BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 June, 2006, 20:16 GMT 01:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گاڈ فادر II اہم فلم کیوں ہے؟

مارلن بانڈو بطور ویٹو کورلیون اور الپکینوں بظور مائیکل کورلیون
فرانسس فورڈ کپولا کا یہ تین فلمی سلسلہ امریکہ میں سسلی کے پناہگزین یا مہاجروں کے ایک خاندان کی تین نسلوں اور تقریباً ساٹھ برسوں کی کہانی ہے جو اس خاندان کے تقریباً ختم کیے جانے سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا عروج کا سامنے لاتی ہے اور پھر زوال کے آثار پر ختم ہوتی ہے۔


پہلی فلم گاڈ فادر 1972 میں جاری ہوئی اور ایک سو پچھہتر منٹ کی ہے۔ اس فلم نے دس اکیڈمی ایوارڈز کے لیئے نامزدگی حاصل کی اور بہترین فلم سمیت تین آسکر ایوارڈ حاصل کیے۔ دوسری فلم گاڈ فادرII، 1974 میں جاری ہوئی گیارہ اکیڈمی ایوارڈز کے لیے نامزد کی گئی بہترین فلم اور بہترین ڈائریکٹر سمیت چھ آسکر حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور باکس آفس پر پانچ کروڑ ستر لاکھ ڈالر کا کاروبار کیا یہ ایک سو ستاسی منٹ پر مشتمل ہے۔ تیسری فلم گاڈ فادرIII بھی 1974میں جاری ہوئی اور ایک سو باسٹھ منٹ کی ہے یہ حصہ بھی سات اکیڈمی ایوارڈز کے لیے نامزدگیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہا لیکن کوئی آسکر حاصل نہ کر سکا لیکن اس نے باکس آفس پر چھ کروڑ ساٹھ لاکھ یا 66 ملین ڈالر کا کاروبار کیا ۔

فلم کے پہلے حصے گاڈ فادر میں ویٹو کورلیون (رابرٹ ڈینیرو بعد میں مارلن برنڈو) ہے جو اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے زندگی شروع کرتا ہے اور ڈون مانا جاتا ہے۔ یہ اس کا بے ارادہ مشن بھی ہے اور انتقام بھی۔ وہ دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس کی لڑائی کے سارے تضاد باہر ہیں اور وہ اسے انتہائی سادہ الفاظ میں کاروبار قرار دیتا ہے اور تمام فیصلے اس بنیاد پر کرتا ہے کہ جو کچھ وپ کرنا چاہتا ہے وہ کیا جانا چاہیئے یا نہیں کیا جانا چاہیے یا اس کام سے کیا ملے گا اور اس کی کیا قیمت چکانی پڑے گی، اسی اس کا تصورِ خیر ہے اور اسی میں اس کا تصورِ شر۔ اس کے نزدیک بے وفائی اور دھوکے بازی سب سے بڑے جرائم ہیں۔

ویٹو کورلیون اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ دائیں سے بائیں فریڈو مائیکل اور سونی

گاڈ فادر دوم ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جسے تعلیم اور تربیت نے والد اور خاندان سے مختلف سوچ اور زبان دی ہے اور اسی فرق سے اس میں وہ تضاد پیدا ہوتا ہے جو اسے سب کچھ ہونے کے باوجود محرومیت اور بےچارگی کی تصویر بنا دیتا ہے۔ وہ وراثت میں ملنے والی مافیا کے کاروبار کو خود سے تعبیر کرتا ہے اور اسے معاشرے کی ظاہری اقدار کے مطابق جائز اور قانونی بنانا چاہتا ہے لیکن اس کی سوچ اپنے باپ ویٹو کورلیون کی طرح سادہ اور سیدھی نہیں ہے۔

تیسری گاڈفادر مائیکل کورلیون (الپکینو) کے بیس سال جاری رہنے والے دور کے اختتام سے شروع ہوتی ہے، وہ نویدا میں ہے اور اپنے بڑے بھائی کے قتل کا حکم دے چکا ہے لیکن وہ ذاتی زندگی میں اکیلا ہو چکا ہے۔

گاڈ فادر دوم دنیا میں اب تک بننے والی دس بہترین فلموں میں شمارکی جاتی ہے۔ اس میں ہم پہلے حصے کا پس منظر اور امریکہ میں کورلیون خاندان کی ابتداء بھی دیکھتے ہیں۔ ویٹو نو سال کا تھا جب اسے باپ، بھائی اور ماں کی موت کے بعد سسلی سے بھاگ کر امریکہ آنا پڑا۔اس نے محنت اور ذہانت سے دولت، عزت اور ایک دنیا بنائی جو اس کی دنیا تھی۔ وہ کبھی نہیں بھول سکا کہ اسے امریکہ کیوں آنا پڑا اس لیے آہستہ آہستہ وہ اُس ڈون سے کہیں زیادہ طاقتور بن گیا جس نے طاقت کے لیے اس کے والد، بھائی اور ماں کو قتل کیا تھا اور اگر وہ بھاگ کر نہ آتا تو اسے بھی بہت جلد موت کا ذائقہ چکھنا پڑتا لیکن آخر وہی ہوا جس کا اس کے خاندان کے قاتل ڈون سکسیون کو ڈر تھا۔

جیسے جیسے ڈون ویٹو کورلیون کی طاقت بڑھی ویسے ویسے اس کے دشمنوں کی طاقت اور تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔ وہ سارے کاموں کے حق میں تھا لیکن منشیات اور عصمت فروشی کے حق میں نہیں تھا۔اس نے ایک سسلین عورت سے شادی کی اور تمام عمر اس کے ساتھ گزار دی۔ اس کے تین بیٹے سونی، فریڈو اور مائیکل اور ایک بیٹی کونی ریزی تھی۔

سونی، طاقتور، جوشیلا اور جذباتی تھا اور جب منشیات کے کاروبار پر مافیا کے بڑے خاندانوں میں اختلاف ہوئے تو ویٹو کو ڈرانے کے لیے، کورلیون خاندان کے دشمنوں نے سونی کی انہیں کمزوریوں کا فائدا اٹھا کر اسے قتل کر دیا۔ یہ ایک کٹھن وقت تھا۔ ویٹو نے مائیکل کو بچانے کے لیے سسلی بھیج دیا۔ جہاں اس نے خآلص سسیلین انداز میں عشق کیا شادی کی لیکن اس کی بیوی اس بم کا نشانہ بن گئی جو اسے مارنے کے لیے کار میں لگایا گیا تھا۔ خود ویٹو پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا لیکن اسے بچا لیا گیا۔

مائیکل کورلیون آخر اپنے بھائی فریڈو کے قتل کا بھی حکم دے دیتا ہے

گاڈ فادر دوم یہاں سے شروع ہوتی ہے جب ویٹو کارلیوں مائیکل کو سب کچھ سونپ کر ریٹائرمنٹ کے بعد انتقال کر چکا ہے اور ایک طویل خونی رات میں اپنے کئی حریفوں کے خاتمے کے بعد مائیکل نے خاندان کے کاروبار کو سنبھالا ہے۔

مائیکل کی تعلیم اور تربیت ایک سیاستدان بنانے کے لیئے کی گئی تھی۔ اس نے فوج کی ملازمت بھی کی اور اعزاز بھی حاصل کیا اور اس نے اپنی دوسری بیوی کو اس بات کا یقین بھی دلایا کہ جلد ہی وہ سارے خاندانی کاروبار کو قانونی شکل دے لے گا اور اسے یقین بھی تھا کہ وہ یہ کام کر لے گا۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے ساتھ وہی ہوا جو نمک کی کان میں اترنے والے کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اس نے اپنے والد سے کہیں زیادہ اطاعت اور طاقت حاصل کی لیکن وہ اپنے خاندان اور ارد گرد کے لوگوں سے وہ احترام اور محبت حاصل نہیں کر سکا جو اس کے والد کو بطور ویٹو اور ڈون حاصل تھی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کبھی اس تضاد سے نہیں نکل سکا کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ غیر قانونی ہے اور اس کا احترام اسی لیئے نہیں کیا جاتا۔ وہ اس احترام کو حاصل کرنے کے لیئے زیادہ سے زیادہ سخت گیر اور سفاک ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنی بیوی اور بچوں سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔

مائیکل پر قاتلانہ حملہ ہوتا لیکن وہ خود کو اور اپنی بیوی کو بچانے میں کامیاب رہتا ہے

موریو پُز کے ناول پر خود پُز کے ساتھ مل لکھے گئے سکرپٹ کے ذریعے فرانسس فورڈ کپولا نے محض ایک انسان کے تضاد کی تصویر ہی نہیں بنائی ہے بلکہ معاشرے کے اس تضاد کی عکاسی بھی کی ہے جو ہر پہلو میں موجود ہے۔

ویٹو طاقت اور احترام پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے پاس لوگوں کو مارنے کی طاقت بھی ہے لیکن وہ اس مرحلے سے جانے سے پہلے پوری کوشش کرتا ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور جب مسئلہ بات چیت سے حل نہیں ہوتا تو طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ویٹو کے برخلاف مائیکل بات چیت سے قائل کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ وہ اس پر یقین رکھتا ہے ’یہی ہے، لو یا چھوڑ دو‘ وہ اپنے خاندان سے بھی محبت کرتا ہے لیکن اس کا اظہار نہیں کر سکتا لیکن توقع یہ رکھتا ہے کہ وہ جس کے لیئے محبت کے جذبات رکھتا ہے اسے اس کی محبت کو سمجھنا ہی نہیں چاہیئے اس کی قدر بھی کرنی چاہیئے۔

اگر گاڈ فادر کا پہلا حصہ اس بات کا اظہار ہے کہ جس طاقت کے خلاف لڑائی ہوتی ہے آخر میں ان جانے طور پر لڑنے والا اسی طاقت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ویٹو کی لڑائی مافیا ڈان کے خلاف شروع ہوئی اور ویٹو خود بھی ایک ڈون میں تبدیل ہو گیا۔ جب کہ مائیکل لاقانونیت کے خلاف لڑتے لڑتے خود بھی لاقانونیت کی ایک بھیانک شکل بن گیا۔

لیکن کپولا کا مسئلہ اس سے بڑا ہے۔ انہوں نے ایک ساتھ کئی چیزیں سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں جہاں مرکزی کرداروں کے باطن میں خیر و شر کی جنگ دکھائی ہے وہاں یہ بھی دکھایاہے کہ عدلیہ، سیاستداں اور انتظامیہ میں کوئی بھی بدعنوانی سے پاک نہیں۔

رابرٹ ڈی نیرو نے فلم میں ویٹو کی جوانی کا کردار ادا کیا ہے

گاڈ فادر کے حصہ دوم میں پہلے اور تیسرے حصے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدگی اور پھیلاؤ ہے۔ اس میں وقت کو سیدھے سیکونس کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ بار بار ہم وقت میں آگے اور پیچھے کی طرف جاتے ہیں اس کے علاوہ اس میں مناظر زیادہ گہرے اور علامتی ہیں۔ یہ ایک بار دیکھنے کی فلم نہیں ہے جتنی بار ہم اسے دیکھتے ہیں اور جس قدر اس تفصیل پر توجہ دیتے اسی قدر اس کا حسن اور فنکارانہ بناؤ اجاگر ہوتا ہے۔
’دی گولڈ رش‘
رلانا اور ہنسانا چارلی چپلن پر ختم ہو چکا ہے
ایٹ اینڈ ہالف فلینی ڈر کیوں رہا تھا
فیڈرو فلینی بہت کامیاب تھا اور بہت خوفزدہ
ہچکاک کی ورٹیگو
ورٹیگو صدی کی لازمی فلم تصور کی جاتی ہے
رولز آف دی گیمدوسری بڑی فلم
بد اخلاقوں کے لیے بنائی گئی ایک عظیم فلم
سب سے بہترین فلم
وہ جو کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں
اسی بارے میں
376 بدقسمت ہندوستانیوں پر فلم
27 February, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد