ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیورو رپورٹ، اسلام آباد پانچ بجکر پینتیس منٹ پاکستان بار کونسل ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور نیشنل ایکشن کمیٹی کی تین رکنی کمیٹی نے وکلا کی جانب سےکراچی اور اسلام آباد میں ہونے والے واقعات پر منگل کو ملک بھر میں ہڑتال کی کال دی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں راجا ریاض کے قتل اور محمد علی عباسی پر کئیے گئے تشدد اور سندھ ہائی کورٹ کی کاروائی میں خلل ڈالنے کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں ملک بھر کی صوبائی بار کونسلوں سے ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل کی گئی۔ شہزاد ملک، راولپنڈی، تین بجکر دو منٹ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی پاکستان کی آمد کے سلسلے میں پولیس اور مسلم لیگ کے کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان شھر کے مختلف علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جن میں پچس افراد زخمی ہوگئے زحمی ہونے والوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس دوران پولیس نے ایک سو پچاس سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور ان کو منتشر کرنے کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل بھی پھنکے جبکہ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراو کیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں دو پریس فوٹوگرافر بھی زخمی ہوگئے۔ انتخاب امیر، اسلام آباد دو بجکر بیس منٹ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رُکنِ قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف نے آئین کے آرٹیکل دو سو چار کے تحت سپریم کورٹ میں پیر کو گیارہ بجے کے قریب ایک درخواست دائر کی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وہ حکومت کو میاں نواز شریف کو ملک بدر کرنے سے روکے۔ عدالتِ عالیہ سے، اُس کی توہین سے متعلق قانون کے دائرہ اختیار کے تحت دائر کی گئی درخواست میں، استدعا کی گئی کہ وہ نواز شریف اور شہباز شریف کی واپسی سے متعلق اپنے تئیس اگست دو ہزار سات کے فیصلہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ خواجہ محمد آصف نے بی بی سی کب بتایا کہ سینئیر وکیل فخر الدین جی ابراہیم نے اُن کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ۔ جس وقت درخواست دائر کی گئی اُس وقت تک نوازشریف کو سعودی عرب ملک بدر نہیں کیا گیا تھا۔ درخواست کے ساتھ سپریم کورٹ کے تئیس جولائی کے فیصلے کی ایک نقل بھی لگائی گئی ہے جس میں عدالت نے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے پاکستانی شہری ہونے کے ناطے اُن کے ملک میں داخلے اور یہاں رہنے کے حق کو آئین کے آرٹیکل 15 کےتحت اُن کا حق قرار دیتے ہوئے وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی تھی کہ ’ کسی طور بھی اُن کی ملک واپسی / داخلے کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے ، دُشواری پیدا نہ کی جائے اور روڑے نہ اٹکائے جائیں‘۔ درخواست گُزار نے سپریم کورٹ کو نواز شریف کو حکومت کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے حوالے سے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مطلع کیا تھا کہ اُن (نوازشریف) کو ایک دوسرے ملک بھیجوایا جارہا ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اپنے خلاف کسی بھی کیس کا ملک میں رہ کر سامنا کرنے کو تیار ہں اور یہ کہ وہ بلکل بھی ملک سے باہر نہیں جاناچاہتے ۔ عدالت کو مطلع کیا گیا کہ نواز شریف کو طیارہ سے باہر نہیں آنے دیا جا رہا جبکہ باقی سارے مسافر باہر آچکے ہیں ۔’جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اُنھیں ملک بدر کیا جارہا ہے۔‘ اعجاز مہر، اسلام آباد، ایک بجکر نو منٹ پاکستان حکومت نے پیر کو لندن سے اسلام آباد پہنچنے کے بعد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو بظاہر حراست میں لینے کے بعد ڈرامائی انداز میں ایک بار پھر سعودی عرب روانہ کردیا ہے۔ ایک وفاقی وزیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سابق وزیراعظم کی اسلام آباد سے سعودی عرب روانگی کی تصدیق کی ہے۔ پیر کی صبح جب نواز شریف کا طیارہ اسلام آباد پہنچا تو سعودی عرب اور پاکستان کے حکام پر مشتمل وفد نے میاں نواز شریف سے طیارے میں ملاقات کی اور ڈیڑھ گھنٹے سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد وہ طیارے سے باہر آئے۔ ان سے حکام نے پاسپورٹ لے کر امیگریشن کا تقاضا پورا کیا اور ظاہر کیا کہ انہیں احتساب بیورو نے گرفتار کرلیا ہے۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد انہیں واپس سعودی عرب بھجوادیا۔ ہارون رشید، اسلام آباد، بارہ بجکر چھبیس منٹ پاکستانی حکام نے اسلام آباد ہوائی اڈے پر طویل مذاکرات کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں بظاہر نیب کے آرڈیننس کے تحت گرفتاری کیا گیا ہے۔ راول لاونج میں انہیں حکام نے انگریزی میں لکھا وارنٹ پیش کیا جس میں ان کی گرفتاری کی چار وجوہات لکھی گئی تھیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے انہیں وارنٹ پر دستخط کرنے کے لیئے کہا لیکن انہوں نے یہ پڑھ کر انہیں واپس لوٹا دیا۔ بعد میں انہیں لاؤنج سے باہر لیجایا گیا۔ غلام مصطفی کھر نے ہمارے ساتھی فراز ہاشمی کو بتایا کہ نواز شریف کو ہیلی کاپٹر میں کسی نامعلوم مقام منتقل کیا جا رہا ہے۔ انتخاب امیر، سپریم کورٹ آف پاکستان، گیارہ بجکر تینتالیس منٹ مسلم لیگ ن نے آئین کی دفعہ دو سو چار کے تحت آج سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست جمع کرائی ہے۔ لیگی رہنماؤں خواجہ آصف اور صدیق الفاروق کے مطابق درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ جو سپریم کورٹ کے حکم کی کھُلی خلاف ورزی ہے۔ شہزاد ملک، راولپنڈی، گیارہ بج کرچالیس منٹ راولپنڈی میں کچہری چوک میں ابھی تک سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ٹولیوں اور پولیس کے درمیان آنسو گیس کی شیلنگ اور پتھراو کا سلسلہ جاری ہے جس میں اخبارات کے دو فوٹو گرافروں سمت اٹھائیس افراد کے زخمی ہوچکے ہیں۔ جھڑپوں کایہ سلسلہ لیاقت باغ اور ائر پورٹ کی طرف جانے والے دیگر راستوں پر بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔ فراز ہاشمی، وی آئی پی لاؤنچ، اسلام آباد ائیر پورٹ، گیارہ بجکر 36 منٹ اس وقت نواز شریف اسلام آباد ائیر پورٹ کے وی آئی پی لاؤنچ پر اپنے ساتھیوں اور ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ موجود ہیں۔ اس وقت کسی طرح کے مذاکرات تو نہیں ہو رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کے ساتھ مذاکرات تو جہاز کے اندر ہی ہوئے تھے جس کے بعد وہ جہاز سے باہر آئے تھے۔ میاں محمد نواز شریف آج جب اسلام آباد ائیر پورٹ پر اپنے ہوائی جہاز سے باہر آئے تو اُنہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کچھ یُوں کیا۔ ’اللہ کا شکر ہے میں نے اپنے وطن پر قدم رکھا ہے، بہت شکر ہے۔ میری ایک عجیب سی کیفیت ہے۔ میرا پیغام ہے کہ ہم سب مل کر چلیں۔ میرا پیغام کوئی انتقام والا نہیں ہے ‘۔ مسعود عالم ،اسلام آباد ہائی وے،گیارہ بج کرپچیس منٹ اسلام آباد ہائی وے سے ائرپورٹ کی طرف جانے والے راستے کو ٹرک کھڑے کر کے مکمل طور پر بلاک کردیا گیا ہے اور گاڑیوں کے علاوہ پیدل افراد کو بھی آگے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ اس طرف مظاہرین کے مقابلے میں پولیس اہلکاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے کسی قسم کی ہنگامہ آرائی نہیں ہوئی۔ ائر پورٹ کی جانب سے آنے والے مسافروں کو خصوصی طور پر چلائی گئی بسوں کے زریعے اس مقام تک لایا جا رہا ہے جبکہ ائیر پورٹ کو جانے والے تمام راستوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا ہے۔ پولیس نےکچہری چوک سے 20سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیاہے جبکہ پولیس نے مظاہرین میں شامل وکلا کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ائیر پورٹ کو جانے والے تمام راستے ابھی تک بند ہیں اور مسافروں کو خصوصی بسوں کے زریعے ائیر پورٹ لے جایا جا رہا ہے۔ شفی نقی جامعی، کرال چوک، راولپنڈی، گیارہ بج کر دس منٹ مسلم لیگی کارکنوں اور پولیس کے درمیان بلی چوہے کا کھیل یہاں جاری ہے۔ درجن دو درجن کارکن آتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور انہیں آگے جانے سے روک دیا جاتا ہے۔ اس سڑک پر چھ مقامات پر پولیس نے ناکے لگا رکھے ہیں۔ پولیس والوں کی ٹولیاں اور رینجرز بری تعداد میں موجود ہیں۔ ہارون رشید، اسلام آباد، گیارہ بج کر آٹھ منٹ صوبہ سرحد کو پنجاب سے ملانے والے اٹک پل پر مسلم لیگی کارکنوں اور پنجاب پولیس کے درمیان تصادم تاحال جاری ہے۔ تازہ اطلاع کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ سیاسی کارکن پتھراو کر رہے ہیں جبکہ پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔ حکام نے کل رات سے ہی پل کو کنٹینروں اور ریت کے ڈھیر لگا کر تمام تر ٹریفک کے لیئے بند کر دیا تھا۔ نوشہرہ کے صحافی مشتاق پراچہ نے موقع سے بتایا ہے کہ چار کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں تاہم تین مسلم لیگی رہنماؤں کو گرفتار کرنے کی کوشش کارکنوں نے ناکام بنا دیا ہے۔ زخمی ہونے والوں کے نام جوہر، امجد اور ریاص بتائے جاتے ہیں۔ شہزاد ملک، راولپنڈی، گیارہ بج کرتین منٹ راولپنڈی میں ائرپورٹ کی طرف جانے والے راستے میں کچہری چوک میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور پولیس کی درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئےآنسو گیس کی شدیدشیلنگ کررہی ہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراو کیا جارہا ہے۔ پولیس نےکچہری چوک سے 20سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیاہے جبکہ پولیس نے مظاہرین میں شامل وکلا کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ائر پورٹ کو جانے والے تمام راستے ابھی تک بند ہیں اور مسافروں کو خصوصی بسوں کے زریعے ائیر پورٹ لے جایا جا رہا ہے۔ ہارون رشید، اسلام آباد، دس بجکر پینتالیس منٹ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک طیارے میں رہنے کے بعد نواز شریف وی آیی پی لاونج پہنچ گئے ہیں۔ جب وہ طیارے پر تھے تو حکام نے ان سے ان کا پاسپورٹ مانگا ہے تاکہ امیگریشن کے تقاضا پورے کیے جاسکیں۔ تاہم نواز شریف نے باہر آنے یا پاسپورٹ حوالے کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں یا مسافروں میں سے کوئی بھی باہر نہیں آسکا ہے۔ ائرپورٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہونے والے آٹھ نو مسلم لیگی کارکنوں اور حکام کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔ صوبہ سرحد کو پنجاب سے ملانے والے اٹک پل پر مسلم لیگی کارکنوں اور پنجاب پولیس کے درمیان تصادم کی اطلاعات ہیں۔ کارکنوں نے پتھراو کیا جبکہ پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔ تاہم گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ حکام نے کل رات سے ہی پل کو تمام تر ٹریفک کے لیئے بند کر دیا تھا۔ بیورو رپورٹ، اسلام آباد دس بجکر اکیس منٹ مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے اپنی گرفتاری کے بعد تھانہ آبپارہ سےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک اے پی ڈی ایم کے درجنوں رہنماوں سمیت چار ہزار کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومتی اقدامات کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین قرار دیا اور کہا کہ اے پی ڈی ایم گرفتاریوں کے خلاف کل ملک بھر میں یوم احتجاج منائےگی۔ احسن اقبال نے تصدیق کی کہ ان کے ساتھ تھانہ آبپارہ میں ظفر اقبال جگھڑا،خاکسار تحریک کےرہنماعلامہ مشرقی،بیرسٹر سلطان محمود،قادر مگسی،نواب منصوراورمحمود خان اچکزئی سمیت دیگر رہنما زیر حراست ہیں۔ اعجاز مہر، اسلام آباد، دس بجکر سولہ منٹ مسلم لیگ نواز صوبہ سندھ کے سرکردہ رہنماؤں امداد علی چانڈیو اور زین انصاری کو بھی اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ سے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار شدہ تمام رہنماؤں کو آبپارہ تھانے میں رکھا گیا ہے۔ ہارون رشید، اسلام آباد، دس بجکر چار منٹ وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ ملکی قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات ایک غیرملکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کی تفصیل میں نہیں جائیں گے کہ کس کے پاس وارنٹ ہے اور کسی کے پاس نہیں لیکن ملک میں قانون بھی موجود ہے اور آئین بھی۔ ہارون رشید، اسلام آباد، نو بجکر بیالیس منٹ طیارے سے اترنے سے قبل نواز شریف سے حکومت رابطے کی کوشش میں ہے تاکہ انہیں دستیاب آپشنز بتائی جاسکیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا طیارہ تو اسلام آباد ہوائی اڈے پر اترے تقریبا گھنٹہ ہو چکا ہے لیکن ابھی تک واضع نہیں کہ حکومت نے ان کے لیے کیا حکمت عملی تیار کی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس چار پانچ آپشنز موجود ہیں۔ ان میں نظر بندی، گرفتاری اور ڈیپورٹیشن اہم آپشنز بتائی جاتی ہیں۔ ہوائی اڈے میں موبائل کام نہیں کر رہے اور خیال ہے کہ انہیں جیم کر دیا گیا ہے۔ بیورورپورٹ، اسلام آباد، نو بج کر تیس منٹ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق طیارے میں موجود تمام مسافر باہر آچکے ہیں اور ائیر پورٹ پر ایک چھوٹا طیارہ تیار کھڑا ہے۔ جڑواں شہروں کے مختلف علاقوں سے پولیس اور اے پی ڈی ایم کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی اور پتھراو کی بھی اطلاعات آرہی ہیں۔ اعجاز مہر، زیرو پوائنٹ، نو بج کر بیس منٹ زیرو پوائنٹ کے مقام سے سابق صدر رفیق تارڑ، بلوچستان سے لیگی رہنما سردار یعقوب خان ناصر، رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی اور مسلم لیگ نواز کی مرکزی رہنما تہمینہ دولتانہ کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ اعجاز مہر، زیرو پوائنٹ، نوبجکر آٹھ منٹ پر اسلام آباد میں زیروپوائنٹ کے مقام پر اقبال ظفر جھگڑا،احسن اقبال، مشاہد اللہ، کرشن بھیل اور طارق سمیت درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ سڑک بند کرکے پانچ کارکنوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سابق صدر رفیق تارڑ بھی زیروپوائنٹ پر موجود ہیں لیکن ابھی تک انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ پختون نخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سینیٹر رضا محمد رضا، سندھی قوم پرست رہنما ڈاکٹر قادر مگسی اور پاکستان جمہوری پارٹی کے رہنما نوابزادہ منصور علی خان کو بھی زیرو پوائنٹ سے حراست میں لے لیا گیاہے۔ بیرسٹر سلطان محمود اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر ریلی میں شریک ہونے کے لئے موجود تھے۔ بیورورپورٹ، اسلام آباد، نو بجے مقامی ٹی وی چینلز نے نوازشریف کے طیارے پی کے 786کو مقامی وقت کے مطابق آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر اسلام آباد کے رن وے پر اترتے ہوئے دکھایا۔طیارے نے رن وے پر مڑتے ہوئے ٹرمینل کی طرف رخ کر لیا جبکہ وہاں سے اترنے والے مسافروں کو دیکھنا ممکن نہ رہا۔ اعجاز مہر، اسلام آباد، سات بجکر چالیس منٹ پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی پر استقبال کی تیاریاں کرنے والے حزب مخالف کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو حکومت نے حراست میں لے لیا ہے۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چودھری محمد علی کے مطابق نقص امن عامہ کے خدشے کے پیش نظر مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفرالحق اور جاوید ہاشمی اور متحدہ مجلس عمل کے لیاقت بلوچ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جبکہ انہوں نے بتایا کہ متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن کو امن عامہ قائم رکھنے کے بارے میں قانون ’ایم پی او‘ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ گزشتہ شب مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری اطلاعات نے بتایا تھا کہ پروگرام کے مطابق ’آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومینٹ، یعنی ’اے پی ڈی ایم‘ کے رہنماؤں کو راجہ ظفر الحق کے گھر صبح جمع ہونا تھا جہاں سے جلوس کی شکلی میں ہوائی اڈے پہنچنا تھا۔ لیکن رات گئے سے مسلم لیگ نواز کے متعدد رہنماؤں، اراکین پارلیمان کے فون بند ہیں اور ان کا کوئی پتہ نہیں چل پا رہا۔ پنجاب کے مختلف شہروں سے بیسیوں مسلم لیگ کے کارکنوں کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں ۔ پارلیمان ہاؤس کے سامنے واقع اراکین پارلیمان کی رہائش گاہ کے باہر بھی بھاری مقدار میں پولیس تعینات ہے۔ شہزاد ملک، راولپنڈی، سات بجکر پچیس منٹ راولپنڈی میں ہوائی اڈے کی طرف جانے والی سڑکیں بند ہیں اور بھاری تعداد میں پولیس تعینات ہے۔ جبکہ رینجرز کے دستے گشت کر رہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی وے فیض آباد سے بند ہے جہاں سڑک پر کنٹینر رکھے گئے ہیں۔ جبکہ بپلک ٹرانسپورٹ بھی نہ چلنے کے برابر ہے۔ راولپنڈی میں تعلیمی ادارے بند ہیں اور سڑکوں پر ویرانی کا سماں ہے۔ دفاتر اور کاروبار کے لیے جانے والے لوگ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے ہیں۔ ہارون رشید: رات بارہ بجکر آٹھ منٹ پنجاب کی دیگر حصوں کی طرح اتوار کی شام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی پولیس نے مسلم لیگ نواز کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مار کر پندرہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس سے قبل مسلم لیگی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ان کے ڈھائی ہزار کارکن گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں گرفتار کیے جانے والے افراد کو قریبی مارگلہ تھانے میں رکھا گیا ہے تاہم پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری اعلی حکام کے حکم پر عمل میں آئی ہے۔ ان پر ابھی تک کوئی دفعہ بھی نہیں لگائی گئی ہے۔ مرکزی دفتر کے چوکیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس چھاپے میں جو بھی وہاں موجود تھا اسے حراست میں لے لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پندرہ میں سے پانچ افراد دفتر کا عملہ تھا جبکہ باقی مہمان تھے۔ تاہم گرفتار کیئے جانے والوں میں کوئی مرکزی رہنما نہیں۔ ادھر، راولپنڈی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسے پنجاب حکومت نے گرفتاریوں کے سلسلے میں کوئی ہدف نہیں دیا ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ شہر میں نافذ دفعہ ایک سو چوالیس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائِے گا۔ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر راولپنڈی عرفان الٰہی نے بتایا کہ میاں نوازشریف و شہباز شریف کی وطن واپسی کے موقع پر کسی بھی ممکنہ گڑبڑ سے نمٹنے کیلئے راولپنڈی انتظامیہ نے رینجرز، ایلیٹ فورس اور پنجاب کانسٹیبلری کی اضافی نفری طلب کر لی ہے تاکہ عوام کے جان و مال اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی سی او عرفان الٰہی نے کہا کہ مقامی سطح پر امن و امان کے قیام کیلئے راولپنڈی بھر میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے اپنا سیکورٹی پلان ترتیب دیدیا ہے جس پر وہ عمل پیرا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں پر مسلح اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جبکہ شہر میں آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے، شہر کے اندر ہر اہم چوک اور چوراہے سمیت حساس تنصیبات پر بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عرفان الٰہی نے کہا کہ ان کی طرف سے نہ تو فوج کو طلب کیا گیا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی ضرورت پیش آئے گی تاہم رینجرز اور ایلیٹ فورس سمیت دیگر پیرا ملٹری فورسز کو پولیس کی مدد کیلئے طلب کیا ہے۔ | اسی بارے میں جاوید ہاشمی، اہم رہنما گرفتار 10 September, 2007 | پاکستان پاسپورٹ امیگریشن کے حوالے کرنے سے انکار، نواز شریف اب لاؤنج میں10 September, 2007 | پاکستان ’ہمارے دو ہزار کارکن گرفتار‘09 September, 2007 | پاکستان نواز شریف، جی ٹی روڈ پر پراسرار خاموشی 09 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||