376 بدقسمت ہندوستانیوں پر فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1914 کا سال تاریخِ عالم میں پہلی جنگِ عظیم کے آغاز کا سال ہے لیکن برطانوی ہند کی تاریخ میں یہ سال ایک اور اہمیت بھی رکھتا ہے جسے اگرچہ گذشتہ بانوے برس کے دوران بہت حد تک فراموش کر دیا گیا تھا لیکن کینیڈا میں آباد ایک ہندوستانی باشندے علی کاظمی نے تاریخ کے اس فراموش کردہ ورق سے گرد جھاڑی ہے تو دنیا بھر کی نگاہیں اس پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ یہ ایک بد قسمت جہاز کی کہانی ہے جس کا نام تھا ’ کوما گاتا مارو‘۔ اس جہاز پر 376 مسافر تھے جو ہندوستان کے باشندے تھے اور سلطنتِ برطانیہ میں چونکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر کوئی قانونی پابندی نہیں تھی اس لئے یہ مسافر طویل سفر طے کر کے ایک نئی سر زمین پر پہنچے تھے۔ کینیڈا کی سرزمین! یہ الگ بات ہے کہ کینیڈا کے ساحل پر پہنچتے ہی جہاز کو بندرگاہ سے تین میل دور سمندر میں روک دیا گیا تا کہ ہندوستانی باشندے کینیڈا میں داخل نہ ہو سکیں ۔ جہاز کے کپتان نے ساحل سے قانونی امداد منگائی اور حکام کے خلاف مقدمہ کھڑا کر دیا، لیکن اُس کے وکیل کو نسل پرستوں کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ یاد رہے کہ کینیڈا میں اس وقت ’وائٹ کینیڈا‘ تحریک چل رہی تھی یعنی کینیڈا کو صرف گوری نسل کے لوگوں کا وطن قرار دیا جا رہا تھا اور وہاں سینکڑوں کی تعداد میں ہندوستانیوں کی آمد کو کچھ نسل پرست گورے سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ جوں جوں مقدمہ طول کھنچتا گیا جہاز پر موجود مسافروں کی بے چینی بڑھتی گئی۔ آخر جہاز پر کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا اور نوبت فاقے، بیماری اور موت تک آن پہنچی۔ برداشت کی آخری حد تک، کینیڈا میں داخلے کی جنگ لڑنے کے بعد یہ جہاز ناکام و نامراد واپس ہندوستان کی جانب روانہ ہو گیا لیکن بصد مشکل جب اس نے ہندوستان کے ساحل تک رسائی حاصل کی تو انگریز سرکار نے اُن مسافروں کو پنجاب کے مفرور باغی سمجھ کر اُن پر گولی چلا دی۔ حکومت کا خیال تھا کہ یہ لوگ’غدر پارٹی‘ سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ اُن دنوں شمالی امریکہ میں سرگرمِ عمل تھی۔ حکومتِ کینیڈا نے اپنی تاریخ کے اس شرم ناک باب پر کبھی زیادہ بات نہیں کی اور 1914 کا یہ واقعہ نئی نسل کے لئے ایک فراموش کردہ کہانی کا درجہ رکھتا ہے لیکن ہندوستان سے آئے ہوئے طالبِ علم علی کاظمی کو برسوں سے اس بارے میں تجسس تھا کہ جہاز والوں پہ کیا بیتی ہو گی اور کینیڈا جیسا جمہوری معاشرہ اُن مسافروں کے حق میں سراپا احتجاج کیوں نہیں بن گیا تھا۔ برسوں کی تحقیق کے بعد علی کاظمی نے کئی نادر و نایاب دستاویزات اکٹھی کیں اور جہاز کے عملے اور مسافروں کی تصاویر تک بھی اُن کی رسائی ہوگئی لیکن اس وقت علی کاظمی کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب انھیں پرانی فلموں کا سٹاک کھنگاتے ہوئے ’ کوما گا تا مارو‘ نامی اس جہاز کی ایک کٹی پھٹی فلم کے چند ٹکڑے بھی مل گئے۔ بس وہی ایک لمحہ تھا جب علی کاظمی نے فیصلہ کیا کہ وہ جہاز کے اس واقعے کو پردۂ سیمیں پر پیش کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے’ Continuous Journey ‘
گذشتہ دنوں اس معرکہ آراء فلم کی نمائش پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی ہوئی اور اس اہتمام سے کہ فلم ساز خود بھی ہر شو میں موجود تھے اور حاضرین کے سوالوں کے جواب دیتے تھے۔ لاہور میں ان کی یہ فلم پہلے تو کارا فلم میلے میں دکھائی گئی اور جب اس کی شہرت علمی اور ادبی حلقوں تک پہنچی تو چترکار نامی ادارے نےمقامی دانشوروں کے لئے اس کا ایک خصوصی شو منعقد کیا جس میں شہر کے بیشتر عمائدینِ علم و ہنر موجود تھے۔ نوجوان حاضرین بار بار علی کاظمی سے یہ سوال کر رہے تھے کہ کیا آج بھی کینیڈا میں پچھلی صدی والا نسلی تعصب موجود ہے جس کے جواب میں فلم ساز نے وضاحت کی کہ اب حالات بالکل تبدیل ہو چکے ہیں اور بعض دیگر مغربی ملکوں کے برعکس کینیڈا میں تارکینِ وطن کے ساتھ انتہائی دوستانہ اور برادرانہ برتاؤ کیا جاتا ہے۔ ’ کوما گا تا مارو‘ نامی جہاز پر اپنی تازہ ترین فلم کو علی کاظمی اب ہندوستانی زبان میں بھی تیار کر رہے ہیں اور بعد میں وہ اس کا ایک پنجابی روپ بھی تیار کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جہاز میں سوار مسافروں کا تعلق صوبہء پنجاب ہی سے تھا۔ فلم ساز کا کہنا ہے کہ جہاز کے اس پراجیکٹ سے فارغ ہونے کے بعد وہ تقسیمِ ہند کے موضوع پر ایک مفّصل اور ہمہ گیر فلم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ علی کاظمی دہلی سے بی ۔ ایس ۔ سی کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے کینیڈا چلے گئے تھے اور بعد میں وہیں بس گئے تھے۔ انھیں فوٹوگرافی کا بچپن ہی سے شوق تھا اور نوجوانی ہی میں انھوں نے فوٹوگرافی کے کئی انعامات جیت لئے تھے۔ کینیڈا میں انہوں نے فلم سازی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی اور بعد میں کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ کے ٹی وی اداروں کے لئے بہت سی فلمیں بنائیں۔ اُن کی انعام یافتہ دستاویزی فلمیں’سونگ آف تبت‘، ’بالی وڈ باؤنڈ‘، ’جرنی آف لزرا مارٹن‘ اور ’ کمنگ ٹو ایکسٹریمز‘ بی بی سی، سی۔بی۔ایس، چینل فور اور ڈسکوری چینل سے دکھائی جا چکی ہیں۔ | اسی بارے میں فرانسیسی فلم سے ہندوؤں کی تضحیک21 February, 2006 | فن فنکار بھارت: چرچ اور بالی وڈ کا ساتھ16 February, 2006 | فن فنکار بنگلور کا ننھا ہدایتکار25 January, 2006 | فن فنکار کراچی میں پانچواں کارا فلم فیسٹیول29 November, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||