BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 September, 2007, 03:22 GMT 08:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاسپورٹ امیگریشن کے حوالے کرنے سے انکار، نواز شریف اب لاؤنج میں
اتوار کی شب اسلام آباد ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی سخت کردی گئی

لندن سے جلاوطن سابق وزیراعظم نواز شریف کو لیکر آنے والا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا طیارہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر لینڈ چکا ہے۔ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک طیارے میں رہنے کے بعد نواز شریف وی آئی پی لاؤنج پہنچ گئے ہیں۔ جب وہ طیارے پر تھے تو حکام نے ان سے ان کا پاسپورٹ مانگا تاکہ امیگریشن کے تقاضے پورے کیے جاسکیں۔ تاہم نواز شریف نے جہاز سے باہر آنے یا پاسپورٹ حکام کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔ ان کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں یا مسافروں میں سے کوئی بھی باہر نہیں آسکا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت راول لاؤنج میں موجود ہیں۔ ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور وہاں مسافروں کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔

خبررساں اداروں کے مطابق اعلیٰ حکومتی اہلکار نواز شریف سے گفت و شنید میں مصروف ہیں لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا انہیں کوئی پیشکش کی جا رہی ہے یا کسی بات کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے یا بات چیت کا محور کوئی اور آپشن ہے۔

موبائل فون کے ذریعے طیارے میں موجود افراد سے رابطہ ممکن نہیں ہو رہا ہے۔


نواز شریف کا طیارہ لینڈ کرنے سے پہلے سے ہی حکومت ان کے ساتھ رابطے کی کوشش میں ہے تاکہ انہیں دستیاب آپشنز بتائی جاسکیں۔ تاہم اب تک واضح نہیں کہ حکومت نے ان کے لیے کیا حکمت عملی تیار کی ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس چار پانچ آپشنز موجود ہیں۔ ان میں نظر بندی اور گرفتاری اور ڈی پورٹیشن اہم آپشنز بتائی جاتی ہیں۔ ہوائی اڈے میں موبائل کام نہیں کر رہے اور خیال ہے کہ انہیں جیم کر دیا گیا ہے۔

نواز شریف کی پاکستان آمد سے قبل پولیس نے مسلم لیگ نواز کے ان رہنماؤں کو گرفتار کر لیا جو مختلف ٹولیوں کی صورت میں ائرپورٹ جانا چاہتے تھے۔ پولیس نے راولپنڈی اور اسلام آباد ائرپورٹ کی طرف جانے والے دوسرے راستوں پر بھی مسلم لیگ کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کی۔ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے مقامی ٹیلی وژن چینل کو بتایا کہ پارٹی کے کئی اہم رہنما پولیس کی حراست میں ہیں۔

نواز شریف سات سال بعد پاکستان آئے ہیں۔ اسلام آباد پہنچنے پر سابق وزیراعظم نے رائٹرز کو بتایا: ’مجھے خوشی ہو رہی ہے۔ میں کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔‘ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق سفر کے دوران طیارے پر موجود نواز شریف کے حامی ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

پاکستان کے سکیورٹی حکام نے اتوار سے ہی اسلام آباد ایئرپورٹ کے علاقے کو ممنوعہ قرار دیدیا تھا اور ایئرپورٹ جانے والی تمام سڑکوں پر سکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔ صرف ایسے لوگوں کو ان راستوں سے ایئرپورٹ کی جانب دیا گیا جن کے پاس بیرون ملک سفر کے ٹکٹ موجود تھے۔

شہباز شریف کو پارٹی قیادت نے لندن رکنے کا مشورہ دیا ہے
اسلام آباد ایئرپورٹ کے قریب موجود ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی اتنی سخت ہے کہ پیر کی صبح سات بجے تک دور دور تک کوئی سیاسی کارکن دکھائی نہیں دیے۔

