پاسپورٹ امیگریشن کے حوالے کرنے سے انکار، نواز شریف اب لاؤنج میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن سے جلاوطن سابق وزیراعظم نواز شریف کو لیکر آنے والا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا طیارہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر لینڈ چکا ہے۔ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک طیارے میں رہنے کے بعد نواز شریف وی آئی پی لاؤنج پہنچ گئے ہیں۔ جب وہ طیارے پر تھے تو حکام نے ان سے ان کا پاسپورٹ مانگا تاکہ امیگریشن کے تقاضے پورے کیے جاسکیں۔ تاہم نواز شریف نے جہاز سے باہر آنے یا پاسپورٹ حکام کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔ ان کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں یا مسافروں میں سے کوئی بھی باہر نہیں آسکا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت راول لاؤنج میں موجود ہیں۔ ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور وہاں مسافروں کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اعلیٰ حکومتی اہلکار نواز شریف سے گفت و شنید میں مصروف ہیں لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا انہیں کوئی پیشکش کی جا رہی ہے یا کسی بات کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے یا بات چیت کا محور کوئی اور آپشن ہے۔ موبائل فون کے ذریعے طیارے میں موجود افراد سے رابطہ ممکن نہیں ہو رہا ہے۔ نواز شریف کا طیارہ لینڈ کرنے سے پہلے سے ہی حکومت ان کے ساتھ رابطے کی کوشش میں ہے تاکہ انہیں دستیاب آپشنز بتائی جاسکیں۔ تاہم اب تک واضح نہیں کہ حکومت نے ان کے لیے کیا حکمت عملی تیار کی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس چار پانچ آپشنز موجود ہیں۔ ان میں نظر بندی اور گرفتاری اور ڈی پورٹیشن اہم آپشنز بتائی جاتی ہیں۔ ہوائی اڈے میں موبائل کام نہیں کر رہے اور خیال ہے کہ انہیں جیم کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف کی پاکستان آمد سے قبل پولیس نے مسلم لیگ نواز کے ان رہنماؤں کو گرفتار کر لیا جو مختلف ٹولیوں کی صورت میں ائرپورٹ جانا چاہتے تھے۔ پولیس نے راولپنڈی اور اسلام آباد ائرپورٹ کی طرف جانے والے دوسرے راستوں پر بھی مسلم لیگ کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کی۔ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے مقامی ٹیلی وژن چینل کو بتایا کہ پارٹی کے کئی اہم رہنما پولیس کی حراست میں ہیں۔ نواز شریف سات سال بعد پاکستان آئے ہیں۔ اسلام آباد پہنچنے پر سابق وزیراعظم نے رائٹرز کو بتایا: ’مجھے خوشی ہو رہی ہے۔ میں کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔‘ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق سفر کے دوران طیارے پر موجود نواز شریف کے حامی ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ پاکستان کے سکیورٹی حکام نے اتوار سے ہی اسلام آباد ایئرپورٹ کے علاقے کو ممنوعہ قرار دیدیا تھا اور ایئرپورٹ جانے والی تمام سڑکوں پر سکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔ صرف ایسے لوگوں کو ان راستوں سے ایئرپورٹ کی جانب دیا گیا جن کے پاس بیرون ملک سفر کے ٹکٹ موجود تھے۔
ایئرپورٹ کو جانے والی سڑکوں کو پولیس نے ٹرک کھڑا کرکے بلاک کردیا اور جگہ جگہ خاردار تار لگائے ہیں جبکہ ایئرپورٹ کے قریب والی عمارتوں پر رینجرز کے اہلکار تعینات ہیں۔ ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ایئرپورٹ کے اندر اور باہر پنجاب پولیس کے سینکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور ایئرپورٹ کی جانب جانے والی تمام سڑکوں کے ارد گرد پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ایئرپورٹ جانے والی سڑکوں پر شب کے بارہ بجے سے تعینات کیے جانے والے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہورہا تھا اور جگہ جگہ بکتر بند گاڑیں موجود تھیں۔ اتوار کی شام سابق وزیراعظم نواز شریف لندن کے ہییتھرو ہوائی اڈے سے پی آئی اے کی فلائٹ 786 سے روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے بھائی شہباز شریف کو بھی پاکستان جانا تھا لیکن آخری وقت میں بتایا گیا کہ وہ پارٹی قیادت کے مشورے پر پاکستان نہیں جارہے ہیں۔ شہباز شریف نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو پاکستان جانے کے لیے بے چین تھے لیکن پارٹی رہنما نے انہیں آخری وقت کہا ہے کہ وہ ابھی نہ جائیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس لیے شہباز شریف اور اسحاق ڈار طیارے میں سوار نہیں ہوئے تھے۔
ان کے ہمراہ جانےوالے صحافیوں نے بتایا کہ جلاوطن وزیراعظم کے لئے پاکستان کے سرکاری طیارے پر ایک عرصے کے بعد سفر کرنا جذباتی موقع تھا۔ نواز شریف دسمبر سنہ دو ہزار میں سعودی حکومت کی مداخلت کے نتیجے میں ایک ’معاہدے‘ کے تحت اپنے تمام خاندان سمیت جدہ چلے گئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت نواز شریف دس سال تک پاکستان میں سیاست کر سکتے ہیں نہ واپس آ سکتے ہیں۔ تاہم نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ مدت دس سال کی نہیں بلکہ پانچ برس کی تھی جو پوری ہو چکی ہے۔ ہیتھرو سے روانہ ہونے سے قبل خود سابق وزیرِاعظم نے یہ عندیہ نہیں دیا ہے کہ اگر انہیں وطن واپس جانے دیا جاتا ہے تو انتخابی مہم کے علاوہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کس نوعیت کی ہوگی۔ وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی گزشتہ چند دنوں میں یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت اعلانات کی بجائے نواز شریف کے کسی عملی اقدام پر ردِ عمل کا اظہار کرے گی۔ |
اسی بارے میں ’نواز کو واپس نہیں آنا چاہیئے‘08 September, 2007 | پاکستان شریف فیملی کیسز، سماعت ملتوی07 September, 2007 | پاکستان ’نواز شریف جیل جانے سے نہ ڈریں‘08 September, 2007 | پاکستان لاہور کے گول گپے، شریف کے منتظر09 September, 2007 | پاکستان تمام ہوائی اڈوں پر ’ریڈ الرٹ‘ 08 September, 2007 | پاکستان ’معاہدہ صرف پانچ سال کے لیے تھا‘08 September, 2007 | پاکستان ’پاکستان میں اب صرف گیدڑ‘ 05 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||