسم رہے وہ اصل میڈلین نہیں بلکہ خود جوڈی تھی اور جب وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچی تو ایلسٹر نے جوڈی کو ایک طرف کر لیا اور میڈلین کی لاش نیچے پھینک دی اور سکاٹی اس کی توقع کے مطابق اوپر تک نہیں آ پایا لیکن خط پورا کرنے کے بعد جوڈی کا ارادہ ایک بار پھر تبدیل ہو گیا اور اس نے خط ضائع کر دیا۔ اس کے بعد ایک روز جب جوڈی، سکاٹی کے ساتھ باہر جانے کے لیے تیار ہوتی ہے تو نہ صرف میڈلین کا سا لباس پہنتی ہے بلکہ وہ ہار بھی پہنتی ہے جو اس نے میڈلین کے روپ میں اس روز پہنا ہوا تھا جب سکاٹی اسے سینٹ یوان باؤٹیسٹا لے کر گیا تھا۔ اس ہار کو دیکھ کر سکاٹی کو شک ہو جاتا ہے اور وہ اپارٹمنٹ سے نکل کر گاڑی کو سینٹ یوان باؤٹیسٹا چرچ کی جانب موڑ دیتا ہے۔ پہلے تو جوڈی اسے آرام سے روکنے کی کوشش کرتی ہے لیکن جب وہ اس کی ایک نہیں سنتا۔ سکاٹی اسے ایک بار پھر انہیں سیڑھیوں پر لے جاتا ہے اور اسے اپنے ساتھ اوپر چڑھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جب دونوں اوپر پہنچتے ہیں تو جوڈی پر شدید خوف طاری ہو جاتا ہے وہ سکاٹی سے لپٹ جاتی ہے لیکن جیسے ہی وہ سکاٹی سے لپٹتی ہے اسے پیچھے ایک راہبہ کھڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور اسے گمان گزرتا ہے کہ وہ میڈلین کی روح ہے۔ جوڈی خوف کے مارے سکاٹی سے الگ ہو کر تیزی سے پیچھے ہٹتی ہے اور لڑھک کر اسی طرح مینار سے نیچے گر جاتی ہے جیسے میڈلین کی لاش پھینکی گئی تھی۔ اس طرح ایلسٹر کا راز کھل جاتا ہے۔ جوڈی کی موت واقع ہو جاتی ہے اور سکاٹی ایک بار پھر اکیلا رہ جاتا ہے لیکن اب اس کا ایکرفوبیا ختم ہو چکا ہے۔ اس کے اکیلے پن کے لیے فلم میں پہلے ہی اشارہ دیا جا چکا ہے کہ میجی ووڈ نے اس کی بے رخی کے باوجود کسی اور مرد کو نہیں اپنایا اور ہر مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا ہے۔ کیا ورٹیگو کو اس کی یہ کہانی اہم نہیں بناتی ہے؟ شاید نہیں۔ اہم تو وہ انداز ہے جس میں اُسے پیش کیا اور بنایا گیا ہے۔ فلم میں روشنی، اندھیرا اور کیمرے کا استعمال ہی اسے وہ سٹرکچر اور وہ علامتی معنی دیتے ہیں جو زندگی اور موت کی کشاکش میں صرف ڈر کے ذریعے ہی اجاگر ی ہوتے ہیں اور جن پر جرمن فلسفی نٹشے اور وجودی فلسفی کرکیگور اصرار کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||