کینز میلہ: پہلی سعودی فیچر فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینز کے فلمی میلے میں ریلیز ہونے والی فلموں میں ایک سعودی فلم بھی شامل ہے۔ اس فلم کو بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ تاریخ کی پہلی سعودی فیچر فلم ہے تاہم اس فلم کی شوٹنگ دبئی میں کی گئی ہے۔ ’کیف الحال؟‘ نامی فلم میں پچیس سالہ سعودی اداکارہ ہند محمد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ فلم کی پروڈکشن کمپنی کے ایمن حلوانی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب میں فلم بنانے اور دیکھنے کا کلچر متعارف کیا جائے۔ سعودی عرب میں عوامی سینما گھروں اور تھیٹروں پر پابندی ہے اور وہاں کی فلمی صنعت ڈاکیومنٹری اور شارٹ فلموں تک محدود ہے۔ ایمن حلوانی کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں فلموں کی کامیابی کی بڑی گنجائش ہے ’یہ ایک بہت بڑی مارکیٹ ہو سکتی ہے۔ یہاں پیسہ بہت ہے لیکن ثقافتی سطح پر سعودی عرب کو فلموں سے کچھ مسئلے ہیں لیکن ہمارا خیال ہے کہ اس صورتحال کو بدلا جا سکتا ہے۔‘ ’کیف الحال‘ کی کہانی سعودی عرب میں طے پاتی ہے لیکن فلم کو دبئی میں بنایا گیا تھا کیونکہ سعودی عرب میں تکنیکی سہولتیں اور ماہرین نہیں ہیں۔ ۔ ایمن حلوانی کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے جس کا خاندان اس سے کہیں زیادہ قدامت پسند ہے۔ ’ہند نے یہ کردار ادا کر کے بہت ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ریاض میں بہت کم اداکارائیں یہ کرتیں۔‘ ہند محمد اب تک ریڈیو پر اپنے کام کے لیئے جانی جاتی ہیں۔ ایمن حلوانی ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’شائد یہ سعودی عرب کی پہلی سپر سٹار ثابت ہوں۔‘ ’کیف الحال؟‘ کو بنانے والی کمپنی کے مالک سعودی عرب کے شہزادہ ولید بن طلال ہیں۔ یہ کمپنی چاہتی ہے کہ سعودی عرب میں فلمی صنعت قائم ہو تاکہ وہاں اس صنعت کا پورا تکنیکی ڈھانچہ بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ فلموں میں سعودیوں کی زندگی اور مسائل کی عکاسی ہو سکے گی اور سعودی معاشرے میں سینما میں فلم دیکھنے کی روایت شروع کی جا سکے گی۔ |
اسی بارے میں انڈین فلموں کی نمائش کی دوڑ22 April, 2006 | فن فنکار برلن میلہ: بوسنیا کی فلم جیت گئی 20 February, 2006 | فن فنکار ایرانی فلمیں لاہور میں08 December, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||