BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 February, 2006, 09:07 GMT 14:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برلن میلہ: بوسنیا کی فلم جیت گئی
بسونیا کی ہدایتکار جسمیلہ زبانچ
بسونیا کی ہدایتکار جسمیلہ زبانچ
معروف بین الاقوامی فلمی میلے برلن فیسٹیول میں بوسنیا کی فلم نے سب سے اہم ایوارڈ جیت لیا ہے۔

ہدایت کار جسمیلہ زبانِچ کی فلم ’گرابیچہ‘ کو ’گولڈن بئیر‘ یعنی فیسٹیول کا سونے کا ایوارڈ ملا ہے۔ اس فلم کا موضوع بوسنیا کی جنگ کے دوران خواتین پر اجتماعی جنسی زیادتی کے بعد کے واقعات کی کہانی ہے۔

اس جنگ کے دوران تقریباً بیس ہزار بوسنیائی خواتین کو اس قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان خواتین کا تعلق مسلمان گھرانوں سے تھا اور ان کے خاندان کے زیادہ تر مرد جنگ کے دوران مارے گئے تھے۔

فلم کی ہدایتکارہ نے اس موقع پر کہا کہ بوسنیا میں جنگ تیرہ سال قبل ختم ہو گئی لیکن اس کے باوجود راڈووان کراڈِچ اور راٹکو مِلاڈُِچ جیسے سربیائی فوجی کمانڈر آج تک آزاد ہیں اور یورپ میں رہتے ہیں حالانکہ ان لوگوں نے اجتماعی زیادتی کی اس پالسی کو عمل میں لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس سے پہلے خیال کیا جا رہا تھا کہ فیسٹیول میں بہترین فلم کا ایوارڈ برطانوی فلم ’دی روڈ ٹو گوانتنامو‘ کو دیا جائے گا۔ یہ ان تین برطانوی مسلمانوں کی کہانی ہے جن کو افغانستان میں گرفتار کیا گیا تھا اور جنہیں گوانتنامو میں کئی سال کی حراست کے بعد رہا کیا گیا۔

مائکل وِنٹربوٹم
مائکل ونٹر بوٹم نے یہ عزاز رحیل احمد، شفیق رسول اور آصف اقبال کے نام کیا جن کی کہانی فلم میں بیان کی ہوئی ہے۔

گوانتناموں پر اس فلم کے ہدایت کاروں مائکل وِنٹر بوٹم اور میٹ وائٹکراس کو بہترین ہدایتکاری کا ایوارڈ دیا گیا۔ مائکل ونٹر بوٹم نے یہ عزاز رحیل احمد، شفیق رسول اور آصف اقبال کے نام کیا جن کی کہانی فلم میں بیان کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ایرانی ’آفسائڈ‘ اور دنمارک اور سویڈن کی مشرکہ پروڈکشن ’اے سوپ‘ کو بھی ایوارڈ دیے گئے۔ ایرانی فلم ایک لڑکی کی کہانی ہے جسے فٹبال میچ دیکھنے جانے کے لیے لڑکے کا بھیس اپنانا پڑتا ہے۔

اس سال کے برلن فلم فیسٹیول میں دکھائی گئی زیادہ تر فلمیں سیاسی موضوعات پر تھیں۔

فلمی میلے کے ججوں کی سربراہ اداکارہ شارلٹ ریمپلنگ نے کہا کہ اس سال کی فلمیں ’آج کی دنیا کے ماحول کی عکاسی کرتی ہیں۔‘

افغانوں پر فلم
افغان جلاوطنوں کی برطانوی زندگی پر فلم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد