’دی سکریم‘ ایک بار پھر چوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کی مشہور پینٹنگ ’ دی سکریم‘ ایک بار پھر اپنے خالق ایڈورڈ منچ کے نام پر اوسلو میں قائم میوزیم سے چوری کر لی گئی ہے۔ مصور ایڈورڈ منچ امپریشنسٹ تحریک کے ایک سرکردہ مصور تھے اور انہوں نے یہ تصویر ’دی سکریم‘ یا چیخ، 1893 میں بنائی تھی۔ کارڈبورڈ پر ویکس اور ٹمپرا رنگوں سے بنائی گئی یہ تصویر دنیا کی ان مشہور ترین پینٹنگز میں شامل کی جاتی ہے جن کے بغیر مصوری کی تاریخ مکمل تصور نہ ہو۔ یہ تصویر اوسلو میں منچ ہی کے نام پر قائم کیے گئے میوزیم سے چرائی گئی ہے۔ خود ایڈورڈ منچ بھی دسمبر اٹھارہ سو تہتر میں اوسلو کے قریبی شہر اکیلے میں پیدا ہوئے تھے۔ چیخ کو چرانے کے لیے ڈاکو اسلحے سے لیس ہوکر آئے تھے اور انہوں نے میوزیم کے عملے اور مصوری دیکھنے کے لیے آئے ہوئے لوگوں کو اسلحے کے زور پر دھمکایا اور چیخ اور منچ کی دوسری کئی تصویریں چرا کر لے گئے۔ میوزیم کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب ڈاکو اس واردات کے لیے آئے تھے تو اس وقت میوزیم لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور منتظمین اور محافظوں نے تصویروں سے زیادہ ترجیح لوگوں کی جانوں کو دی۔ ترجمان کے مطابق ڈاکو ایڈورڈ منچ کی ایک اور مشہور تصویر ’میڈونا‘ بھی لے گئے ہیں۔ ایک فراسیسی ریڈیو پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں نے لوگوں کو دھماکایا اور سیدھے تصویروں کی طرف گئے تصویریں اتاریں اور چلتے بنے۔ یہ فرانسیسی ریڈیو پروڈیوسر خود بھی وادات کے وقت منچ کی مصوری دیکھنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ چیخ یا ’سکریم‘ دس سال پہلے بھی ناروے میں ہونے والے موسمِ سرما اولمپکس کے دوران چوری کر لی گئی تھی تاہم بعد میں اسے کسی نقصان کے بغیر برآمد کر لیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||