BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 May, 2006, 20:47 GMT 01:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فنا‘ – جہادی اور جذبات کی کشمکش

فنا گجرات کے علاوہ جمعہ کو پورے ملک میں ریلیز کی گئی
ایک کشمیری ’جہادی‘ کی زندگی پر مبنی عامر خان اور کاجول کی فلم ’فنا‘ جمعہ کے روز گجرات کے علاوہ پورے ملک میں نمائش کے لیئے ریلیز کردی گئی۔
زندگی، جینے کا حوصلہ، محبت اور چھوٹی چھوٹی خوشیاں، اسی بات کو ہدایت کار کنال کوہلی نے اپنی فلم ’فنا‘ میں ایک خوبصورت انداز میں فلمانے کی کوشش کی ہے۔

بالی وڈ سپر اسٹار عامر خان اور پرکشش منجھی ہوئی اداکارہ کاجول کی فلم فنا کئی تنازعات کے بعد آخر کار جمعہ کے روز نمائش کے لیئے پیش کر دی گئی۔ سنگل اسکرین تھیئٹر اور ملٹی پلیکس ہر جگہ پورا ہفتہ ہاؤس فلم کا بورڈ لگا ہوا ہے۔


شائقین کو اس سال سب سے زیادہ فلم فنا کا انتظار تھا۔ فلم کی کہانی ایک نابینا کشمیری لڑکی زونی علی بیگ (کاجول) سے شروع ہوتی ہے۔ جس نے اپنی آنکھوں سے دنیا تو نہیں دیکھی لیکن وہ اسے جینا چاہتی ہے، اس لیئے کشمیر کے اس خطہ سے جہاں وہ رہتی ہے (اسکرپٹ میں بہت خوبصورتی کے ساتھ علاقہ کے نام چھپانے کی کوشش کی گئی ہے)، اپنی سہیلیوں کے ہمراہ دہلی آتی ہے۔ دہلی گھومنے کے لیئے ایک گائیڈ کا انتظام کیا جاتا ہے۔

ایک کشمیری کی کشمکش
ریحان پورے نو روز برفباری کے طوفان کی وجہ سے اسی گھر میں چھپا رہتا ہے اور اس دوران اس کے دل میں مشن مکمل ہونے کے بعد اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ رہنے کی خواہش پنپنے لگتی ہے۔ وہ گھر والوں پر یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ ہندوستانی فوج کا جوان نہیں بلکہ ایک کشمیری ہے۔

اور یہ گائیڈ دل پھینک مجنوں ریحان (عامر خان ) ہے۔ بات بات پر شاعری اور لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اس کی عادت ہے ۔ ریحان زونی کو دل دے بیٹھتا ہے اور زونی ریحان کی شاعری اور اس کے انداز سے متاثر ہوجاتی ہے لیکن زونی کی سہیلی فاطمہ اسے ریحان سے میل جول بڑھانے سے منع کرتی ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ ریحان ایک دل پھینک مجنوں ہے جو بات بات پر لڑکیوں کو آنکھ مارتا اور چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ لیکن زونی کو احساس ہوتا ہے کہ اب تک وہ جس کی تلاش میں تھی یہی وہ انسان ہے۔

زونی کے پیار کی شدت اور اپنے آپ کو زونی سے چھپائے رکھنے کے کرب کو عامر نے جس خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے وہ اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ یہ عامر جیسا اداکار ہی کر سکتا ہے۔ کہانی کا اسکرپٹ اچھا ہے اس لیئے ہر لمحہ چونکا دیتا ہے۔ زونی کے پیار کے آگے عامر ہار جاتا ہے اور اسے اپنے ساتھ لے آتا ہے لیکن اس کی آنکھیں ٹھیک کروانے کے بعد وہ اس کی زندگی سے اس طرح غائب ہوتا ہے جیسے پارلیمنٹ ہاؤس پر ہوئے بم دھماکہ میں وہ بھی ہلاک ہو گیا ہو۔

زونی اس کی یادوں کے ساتھ زندگی گزارتی ہے اور دوسری طرف ریحان کا اصل روپ سامنے آتا ہے، ایک کشمیری نوجوان کا جس کے مطابق وہ اپنے خطے کی آزادی کی لڑائی جہاد کے طور پر لڑ رہا ہے۔ اس کے نانا اس کے رہنما ہیں۔ایک کھلنڈرے نوجوان کے بعد ایک سخت گیر جہادی کے روپ میں عامر کا روپ لوگوں کو چونکا دیتا ہے۔

ہندستان اور پاکستان کی انٹیلجنس ایجنسیوں کو دھوکہ دیتے ہوئے عامر کشمیر (پولینڈ اور منالی) کی وادیوں میں زخمی حالت میں بھٹک جاتا ہے اور پناہ لینے کے لیئے جو دورازہ کھٹکھٹاتا ہے وہ زونی کا گھر ہے۔

زونی اور اپنے بیٹے ریحان (ماسٹر علی حاجی) کو دیکھ کر ریحان ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ بینائی آنے کے بعد سے زونی نے ریحان کو نہیں دیکھا تھا اس لیئے وہ اسے پہچان نہیں پاتی ہے۔

فنا
کاجول کی خوبصورتی اور اداکاری دونوں پہلے کی طرح ہی لاجواب ہیں

کاجول کی خوبصورتی اور اداکاری دونوں پہلے کی طرح ہی لاجواب ہیں
کہانی میں یہیں ایک کشمیری کی اصل زندگی کی کشمکش سامنے آتی ہے۔ اس کا مقصد یا اس کے اپنوں کے ساتھ خوشگوار زندگی؟ ریحان پورے نو روز برفباری کے طوفان کی وجہ سے اسی گھر میں چھپا رہتا ہے اور اس دوران اس کے دل میں مشن مکمل ہونے کے بعد اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ رہنے کی خواہش پنپنے لگتی ہے۔ وہ گھر والوں پر یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ ہندوستانی فوج کا جوان نہیں بلکہ ایک کشمیری ہے۔

فلم میں کہانی کار اور ہدایت کار نے کشمیریوں کے مسئلہ کی جانب ہمدردانہ نظریہ رکھا ہے اور وہ اسے فلم کے ایک منظر میں مکالمہ کے ذریعہ ظاہر بھی کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن آگے خود الجھ کر رہ گیا ہے۔ کہیں وہ کشمیری نوجوانوں کی اس لڑائی کو در پردہ صحیح مانتا ہے تو وہیں دوسری جانب وہ ان کشمیریوں کی لڑائی کو غلط قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔

فلم میں یہ بھی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کشمیری اپنی جنگ میں الگ تھلگ ہیں۔ عامر کی اس روپ میں اداکاری لاجواب ہے۔ کبھی جذبات کو چھپانے کی کوشش تو کبھی ذہنی کشمکش، دکھ اور پیار دونوں کا اظہار لاجواب ہے۔

اداکارہ کاجول شادی کے بعد پانچ سال کے طویل وقفہ کے بعد واپس آئی ہیں لیکن ان کی اداکاری اور خوبصورتی دونوں پہلے ہی کی طرح لاجواب ہے۔ عامر کے ساتھ کاجول کی یہ پہلی فلم ہے اور شائقین انہیں پسند کریں گے۔ فلم کے مناظر بہت خوبصورتی کے ساتھ فلمائے گئے ہیں۔ موسیقی دل کو لبھانے والی ہے، سبحان اللہ اور گیت چاند سفارش جھومنے پر مجبور کرتا ہے۔

فلم میں شعر و شاعری کے نام پر کہیں کہیں تک بندش کی وجہ سے بوریت ہوتی ہے لیکن عامر کا انداز دوسرے ہی لمحہ بوریت دور کر دیتا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو فلم بہت اچھی ہے، اس کی کہانی اور نغمے اس کے کرداروں کی اداکاری، ہر کردار نے اسے پوری طرح جیا ہے۔

فلم میں تبو کا مختصر کردار ہے لیکن بس ٹھیک۔ کرن کھیر فلم کے پہلے حصہ میں ہی اپنی چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔ اس فلم کو عامر کاجول کی اداکاری اور نغموں کے لیئے ایک بار نہیں بلکہ دوبار بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں
فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد