فلم بنانے سے بچنے پر تاریخ ساز فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیڈرو فلینی کی اس فلم کو ان کی سوانحی یا آٹو بائی گرافیکل فلم کہا جاتا ہے اور یہ فلم ایک فلم ڈائریکٹر کی ادھیڑ عمری کے ایسے خوف و خدشات کے بارے میں ہے جن میں وہ ایک اور فلم بنانے کی مجبوری سے بچنا چاہتا ہے۔ اٹلی میں 2/1 8 کے نام سے جاری ہونے والی فلینی کی اس فلم کو باقی دنیا میں ’ایٹ اینڈ ہاف‘ یا ’ساڑھے آٹھ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ فلم کی کہانی کے مطابق ڈائریکٹر کی ایک فلم مکمل ہو کر جاری ہو چکی ہے۔ سب کو جاری ہونے والی فلم کی کامیابی کا ہی یقین نہیں ہے بلکہ اُس فلم کی کامیابی کا بھی یقین ہے جس کے بارے میں اس نے ابھی درحقیقت طے بھی نہیں کیا کہ وہ فلم کیا ہو گی لیکن ابھی سے سارے ادارکار اور اداکارائیں، سرمایہ کار اور دوسرے تمام لوگ اس کے گرد منڈلا رہے ہیں کہ وہ اپنی نئی فلم میں انہیں ضرور شامل کرے۔ وہ یونہی ایک فلم کا ارادہ بھی ظاہر کر چکا ہے جو اس کے خیال میں سائنس فکشن ٹائپ کی اور ایک راکٹ داغے جانے کے بارے میں ہو گی۔ اس حوالے سے اس نے اپنے سیٹ ڈیزائنر کو کچھ اشارے بھی دے دیے ہیں اور ایک ایسے سیٹ کی تیاری بھی شروع ہو چکی ہے جو راکٹ لانچنگ کے بارے میں ہے۔
لیکن داخلی طور پر وہ بے چین ہے اور اس کے اندر یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ اس کی عمر زیادہ ہو چکی ہے اور اب اس کی تخلیقی توانائی اور قوت اس کا اس طرح ساتھ نہیں دے گی جیسے ماضی میں دیتی رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کی یہ فلم اس کے زوال کے آغاز کا پہلا اشارہ بن جائے۔ فیڈرو فلینی نے فلم میں اپنے لیے اس کردار کا نام گوئیڈو اسیلمی چنا ہے۔ اسے جگر کی خرابی کی شکایت بھی ہے جس کا علاج کرانے کے لیے وہ انتہائی فیشن ایبل قسم کے ایسے ہسپتال میں آیا ہوا ہے جو صرف دولت مندوں کے لیے مخصوص ہے اور جس میں صرف ڈاکٹر اور نرسیں ہی نہیں دنیا کی ہر چیز دستیاب ہے۔ یہ صحت افزا مقام گندھک کے چشموں والے علاقے میں واقع ہے۔ فلم کا آغاز اس منظر سے ہوتا ہے کہ ایک شخص ٹریفک کے ہجوم میں پھنسی ہوئی ایک کار سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس سے نہ تو دروازہ کھل رہا ہے اور نہ ہی شیشے، ذہن میں رینگتی ہولناک کھردری آوازوں کے درمیان وہ آدمی سامنے کے شیشے سے باہر نکل آتا ہے اور اس طرح کہ ہر چیز اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ سب لوگ حیرت سے کار کے بونٹ پر کھڑے اس آدمی کو دیکھتے ہیں اور ان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ بلند ہوتا ہوا بادلوں کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ گوئیڈو اسیلمی کا خواب ہے جو وہ ہسپتال میں دیکھ رہا ہے۔ اس سے اگلے منظر میں ایک آدمی گوئیڈو کے پاؤں میں بندھے رسے کے ذریعے اسے نیچےلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی دوران ایک آدمی گھوڑا دوڑاتا ہوا آتا ہے اور گوئیڈو کو نیچے آنے کے لیے کہتا ہے۔ یہ سرمایہ کار ہے جو گوئیڈو کی کئی فلموں میں سرمایہ لگا چکا ہے اور اس امید میں ہے کہ گوئیڈو اب اسے ایک ایسی فلم میں سرمایہ کاری کا موقع دے گا جس سے وہ نام بھی کمائے گا اور دولت بھی۔ اس کے بعد فلینی ہمیں گوئیڈو کے ایک شریکِ کار کے ذریعے سے بتاتا ہے کہ اس نے اب تک فلم کے لیے جو کہانی بنائی اس میں کتنے کمزوریاں ہیں۔ یہ تخلیقی طاقت کے ختم ہونے کا اشارہ ہے۔ جو میڈیکل چیک اپ کے دوران دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گوئیڈو باتھ روم جاتا ہے جہاں اس میں عمر بڑھنے کے خوف کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ وہ آئینہ دیکھتا ہے اس میں اپنے چہرے پر جھریاں۔
کئی لوگ اس کے پیچھے یہاں بھی آ پہنچے ہیں جن میں اس کا ایک دوست ماریو میزا بوٹو بھی ہے جس کے آنے کا مقصد اپنی بیٹی کی اُس دوست سے گوئیڈو کو ملانا ہے جس سے وہ شادی کرنے والا ہے۔ امریکی گلوریا مورن فلسفے کی طالبہ ہے اور اداکارہ بننا چاہتی ہے۔ گوئیڈو اس صورتِ حال سے تنگ آ جاتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ وہ فلم کمپنی سے علیحدہ ہو جائے لیکن جب وہ علیحدگی کے لیے استعفیٰ لکھ رہا ہوتا ہے اس کی کمپنی کے لوگ اس کے پاس آتے ہیں اور اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہیں انہیں باتوں کے دوران گوئیڈو کو یہ خیال آجاتا ہے کہ اسے نئی فلم، اسی موضوع یعنی فلم بنانے سے بچنے اور خود اپنے آپ پر بنانی چاہیے اور اس فلم میں اس کا احساس بھی دلایا جانا چاہیے کہ بظاہر کامیاب آدمی کو کیسے خوف و خدشات کا سامنا ہوتا ہے۔ فلم میں کم و بیش تمام کرداروں کے ناموں کے ساتھ ان کے اصل ناموں کےحصے حصے بھی لگے ہوئے ہیں اور زیادہ کردار خواتین ہی کے ہیں۔ مثلاً کلاڈیا، جو فلم میں ایک مشہور شادی شدہ اداکارہ، گوئیڈو کی ہمہ وقت داشتہ ہے اور ایک بار پھر فلم میں مرکزی کردار حاصل کرنا چاہتی ہے اصل میں کلاڈیا کارڈینل ہیں۔ اس طرح گوئیڈو کے دوست ماریو بوٹو کا اصل نام، ماریو پیپو ہے اور گوئیڈو کی بیوی لوئیز کی دوست روسیلا کا اصل نام بھی روسیلا فلیک ہے۔ اس کے علاوہ فلم میں عورتوں کے اتنے کردار اور ٹائپ دکھائے گئے ہیں کہ کسی ایک ٹائپ کو فلینی کے تصور سے مخصوص نہیں کیا جا سکتا۔ غالباً فلینی یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ عورت کی نسائیت بھی ہمہ جہتی ہوتی ہے۔ ایک جملے میں اگرچہ یہ فلم، فلم بنانے سے بچنے کے بارے میں ہے لیکن اس میں فلینی نے ایک باکمال فکشن رائٹر کی طرح ایک منظر کو اس طرح اسٹیبلش کیا ہے کہ کہیں غیر ضروری تفصیل نہیں آنے دی یہی وجہ ہے فلم کا خلاصہ جتنا مختصر کیا جائے گا فلم کے اتنے ہی پہلو اوجھل ہو جائیں گے۔ یہ فلم 1963 میں آئی اور یہ کوئی عام سال نہیں تھا۔ اس سال کاروباری کامیابی حاصل کرنےوالی فلموں میں: ہاؤ دی ویسٹ ون، قلوپطرہ، دی لانگسٹ ڈے، لارنس آف عریبیا، ارمالا ڈیوس، میوٹنی آف دی بونٹی، ٹو کل اے موکنگ برڈ اور وی آئی پیز شامل تھیں تو دوسرے طرف: جان برگس کی دی گریٹ سکیپ، الفرڈ ہچکاک کی دی برڈز، ایلیا کزان کی امریکہ امریکہ، اور بوشیدو سمارائی، فرام رشیا ود لوو، اٹ از میڈ میڈ میڈ ورلڈ اور دی ماسک جیسی فلمیں بھی آئی تھیں۔ اس سال کا آسکر ٹونی رچرڈسن کی ’ٹام جانز‘ کو دیا گیا تھا۔ لیکن تاریخ کا فیصلہ آہستہ آہستہ فیلینی کی ایٹ اینڈ ہاف کے حق میں ہوتا گیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس فلم میں جس طرح ایبسٹریکٹ اینڈ ریئلٹی یعنی تجرید اور حقیقت کو ملا کر دکھایا گیا ہے شاید کسی اور فلم میں نہیں دکھایا گیا۔ اس کے سوا منافقت یعنی اصل اور دکھوے کے تضاد کو اجاگر کیا گیا ہے۔ گوئیڈو اور اس کے بیوی لوئیز اور گوئیڈو کے سکرین رائٹر دوست کے سوا تمام کردار منافقت کے شکار ہیں لیکن انہیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔
ایک سو اڑتیس منٹ کی یہ فلم انیس سو تریسٹھ کے معاشرتی اور عالمی ثقافتی تناظر میں نہیں معلوم کیسے دیکھی گئی ہوگی لیکن آج بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ فلم ان لوگوں کے بارے میں ہے جو تینتالیس سال پہلے ہوتے تھے۔ جہاں تک میں معلومات حاصل کر سکا ہوں مالی اعتبار سے ایٹ اینڈ ہاف نے کبھی بھی کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کی لیکن عزت اور اثرانگیزی کے اعتبار سے یہ فلم سو سال کی سو بہترین فلموں میں اب چوتھے اور پانچویں نمبر پر شمار کی جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں شکسپئر کا تاریخ ساز فیسٹیول شروع 23 April, 2006 | فن فنکار فلم فیسٹیول کارٹون تنازعہ کا شکار24 March, 2006 | فن فنکار کراچی میں پانچواں کارا فلم فیسٹیول29 November, 2005 | فن فنکار منگل پانڈے لوکارنوفیسٹیول میں 14 July, 2005 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||