’فنا‘ کی کشمیریوں میں مقبولیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں تنازعہ کا باعث بنی فلم’فنا‘ ہندوستان کے زيرانتظام جموں و کشمیر ميں شائقین کو پسند آگئی ہے۔ پوری وادی میں موجود صرف ایک سنیما ’نیلم تھیٹر‘ کے مالک الطاف احمد کے مطابق گزشتہ جمعہ سے اب تک ڈیڑھ ہزار سے زائد لوگوں نے یہ فلم دیکھی ہے۔ واضح رہے پچھلے سولہ برسوں سے وادی کے سنیما گھر بند پڑے ہیں اور عسکریت پسندوں کی پابندی کے بعد ان میں سےکئی ایک کو انڈین افواج نے اپنے کیمپوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں لوگ فلموں کا مزہ کیبل ٹی وی یا سی ڈی پلیئرز کے ذریعے اٹھاتے ہیں۔ وادی میں آڈیو اور ویڈیو سی ڈی کی ایک بڑی د کان کے مینجر تجمل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فنا‘ کے ریلیز ہوتے ہی شائقین نے سی ڈی کے لیئے پوچھنا شروع کر دیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ وہ فلم کے’سافٹ سکرپٹ‘ کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’سن بانوے اور ننانوے میں ’روجا‘ اور’مشن کشمیر‘ جیسی فلموں نے بھی یہاں بزنس کیا تھا لیکن لوگوں نے ان فلموں کی صرف موسیقی کو ہی پسند کیا تھا۔ ان فلموں میں موجود’ کشمیر مخالف‘ مکالموں کی وجہ سے ان فلموں کی سی ڈی زیادہ تعداد میں فروخت نہیں ہوئی تھیں‘۔ تجمل کا کہنا تھا کہ ’فنا‘ کے بارے میں لوگوں کا رویّہ الگ ہے کیونکہ اس فلم میں اشتعال انگیزی سے پرہیز کیا گیا ہے۔
کشمیری زبان کی پہلی ڈیجیٹل فیچر فلم بنانے والے نوجوان کشمیری فلم ساز ارشد مشتاق کے مطابق بالی ووڈ اور کشمیر کا رشتہ کبھی خالص تجارتی اور کبھی خالص سیاسی رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’جب ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت تھی تو بالی ووڈ نے کشمیر کو محاذ جنگ کے طور پر پیش کیا اور’مشن کشمیر‘، ’ماں تجھے سلام‘ ، ’دا ہیرو‘ اور ’ایل او سی‘ جیسی فلمیں بنائیں لیکن بالی ووڈ نے کانگریس کے اقتدار میں آتے ہی اپنی ’ٹون‘ تبدیل کر دی ہے‘۔ ارشد مشتاق کا کہنا تھا کہ ’ فنا میں ایسا نہیں کہ سو فیصد کشمیریوں کی وکالت کی گئی ہے لیکن کم از کم فلم دیکھ کر منفی جذبات پیدا نہیں ہوتے‘۔ کویت میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے عاصم شریف ان دنوں کشمیر میں ہیں ان کے مطابق بالی ووڈ کشمیر کے انسانی پہلو کو نہیں سمجھ پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’بالی ووڈ کے ہدایت کاروں کو چاہیئے کہ وہ تحقیق پر زور دیں کیونکہ ہماری تصویر دنیا کو غلط رنگ میں دکھائی جاتی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ’بالی ووڈ میں کشمیر کا مطلب ڈل جھیل، پہاڑ اورگھوڑے والا ہے اور اب تو بالی ووڈ کے ولن کو کشمیری جنگجوؤں کا روپ دے کر ناظرین کے سامنے غلط تصویر پیش کی جاتی ہے۔ کیا اس کے علاوہ یہاں کچھ بھی نہیں؟‘ عامر خان کی " فنا" کے حوالے سے کشمیر یونیورسٹی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ سے حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والے جاوید کہتے ہیں کہ’عامر نے انڈین سسٹم کو چیلنج بھی کیا اور معافی بھی نہیں مانگی اور اس کے علاوہ فلم میں میلیٹنسی کے انسانی پہلو کو چھوا گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بالی ووڈ فلموں میں کشمیریوں کو اپنائیت محسوس ہو تو وہ انہیں ضرور پسند کرتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں ہم عامر خان کے ساتھ ہیں: بالی وڈ29 May, 2006 | فن فنکار ’عامر کی ’فنا‘ نہیں چلے گی‘27 May, 2006 | فن فنکار ’فنا‘ – جہادی اور جذبات کی کشمکش26 May, 2006 | فن فنکار عامر کی ’فنا‘ کی نمائش کھٹائی میں 23 May, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||