ہم عامر خان کے ساتھ ہیں: بالی وڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’عامر خان نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل صحیح ہے اور پوری فلم انڈسٹری ان کے ساتھ ہے‘، ان خیالات کا اظہار پیر کی شام فلم اینڈ ٹیلی ویژن پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا، موشن پکچرز اینڈ ٹیلی ویژن انڈسٹری ، بالی وڈ ستارے اور جونیئر آرٹسٹوں کی یونین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا کے صدر امیت کھنہ کا کہنا تھا ’ذرائع ابلاغ میں خبریں آرہی تھیں کہ فلم انڈسٹری کی جانب سے کوئی مشترکہ رد عمل ظاہر نہیں کیا جارہا ہے اس لیئے آج ہم یہاں آئے ہیں ویسے ہم سب شروع سے عامر کے ساتھ تھے۔ عامر نے نرمدا ڈیم سے منسلک بیان، دستور ہند میں اظہار کی آزادی کے حق کے تحت دیا۔ انہوں نے ریاست گجرات یا وہاں کے عوام کے خلاف کچھ نہیں کہا وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ صرف اجڑے لوگوں کی آباد کاری چاہتے ہیں اور یہی سب انڈیا کی عدالت عالیہ نے بھی کہا مگر اس کے باوجود عامر کی فلم ’فنا‘ پر پابندی عائد کرنا کہاں تک جائز ہے ؟‘
انہوں نے مزید کہا ’اس فلم انڈسٹری میں ایک فلم کے ساتھ کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی جڑی ہے۔ انڈیا کی فلم انڈسٹری پوری دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بناتی ہے اور اس انڈسٹری سے براہ راست دس لاکھ افراد اور بالواسطہ ایک کروڑ پچاس لاکھ لوگوں کی روزی روٹی جڑی ہے ۔فلم پر پابندی سے ان سب کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے‘۔ امیت کھنہ نے تشویش کا اظہار کیا کہ اب یہ آئے دن کا معمول بن رہا ہے کہ سینسر بورڈ سے فلموں کے منظور ہونے کے باوجود لوگ کبھی مذہب ، کبھی سماجی پابندیوں اور ثقافت کی دہائی دیتے ہوئے فلموں پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں جو غلط ہے۔ انہیں خیالات کا اظہار موشن پکچرز اینڈ ٹیلی ویژن ایسوسی ایشن کے صدر پہلاج نہلانی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر ایک ہفتہ یعنی جمعہ تک گجرات میں فلم فنا کی نمائش نہیں کی جاتی تو پھر فلم انڈسٹری ایک لائحہ عمل تیار کرے گی جو شاید گجرات حکومت کے خلاف ہو‘۔
فلم فنا کے فلمساز یش چوپڑہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے گجرات کے وزیر اعلٰی نریندر مودی سے فلم کی نمائش کے سلسلہ میں ملاقات کی تھی اور مودی نے انہیں یقین دلایا تھا کہ فلم فنا کی نمائش میں اگر رکاوٹ پیدا کی گئی تو وہ پولیس تحفظ فراہم کرائیں گے لیکن جب فلم کی نمائش ہی نہیں ہوئی تو پولس تحفظ کیسے ملتا ؟‘ یش چوپڑہ سمیت فلم انڈسٹری کی کوئی بھی شخصیت کھل کر گجرات حکومت کے خلاف کہنے کو تیار نہیں تھی۔ بالی وڈ اسٹار انیل کپور نے الٹا ذرائع ابلاغ سے کہا کہ ’آپ اپنے اندر جھانک کو پوچھیئے کہ جو ہورہا ہے وہ صحیح ہے یا غلط ہے‘۔ البتہ انہوں نے ایک بات صاف لفظوں میں کہہ دی کہ ’حکومت گجرات اظہار کی آزادی اور جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے‘۔ شومین سبھاش گھئی نے افسوس ظاہر کیا کہ ’ایک معمولی بات کو اتنا بڑا سیاسی وجوہات کی بنا پر بنایا جارہا ہے ۔لوگ اپنی سیاسی دکان چمکانے کی کوشش کررہے ہیں جسے اب روکا جانا چاہیئے‘۔
انوپم کھیر کا کہنا تھا کہ عامر خان جیسا شخص جو کہتا ہے وہ سوچ سمجھ کر کہتا ہے اور انہوں نے جو کچھ کہا بالکل صحیح کہا اس پر سیاست کرنا افسوسناک امر ہے۔ اداکار رضا مراد نے عامر کو ایک باہمت اور ایماندار شخص کہا ’جس نے گجرات کے زلزلہ میں پچیس لاکھ روپے دیئے تھے اور اب بھی انہوں نے نرمدا ڈیم سے متاثر ہونے والی ریاستوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے چیک دئے ہیں جو شاید بہت کم لوگ کرتے ہیں‘۔ اس پریس کانفرنس میں موجود فلم انڈسٹری سے منسلک ہر شخصیت نے فلموں پر آئے دن پابندی اور اس کے خلاف مظاہروں پر تشویش ظاہر کی ۔یہاں فلم ’ڈی ونچی کوڈ‘ کی نمائش پر پنجاب میں پابندی پر بھی افسوس ظاہر کیا گیا ۔امیت کھنہ نے بتایا کہ مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات پریہ رنجن داس منشی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ فلم فنا کی نمائش جلد ہی گجرات میں ہوگی اور فلموں پر اس طرح پابندی کو ختم کرنے کے لیئے وہ ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں ۔
عامر خان کی فلم فنا سوائے ریاست گجرات کے گزشتہ جمعہ کو پورے ملک میں نمائش کے لئے پیش کر دی گئی۔ سینما مالکان کو مبینہ طور پر فون پر دھمکی بھی دی گئی تھی کہ وہ فلم کی نمائش کریں گے تو ان کے سینما گھر جلا دیئے جائیں گے۔ وزیر اعلٰی نریندر مودی کی سیاسی پارٹی بی جے پی کے ورکرز گجرات میں مظاہرے کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اب تک وہاں فلم نہیں لگائی گئی۔ ہدایت کار کنال کوہلی کا کہنا تھا کہ ’گجرات سے نوجوان ممبئی میں فلم فنا دیکھنے پہنچ رہے ہیں ۔ فلم فنا کی جعلی سی ڈی ممبئی اور گجرات پہنچ چکی ہے اور فلم انڈسٹری کو اس سے کروڑوں کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے‘۔ | اسی بارے میں عامر کی ’فنا‘ کی نمائش کھٹائی میں 23 May, 2006 | فن فنکار معافی نہیں مانگوں گا: عامر خان 25 May, 2006 | فن فنکار ’پاکستان میں فلم بنانا چاہتا ہوں‘10 May, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||