مائیکل اینجلو کے تخلیق کردہ مجسمے کی نمائش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی میں حضرت عیسیٰ کے ایک مجسمے کی نمائش ہو رہی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مشہور آرٹسٹ مائیکل اینجلو کی گمشدہ تخلیق ہے۔ اس 41 سینٹی میٹر لمبے مجسمے کی نمائش اٹلی کے شہر فلورینس کے میوزیم میں ہو گی جو جولائی تک جاری رہے گی۔ ماہرین کے مطابق لائم وڈ پر بنائے گئے اس مجسمے میں انسانی جسم کی ساخت حقیقی اس لئے نظر آتی ہے کیونکہ اسے بنانے کے لئے مائیکل اینجلو نے ایک نوجوان شخص کی لاش کو جسے مرے ہوئے 48 گھنٹے ہو چکے تھے سامنے رکھ کر بنایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ مائیکل اینجلو نے یہ مجسمہ 1495 میں تخلیق کیا تھا اور یہ ایک صلیب کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ برطانیہ کے اخبار گارڈین کے مطابق اس مجسمے کے مائیکل اینجلو ہی کی تخلیق ہونے کے بارے میں تصدیق آرٹ کے ایک ماہر جینکاریو جینٹیلینی نے کی ہے۔ اخبار کے مطابق یہ مجسمہ مختلف لوگوں کی نجی ملکیت میں رہا ہے اور اس سے پہلے اطالوی حکام کی نگاہ اس پر نہیں پڑی۔ اب سے چار ماہ بعد اس مجسمے کو اس کے ایک پرائیویٹ مالک کے حوالے کر دیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||