’ڈا وِنچی کوڈ‘: احتجاج میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حضرت عیسیٰ کے بارے میں ایک فلم ڈا وِنچی کوڈ پر جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں جاری احتجاج میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تھائی لینڈ کے کرسچئن گروپوں نے سنسر بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی توہین والے مناظر فلم سے نکال دیے جائیں۔ جنوبی کوریا میں ایک احتجاجی گروپ نے فلم کو ممنوع قرار دلانے کے لی عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن عدالت نے درخواست مسترد کردی۔ رومن کیتھولک کی اکثریت والے ملک فلپائن میں نابالغ اسے نہیں دیکھ سکیں گے۔ بھارت میں وزیر اطلاعات نے شکایتوں پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ ’دی ڈا وِنچی کوڈ‘ کی فلم کے خلاف ممبئی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے سخت احتجاج کے بعد حکومت اب فلم کی ریلیز کو مؤخر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ فلم بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں جمعہ انیس مئی کو نمائش کے لیے پیش کی جانی ہے۔ ممبئی کے کیتھولِک عیسائیوں نے اس کی سخت مخالفت کی ہے اور ایک کیتھولک کارکن جوزف ڈیاس نے اعلان کیا ہے کہ فلم پر پابندی لگنے تک وہ بھوک ہڑتال کریں گے۔ عیسائیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک توہین آمیز فلم ہے کیونکہ یہ حضرت عیسی کے بارے میں جھوٹ پر مبنی ہے۔ ثقافتی تنظیم رضی اکیڈمی کے صدر سید نوری نے بھی ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے اور کہا ’اگر حکومت کچھ نہیں کرتی تو ہم خود کوئی طریقہ نکالیں گے تاکہ یہ فلم ہندوستان میں نہ دکھائی جائے ۔ اگر ضرورت ہوئی تو ہم تشدد پر اتر آئیں گے۔‘ |
اسی بارے میں ڈاونچی کوڈ: ’خیال نہیں چرایا‘13 March, 2006 | فن فنکار ڈاونچی کوڈ خیالات ’چرائے گئے‘27 February, 2006 | فن فنکار 'ورجن آن دی راک' عام نمائش پر15 October, 2005 | فن فنکار ہینکس کے آٹوگراف پر حراست30 September, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||