برلن میلہ: بوسنیا کی فلم جیت گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معروف بین الاقوامی فلمی میلے برلن فیسٹیول میں بوسنیا کی فلم نے سب سے اہم ایوارڈ جیت لیا ہے۔ ہدایت کار جسمیلہ زبانِچ کی فلم ’گرابیچہ‘ کو ’گولڈن بئیر‘ یعنی فیسٹیول کا سونے کا ایوارڈ ملا ہے۔ اس فلم کا موضوع بوسنیا کی جنگ کے دوران خواتین پر اجتماعی جنسی زیادتی کے بعد کے واقعات کی کہانی ہے۔ اس جنگ کے دوران تقریباً بیس ہزار بوسنیائی خواتین کو اس قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان خواتین کا تعلق مسلمان گھرانوں سے تھا اور ان کے خاندان کے زیادہ تر مرد جنگ کے دوران مارے گئے تھے۔ فلم کی ہدایتکارہ نے اس موقع پر کہا کہ بوسنیا میں جنگ تیرہ سال قبل ختم ہو گئی لیکن اس کے باوجود راڈووان کراڈِچ اور راٹکو مِلاڈُِچ جیسے سربیائی فوجی کمانڈر آج تک آزاد ہیں اور یورپ میں رہتے ہیں حالانکہ ان لوگوں نے اجتماعی زیادتی کی اس پالسی کو عمل میں لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس سے پہلے خیال کیا جا رہا تھا کہ فیسٹیول میں بہترین فلم کا ایوارڈ برطانوی فلم ’دی روڈ ٹو گوانتنامو‘ کو دیا جائے گا۔ یہ ان تین برطانوی مسلمانوں کی کہانی ہے جن کو افغانستان میں گرفتار کیا گیا تھا اور جنہیں گوانتنامو میں کئی سال کی حراست کے بعد رہا کیا گیا۔
گوانتناموں پر اس فلم کے ہدایت کاروں مائکل وِنٹر بوٹم اور میٹ وائٹکراس کو بہترین ہدایتکاری کا ایوارڈ دیا گیا۔ مائکل ونٹر بوٹم نے یہ عزاز رحیل احمد، شفیق رسول اور آصف اقبال کے نام کیا جن کی کہانی فلم میں بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی ’آفسائڈ‘ اور دنمارک اور سویڈن کی مشرکہ پروڈکشن ’اے سوپ‘ کو بھی ایوارڈ دیے گئے۔ ایرانی فلم ایک لڑکی کی کہانی ہے جسے فٹبال میچ دیکھنے جانے کے لیے لڑکے کا بھیس اپنانا پڑتا ہے۔ اس سال کے برلن فلم فیسٹیول میں دکھائی گئی زیادہ تر فلمیں سیاسی موضوعات پر تھیں۔ فلمی میلے کے ججوں کی سربراہ اداکارہ شارلٹ ریمپلنگ نے کہا کہ اس سال کی فلمیں ’آج کی دنیا کے ماحول کی عکاسی کرتی ہیں۔‘ |
اسی بارے میں کراچی میں پانچواں کارا فلم فیسٹیول29 November, 2005 | فن فنکار ’میونخ‘ میں فلسطینیوں کا قتل24 January, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||