'ورجن آن دی راک' عام نمائش پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور عالم پینٹر لینارڈو ڈونچی کی ایک پینٹنگ جو اس سے پہلے منظر عام پر نہیں آئی اٹلی میں عام نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔ ' ورجن آن دی راک' ( حضرت مریم پتھر پر) نامی یہ پینٹگ ڈونچی اور ان کے شاگرد گیامپٹرینو نے 1495 اور 1497 کے درمیانی عرصے میں بنائی تھی۔ اس پینٹنگ کو میری میگڈالین کی ایک دوسری پورٹریٹ کے ہمراہ ایک عجائب گھر میں نمائش پر رکھا گیا ہے۔ میری میگڈالین کی مذکورہ پورٹریٹ کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ یہ ڈونچی اور ان کے شاگرد نے مشترکہ طور پر تخلیق کی تھی۔تاہم تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ شاید یہ پورٹریٹ مشترکہ تخلیق نہیں ہے بلکہ گیامپٹرینو نے اسے اکیلے بنایا تھا۔ 'ورجن آن دی راک' میں میں حضرت مریم کو حضرت عیسٰی کے ساتھ ایک غار میں سینٹ جان اور سب سے برگزیدہ فرشتے اریل کے ساتھ بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ اس پینٹنگ کے دو دیگر نسخے بھی ہیں جو کہ پیرس کے ایک عجائب گھر اور لندن کی نیشنل گیلری میں رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس سلسے کی تازہ ترین پینٹنگ جو کہ اٹلی میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہے تین سال قبل تک سویٹزرلینڈ میں نجی ملکیت میں تھی۔
پچاس سال سے پس پردہ رہنے والی پورٹریٹ 'میری میگڈالین' کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے ڈونچی اور گیامپٹرینو نے ڈونچی کی موت سے چار سال پہلے یعنی 1515 میں تخلیق کیا تھا۔ آرٹ کی تاریخ کے ایک ماہر کیرل پیڈریٹی کے مطابق یہ پورٹریٹ گیامپٹرینو اکیلے کی تخلیق نہیں ہو سکتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی بات حتمی نہیں ہے اور اس سلسے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'سچ تو یہ ہے کہ لینارڈو ڈونچی کی کوئی پینٹنگ بھی نہیں ہے کہ جس کے لیباٹری میں معائنے کے بعد بھی آپ حتمی طور پر کہہ سکیں کہ یہ ڈونچی کی اپنی بنائی ہوئی ہے۔' |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||