ایئرپورٹ کو جانے والی سڑکوں کو پولیس نے ٹرک کھڑا کرکے بلاک کردیا اور جگہ جگہ خاردار تار لگائے ہیں جبکہ ایئرپورٹ کے قریب والی عمارتوں پر رینجرز کے اہلکار تعینات ہیں۔ ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ایئرپورٹ کے اندر اور باہر پنجاب پولیس کے سینکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور ایئرپورٹ کی جانب جانے والی تمام سڑکوں کے ارد گرد پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔

یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ایئرپورٹ جانے والی سڑکوں پر شب کے بارہ بجے سے تعینات کیے جانے والے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہورہا تھا اور جگہ جگہ بکتر بند گاڑیں موجود تھیں۔

اتوار کی شام سابق وزیراعظم نواز شریف لندن کے ہییتھرو ہوائی اڈے سے پی آئی اے کی فلائٹ 786 سے روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے بھائی شہباز شریف کو بھی پاکستان جانا تھا لیکن آخری وقت میں بتایا گیا کہ وہ پارٹی قیادت کے مشورے پر پاکستان نہیں جارہے ہیں۔

شہباز شریف نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو پاکستان جانے کے لیے بے چین تھے لیکن پارٹی رہنما نے انہیں آخری وقت کہا ہے کہ وہ ابھی نہ جائیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس لیے شہباز شریف اور اسحاق ڈار طیارے میں سوار نہیں ہوئے تھے۔

نواز شریف طیارے کے اندر
نواز شریف کا طیارہ مقررہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوا تھا اور حکام نے اس کا سبب کسی مسافر کی ناساز طبیعت بتایا تھا۔ ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچنے پر نواز شریف کے استقبال کو سینکڑوں سیاسی کارکن موجود تھے۔ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ نواز شریف گلف ایئرلائنز سے مسقط کے ذریعے پاکستان جائیں گے لیکن آخری لمحات میں یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سے سفر کرنا بہتر سمجھا۔

ان کے ہمراہ جانےوالے صحافیوں نے بتایا کہ جلاوطن وزیراعظم کے لئے پاکستان کے سرکاری طیارے پر ایک عرصے کے بعد سفر کرنا جذباتی موقع تھا۔ نواز شریف دسمبر سنہ دو ہزار میں سعودی حکومت کی مداخلت کے نتیجے میں ایک ’معاہدے‘ کے تحت اپنے تمام خاندان سمیت جدہ چلے گئے تھے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت نواز شریف دس سال تک پاکستان میں سیاست کر سکتے ہیں نہ واپس آ سکتے ہیں۔ تاہم نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ مدت دس سال کی نہیں بلکہ پانچ برس کی تھی جو پوری ہو چکی ہے۔

ہیتھرو سے روانہ ہونے سے قبل خود سابق وزیرِاعظم نے یہ عندیہ نہیں دیا ہے کہ اگر انہیں وطن واپس جانے دیا جاتا ہے تو انتخابی مہم کے علاوہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کس نوعیت کی ہوگی۔ وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی گزشتہ چند دنوں میں یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت اعلانات کی بجائے نواز شریف کے کسی عملی اقدام پر ردِ عمل کا اظہار کرے گی۔

نواز شریفنواز واپسی اور سندھ
سندھیوں کو پنجاب کے ردعمل کا انتظار
جھنڈے، بینرز غائب
آمد سےقبل، جی ٹی روڈ پر پراسرار خاموشی
’زیرو سم گیم‘
فوج سے شراکتِ اقتدار کی کڑوی گولی
ہیتھرو سے پرواز
ہیتھرو ایئرپورٹ سے نواز شریف کی پرواز
نواز شریفایک نیا نواز شریف
’والد کی وفات کے بعد وہ پھر لڑائی کیلیے تیار تھے‘
اردو اخبار نوائے وقت کے مدیر اعلیٰ مجید نظامیمجید نظامی کا مشورہ
’نواز شریف وطن واپس آئیں جیل سے نہ ڈریں ‘
نواز شریف آمد کی تیاریاں اور گرفتاریاںسیاسی ہلچل
نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں اور گرفتاریں
اسی بارے میں
شریف فیملی کیسز، سماعت ملتوی
07 September, 2007 | پاکستان
’پاکستان میں اب صرف گیدڑ‘
05 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد