BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 May, 2006, 08:09 GMT 13:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈا ونچی کوڈ‘ سینسر سے پاس

فلم کا پوسٹر
فلم کے خلاف سب سے زیادہ مظاہرے برصغیر میں ہو رہے ہیں
بھارت میں فلم’ڈا وِنچی کوڈ‘ کی خصوصی سکریننگ کے بعد حکومت کی طرف سے فلم کی نمائش کی اجازت دے دی گئی ہے۔

بھارتی سینسر بورڈ کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فلم کی تقسیم کار کمپنی ’سونی فلمز‘ کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ فلم کے شروع اور آخر میں واضح طور پر یہ پیغام دیا جائے کہ یہ فلم افسانوی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ابھی سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا گیا اور وہ سونی فلمز کی انتظامیہ کا انتظار کر رہے ہیں۔

کچھ اطلاعات کے مطابق اس فلم کی نمائش جو کہ انیس مئی کو ہونا تھی مؤخر کر دی گئی ہے تاہم سونی فلم کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ڈا ونچی کوڈ کے خلاف کیتھولک عیسائیوں کے سخت احتجاج کے بعد حکومت کے اہلکاروں نے بدھ کے روز فلم کو دیکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ فلم دیکھنے کے بعد ہی اس کی ریلیز سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

بدھ کو دلی میں وزیر اطلاعات و نشریات پریرنجن داس منشی نے دو سو شکایات کی وصولی کے باعث کئی کیتھولک رہنماؤں کی موجودگی میں فلم دیکھی اور کہاکہ اسکی نمائش کا فیصلہ سینسر بورڈ کرے گا جو کہ ملک میں فلموں کی نمائش کی اجازت دینے کا مجاز ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ فلم کی ریلیز کے متعلق حتمی فیصلہ سبھی ا حتجاجی گروپوں سے بات چیت کے بعد کیا جائے گا۔

یہ فلم ڈین براؤن کے ’بیسٹ سیلر‘ ناول پر مبنی ہے اور اس میں یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ حضرت عیسٰی نے میری میگڈیلین سے شادی کرلی تھی اور ان کی نسل آج بھی موجود ہے۔

بھارت میں تقریباً ایک کروڑ اسی لاکھ کیتھولک عیسائی آباد ہیں۔ فلم کے خلاف نمائش سے قبل ہی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کیتھولک سیکیولر فورم کے سربراہ جوزف ڈائس نے اس ضمن میں بھوک ہڑتال بھی کی۔ انہوں نے سینسر بورڈ اور سونی فلمز کے خلاف اعلیٰ عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیا ہے۔ عدالت اس کی سماعت جمعے کو کرے گی۔

ناول ڈاونچی کوڈ
ڈا ونچی کوڈ ناول پہلے ہی بہت سے لوگ پڑھ چکے ہیں

فلم ڈا ونچی کوڈ کو دیکھنے کے لیئے ہندوستان کے فلم بین کافی تجسس اور بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ اکیس سالہ انوراگ کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر لوگوں نے ڈاونچی کتاب پڑھ رکھی ہے۔ فلم پر پابندی کا مطالبہ بالکل غلط ہے۔ فلم ضرور ریلیز ہونی چاہیے‘۔ لیکن ہریش کشواہا کا کہنا ہے کہ ’فلم کے خلاف احتجاج کے پیچھے ضرور کوئی سیاسی چال ہے اور یہ بات لوگوں کو سمجھنی چاہیے‘۔

اٹھارہ سالہ شیتل کاخیال ہے کہ ’فلموں پر پابندی لگانا غلط ہے۔ فلم ریلیز ہونی چاہیے۔ جن لوگوں کو نہیں دیکھنی وہ نہ دیکھیں‘۔ فلم ناقدین یہ مانتے ہیں کہ ڈا ونچی کوڈ میں بعض مناظر قابل اعترا‌‍ض ہیں۔ لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ فلم کے خلاف زیادہ احتجاج برصغیر میں ہورہا ہے۔

بھارت کے عیسائی فرقے کا احتجاج مغربی ملکوں کے کیتھولک عیسائیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں مذہبی معاملات پر جذباتی اظہار میں حالیہ برسوں میں شدت آئی ہے اور لوگوں کی روداری اور مخالف نظریات کو برداشت کرنےکی قوت رفتہ رفتہ کم ہورہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ’رنگ دے بسنتی‘ پیغمبر اسلام کے کارٹون یا پھرڈا ونچی کوڈ کے خلاف پرتشدد مخالفت اسی بڑھتی ہوئی عدم رواداری کی مثالیں ہیں۔

’فلم نہ دیکھیں‘
دی ڈاونچی کوڈ کے خلاف انڈیا میں مظاہرے
قاتل کا انعام
کارٹونسٹ کے قاتل کیلیے 10 لاکھ ڈالر اور گاڑی
’نقصان اپنا ہی ہوا‘
کاروباری طبقہ پرامن مظاہروں کا خواہشمند
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد