شوقیہ فلموں کا میلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے الحمرا ہال میں پاکستان کا اوّلین ’امیچر فلم فیسٹیول‘ شروع ہوگیا ہے --یعنی شوقیہ فلموں کا میلہ۔ اس سے پہلے پاکستان کے مختلف شہروں میں کمرشل اور غیر کمرشل فلموں کے کئی میلے منعقد ہوچُکے ہیں جِن میں’ کارا فلم فیسٹیول‘ کو خاصی مقبولیت بھی حاصل ہوئی کیونکہ اس میں کچھ منجھے ہوئے نوجوانوں نے اپنی فلم سازی کے کمالات کا مظاہرہ کیا تھا اور اہلِ پاکستان کو پہلی مرتبہ اپنے ہم وطنوں کی بنائی ہوئی ایسی فلمیں اور وڈیوز دیکھنے کا موقعہ ملا تھا جنھیں فخر سے عالمی سطح پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ تاہم موجودہ فلمی میلہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اِس میں حصّہ لینے والے نوجوان ابھی طالبعلمی کے دور سے گزر رہے ہیں اور یہ وڈیو فلمیں اُن کی بالکل ابتدائی کاوشیں ہیں۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں اس وقت بہت سے تعلیمی اداروں میں ’فلم‘ کو ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جارہا ہے۔ اِن اداروں میں کراچی کا اِنڈس ویلی سکول اور جی ۔ آئی ۔ کے یونیورسٹی نیز لاہور کی انجیرنگ یونیورسٹی، کنیرڈ کالج، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی اور خاص طور پر نیشنل کالج آف آرٹس پیش پیش ہیں۔ اِن سبھی اداروں کے طالبِ علم اِس فلمی میلے میں حصّہ لےرہے ہیں۔ مقابلے کےلئے موصول ہونے والی فلموں کو تین زُمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 1 دستاویزی فلمیں
کالج میں پڑھائی کے دوران یہ طالبعلم جو فلمیں اور وڈیوز تیار کرتے ہیں اُن کی حیثیت اگرچہ ’تدریسی مشقوں‘ سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن بعض ہونہار طلبہ اِن مشقوں کے دوران ہی اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا اظہار کردیتے ہیں۔ اِن طالب علمانہ کوششوں کو منظرِ عام پر لانے اور اِن پر عوام الناس کا ردِعمل معلوم کرنے کےلئے اس طرح کے فلمی میلے انتہائی مفید کردار ادا کرتے ہیں۔ شوقیہ فلموں کے موجودہ میلے میں جِن شعبوں کےلئے انعامات رکھے گئے ہیں وہ اس طرح ہیں۔ ہدایتکار: بہترین فیچر فلم اِن کے علاوہ بہترین اداکار، بہترین اداکارہ اور مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے بہترین ڈائریکٹر کےلئے بھی الگ انعام رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں فلم کوایک آرٹ کی حیثیت سے ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔ بھٹّو دَور میں پہلی بار اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا گیا تھا اور سرکاری سطح پر ایک فلم پالیسی بھی مرتب ہوئی تھی جسکے تحت، علاوہ دیگر اقدامات کے، ایک فلم سوسائٹی کا قیام بھی عمل میں آیا تھا جسکا کام عوام کو دنیا کے بہترین سینما سے متعارف کرانا تھا۔
گذشتہ چند برسوں میں بدلتی ہوئی عالمی اور ملکی سیاست کےباعث فن اور ثقافت کی طرف پھر سے کچھ توجہ ہوئی ہے اور تیس برس پہلے بِکھر جانے والے ثقافتی قافلے کے بچے کچھے لوگ پھر سے مجتمع ہورہے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اس قافلے میں اب کچھ تازہ دم نوجوان بھی شریکِ سفر ہیں جو مختلف فنون میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا چاہتے ہیں۔ اُمید کرنی چاہیئے کے اِس فلم فیسٹیول جیسی تقریبات نوجوانوں کے تخلیقی جوش وخروش کو اظہار کا مناسب راستہ دکھا سکیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||