وہ فلم جسے تاریخ نے بڑا بنایا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک صفحے سے بھی کم کے سکرپٹ سے بڑے بڑے ہجوموں اور لڑائی کے منظروں والے پانچ حصوں پر مشتمل ’بیٹل شپ پوٹمکن‘ 27 سالہ سرگئی ایزنسٹین نے 1925 میں اس لیے مکمل کی کہ فلم 1905 کے پہلے ناکام سوویت انقلاب کی بیسویں سالگرہ کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تقریبات کا حصہ بن سکے اور سوویت عوام کو ماضی میں لوگوں کی جدو جہد اور کوششوں کی یاد دلا سکے۔ یہ پانچ حصے، مین میگوٹس، ڈرامہ آن دی کوارٹر ڈیک، این اپیل فرام دی ڈیڈ، دی اوڈیسا سٹیپ اور میٹنگ دی سکواڈرن کے نام سے بنائے گئے ہیں۔ فلم کا پہلا ہی منظر انتہائی بلند ہوتی ہوئی سمندری لہریں ہیں، جن کے درمیان انتہائی سادگی سے فلم کے بارے میں تفصیلات سامنے آتی ہیں۔ جن کے بعد ایک بحری جہاز دکھائی دیتا ہے اور پھر اس کا عملہ۔ یہ رات کا وقت ہے اور ملاح چھولداریوں میں سو رہے ہیں۔ ایک ملاح ان میں سے ہر ایک کے پاس جا رہا ہے اور اس کے انداز سے لگتا ہے کہ اسے اپنے سب ساتھیوں کی فکر ہے۔ یہ واکولنچک ہے جو اگلے منظر میں ملاحوں کو دیے جانے والے گوشت کے سڑ جانے کا مسئلہ اٹھاتا ہے۔ ملاح گوشت کھانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس مرحلے پر جہاز کےڈاکٹر کو بلایا جاتا ہے جسے وہ کیڑے بھی دکھائی نہیں دیتے جنہیں کیمرہ اس کے چشمے کے شیشوں کے ذریعے پوری سکرین پر پھیلاتا ہے۔ اس پر واکولنچک ڈاکٹر سے سوال کرتا ہے کہ اگر یہ کیڑے نہیں ہیں تو گوشت ادھر اُدھر چل کیسے رہا ہے؟
حالات اور بگڑتے ہیں اور جہاز پر بغاوت ہو جاتی ہے۔ جہاز کا ایک سینئر افسر واکولنچک کو گولی کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ یہ واقعات اس وقت پیش آ رہے ہیں جب جہاز اوڈیسے کے ساحل کے قریب لنگر انداز ہونے والا ہے۔ واکولنچک کی موت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ملاح کئی افسروں کوسمندر میں پھینک دیتے ہیں۔ واکولنچک کے لاش کو لے جا کر اوڈیسا کے ساحل پر رکھ دیا جاتا ہے۔ جہاز پر بغاوت، اس کی وجہ اور اس کے بعد واکولنچک کے کردار اور مارے جانے کی کہانی اوڈیسے میں پھیل جاتی ہے اور مرد عورتیں بچے ہر طرف سے نکل نکل کر ملاح اس صورتِ حال سے اور مشتعل ہو جاتے ہیں اور جہاز پر قبضہ کر کے فتح کا پرچم لہراتے ہیں اور گولی کا جواب گولی سے دینے کا عزم کرتے ہیں۔
بظاہر ہر ڈرامائی تجسس سے خالی اس کہانی کو ایزنسٹین نے اس طرح فلمایا ہے کہ وہ اب تک فلم بنانے والوں راہنما بنی ہوئی ہے۔ اس فلم کی ایڈیٹنگ اور پکچرائزیشن کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ تفصیل کو کس طرح وقت ضائع کیے بغیر بیان کیا جا سکتا ہے اور کیسے جلد از جلد اصل موضوع پر آنا چاہیے۔ مثلاً اگر یہ سمجھا جائے کہ فلم کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ زار ظالم ہیں، لوگ ان کا شکار ہیں لیکن زار صرف اس بات سے ڈرتے ہیں کہ لوگ اکٹھے نہ ہوں تو، ایزنسٹین نے فلم کا بڑا حصہ اسی پر صرف کیا ہے۔ لیکن جب ملاح مشتعل ہو کر افسروں کو جہاز سے پھینک رہے ہیں تو ایک ایک افسر کا پھینکنا نہیں دکھایا گیا پہلے پکڑ دھکڑ اور افسروں کا بھاگنا دکھایا گیا ہے اور اس کے بعد پانی میں گرنے کا منظر اور اس دوران ڈاکٹر کو بھی سمندر میں پھینکا جاتا ہے لیکن اسے صرف اس کے چشمے کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔ اس چشمے کو آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے کیونکہ گوشت میں کیڑوں کو دکھاتے ہوئے اس چشمے کو اچھی طرح اسٹیبلش کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح اوڈیسے کی سیڑھیوں پر لوگوں کی بھگدڑ، زار فوجیوں کی بندوقیں، اس کے بعد مارچ کرتے ہوئے ان کے جوتے۔ ایک بچہ گاڑی کے لڑھکنے کا منظر، ایک بچے کا زار فوجیوں کے سامنے کیا جانا۔ اور لوگوں کے آنے کے مناظر میں کیمرہ اس طرح استعمال کیا گیا ہے کہ مکالموں کر ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ ان مناظر کو اب تک سینما کی تاریخ میں فلمائی جانے والی بہترین سیکونس قرار دیا جاتا ہے۔ تاریخ جو 1925 سے پہلے بھی تھی اور اب بھی ہمارے ساتھ ساتھ ہے۔ فلم 1925 میں تیار تو ہو گئی لیکن اس کی نمائش سال تک نہ ہو سکی۔ 1926 میں اس کی نمائش ہوئی تو چار ہفتوں بعد اسے اتار دیا گیا ان چار ہفتوں کے دوران بھی اس کی نمائش فلم سے منسلک لوگوں اور ٹریڈ یونین کے عہدے داروں کے لیے ہی مخصوص تھی۔ شاید سوویت کمیونسٹ پارٹی کی نظر میں یہ فلم انقلابی جذبات ان کی توقعات کے مطابق پیش نہیں کر سکی ہو گی۔ سوویت یونین میں 1930 اور اس کے بعد کا زمانہ مغربی معیارات کے مطابق کڑی پابندیوں کا تھا اور انہیں اظہار کی آزادی حاصل نہیں تھی لیکن اسی زمانے میں ایزنسٹین کو مغرب میں انہی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا جو مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق سوویت یونین میں فنونِ لطیفہ سے منسلک لوگوں درپیش تھیں۔
انگلینڈ اور امریکہ میں اس فلم کی نمائش کو ’تخریب کارانہ‘ کہہ کر ممنوع قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ ابھی فلموں کے لیے نام نہاد ضابطۂ اخلاق طے کرنے والا Hays Code نہیں آیا تھا لیکن دنوں جگہ فلم کی نمائش کو ناممکن بنا دیا گیا۔امریکہ میں فلم کا پہلا شو اداکارہ گلوریا سوانسن کے فلیٹ پر ہوا تو اس کے لیے سکرین حاصل نہیں ہو سکی اور سکرین کی جگہ گلوریا کے بستر کی چادر استعمال کی گئی۔ ایسے ہی ایک شو کے دوران ایم جی ایم کے ڈیوڈ سیلزنک نے بھی اسے دیکھا اور اور اتنا متاثر ہوا کہ اس نے ایم جی ایم کے مالکان سے کہا کہ فلم کا پرنٹ حاصل کیا جانا چاہیے اور ایم جی ایم کے سب لوگوں کو اسے اس طرح دیکھنا چاہیے جیسے مصوروں کے گروہ روبنز اور رافیل کی مصوری کا مطالعہ کرتے ہیں۔ فلم نے ایزنسٹین کو دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی شہری بنا دیا۔ اس شہرت نے جہاں ایک طرف ایزنسٹین کو تحفظ دیا وہاں انہیں حکام کی آنکھوں کا کانٹا بھی بنا دیا۔ ایزنسٹین اور سوویت حکام کے درمیان اس فلم سے شروع ہونے والا چوہے بلی کا کھیل ان کو موت تک جاری رہا ہے۔ لیکن امریکہ، انگلینڈ اور میکسیکو نے ایزن سٹین کے ساتھ جو سلوک کیا اس سے ان کی شہرت ہی خراب نہیں ہوئی انہیں نروس بریک ڈاؤن سے بھی گزرنا پڑا۔ اس دوران سیلزنک نے کسی طرح ایزنسٹین کا ایک سکرین پلے حاصل کر لیا جو انہوں نے ’ڈریزر امریکن ٹریجڈی‘ پر تیار کیا تھا۔ سیلزنک کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا متحرک کرنے والا سکرپٹ نہیں پڑھا لیکن اس کے باوجود اس کے باوجود اس پر یہ کہہ کر فلم بنانے سے انکار کر دیاگیا کہ ’اس سے خوشگوار ذہن رکھنے والے لاکھوں امریکیوں کے دو گھنٹے خراب ہو جائیں گے‘۔
ایزن سٹین نے بارہا گرفتھ کی فلموں اور خاص طور پر ’ان ٹالرنس‘ سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا ہے لیکن جس طرح انہوں نے اوڈیسا سٹیپس کا سیکونس بنایا ہے وہ کسی اور کا نہیں خود انہی کا انداز ہے۔ میں نے گرفتھ کی ’ان ٹالرنس‘ نہیں دیکھی لیکن گزشتہ ہفتوں کے دوران میں نے ’بیٹل شپ پوٹمکن‘ کئی بار دیکھی ہے اور یوں محسوس کیا ہے کہ میں ایزنسٹین کی تصویر کے سامنے کھڑا ہوں اور میرے دل سے یہ الفاظ نکل رہے ہیں: ’بیٹل شپ پوٹمکن کے اکیاسی سال بعد بھی تم اتنے ہی عظیم ہو جتنے تھے، ایزن سٹین‘۔ |
اسی بارے میں ’فنا‘ کی کشمیریوں میں مقبولیت30 May, 2006 | فن فنکار ہم عامر خان کے ساتھ ہیں: بالی وڈ29 May, 2006 | فن فنکار کینز میلہ: پہلی سعودی فیچر فلم26 May, 2006 | فن فنکار تیری نگریا سے دور26 May, 2006 | فن فنکار معافی نہیں مانگوں گا: عامر خان 25 May, 2006 | فن فنکار عامر کی ’فنا‘ کی نمائش کھٹائی میں 23 May, 2006 | فن فنکار جیجا سے رومانس نہیں!22 May, 2006 | فن فنکار ’ڈا ونچی کوڈ‘ سینسر سے پاس18 May, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||