BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 September, 2007, 01:53 GMT 06:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھٹواورضیاء کےجانشین، کون کس راستے پر؟

نواز شریف کی آمد کے منتظر عوام
پاکستانی سیاست کے گدلے پانیوں میں ایک بار پھر تلاطم برپا ہے، فوج اپنے اقتدار کو دوام دینا چاہتی ہے، اس کے ہاتھوں تختۂ دار پر لٹکنے والے ’قائدِ عوام‘ کی بیٹی شراکت اقتدار کے لیے جرنیلوں سے مذاکرات شروع کیے ہوئے ہے اور جنرل ضیاء کی انگلی پکڑ کر سیاسی سفر کا آغاز کرنے والا ان کے جانشین کو للکارتے ہوئے جلاوطنی ختم کر کے دس ستمبر کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترنے کا اعلان کر چکا ہے۔

نواز شریف کی واپسی روکنے کے لیے جنرل مشرف کی حکومت کو آخری کوشش کے طور پر سعودی عرب کے انٹیلیجنس چیف پرنس مقرن بن عبدالعزیز اور مقتول لبنانی وزیراعظم رفیق الحریری کے بیٹے سعد حریری کو پاکستان بلانا پڑا تاکہ وہ پاکستانی عوام کو اس معاہدے کے بارے میں آگاہ کر سکیں جس کے تحت انہیں سال دو ہزار دس سے پہلے وطن واپس نہیں آنا چاہیے۔

جنرل مشرف اور نواز شریف کے درمیان سال دو ہزار میں ہونے والے مافیا طرز کے اس معاہدے کے امریکہ نواز ضامنوں کے اس طرح پاکستان دوڑے چلے آنے سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی معاملات میں حرف آخر کی حیثیت رکھنے والی موجودہ دنیا کی واحد عالمی طاقت نہیں چاہتی کہ نواز شریف مستقبل کے اس سیاسی منظر میں بگاڑ پیدا کریں جو وہ جنرل مشرف اور بےنظیر بھٹو کے اشتراک سے ترتیب دینا چاہتی ہے۔

’زیرو سم گیم‘
 معاملات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے اور ’زیرو سم گیم‘ جاری رہے گی جب تک کہ سیاستدان یا تو فوج سے شراکت اقتدار کو کڑوی گولی کی طرح نگل نہیں لیتے یا پھر متحد ہو کر اسے بیرکوں میں واپس نہیں دھکیلتے۔
بےنظیر بھٹو ابتداء میں تو نواز شریف کی واپسی کے منصوبوں کا خوشدلی کے ساتھ خیرمقدم کرتی نظر آئیں، لیکن جوں جوں دس ستمبر کا دن قریب آتا گیا ان کے لب و لہجے میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی۔ اپنے ایک تازہ انٹرویو میں انہوں نے نواز شریف کو جنرل ضیاء کا سیاسی بیٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ رجعت پسند عناصر ایک بار پھر ان کے مقابلے میں آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کو متحرک کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا اشارہ غالباً آل پاکستان ڈیموکریٹک ایلائنس یعنی اے پی ڈی ایم کی طرف تھا جس میں نواز شریف کے ساتھ قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن بھی شامل ہیں۔ تاہم یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ بےنظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دوسرے دور میں مولانا فضل الرحمٰن نہ صرف قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ بنائے گئے بلکہ اسی دور میں طالبان نے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا۔

دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ اور پاکستان کے اس میں کردار کو سامنے رکھتے ہوئے نواز شریف کا سخت گیر دینی جماعتوں کا اتحادی ہونا انہیں مستقبل قریب کے اس سیاسی منظرنامے میں غیر موزوں کرتا ہوا نظر آتا ہے جس کی تفصیلات امریکہ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں طے کی جا رہی ہیں۔

نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے مبصرین کی رائے تقسیم ہے۔ کچھ اسے پاکستان میں جمہوری جدوجہد کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں تو بعض اسے سیاسی مہم جوئی سے تعبیر کر رہے ہیں، جس کا نتیجہ بقول ان کے ایمرجنسی یا باقاعدہ مارشل لاء کی شکل میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔لیکن ایک چیز واضح ہے کہ نواز شریف اپنی جماعت کے کارکنوں کو اس وقت متحرک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جب پاکستان کے جمہوریت پسند حلقوں میں پیپلز پارٹی کی ’مفاہمتی سیاست‘ کی وجہ سے کچھ مایوسی سی پھیلی ہوئی تھی۔

لیکن بےنظیر بھٹو ایسا پہلی بار نہیں کر رہیں۔

نواز شریف نے اتوار کی شب ہیتھرو ایئرپورٹ سے پرواز بھری
سنہ انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی واحد اکثریتی جماعت کے طور پر تو سامنے آئی تھی لیکن مرکز میں حکومت بنانے کے لیے اسے مطلوبہ عددی برتری حاصل نہیں تھی۔ جنرل ضیاء کو طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے کچھ ماہ ہی ہوئے تھے، سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان قائم مقام صدر کے طور پر کام کر رہے تھے اور امورِ ریاست بالواسطہ طور پر جی ایچ کیو سے ہی چلائے جا رہے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور جمہوریت کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی قربانیوں سے خوفزدہ پاکستان کے طاقتور حلقے بےنظیر بھٹو کو حکومت بنانے کی دعوت دینے میں پس و پیش سے کام لے رہے تھے اور ملک کے جمہوری حلقے انہیں (بےنظیر کو) ایسے میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ بےنظیر بھٹو کو حکومت بنانے کی دعوت دے دی گئی اور جواب میں پیپلز پارٹی نے غلام اسحاق خان کو صدر منتخب کرایا اور وزارت خارجہ سمیت کئی اہم وزارتیں ’ّڈیل‘ کے نتیجے میں پاکستان کے مستقل حکمرانوں کے کہنے پر ان لوگوں کے حوالے کر دی گئیں جو ضیاء دور میں بھی حکومت کا حصہ تھے۔

دوسری طرف فوج کی مدد سے سیاسی قدم بھرنے اور اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے والے نواز شریف نے حکومت میں فوج کے مستقل کردار کی بات کرنے والے ایک آرمی چیف، جنرل جہانگیر کرامت، سے استعفیٰ لیا اور ان کی جگہ لینے والے جنرل پرویز مشرف کو وزیراعظم کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے برطرف کیا، جس کے نتیجے میں انہیں فوجی بغاوت، قید اور پھر ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا۔

جنرل جہانگیر کرامت نے خاموشی کے ساتھ استعفیٰ دے کر ایک واشگاف پیغام دیا تھا کہ اقتدار میں حصہ وہ نہیں بلکہ فوج بحیثیت ادارہ چاہتی ہے۔

جنرل مشرف اگر آنے والے دنوں میں کسی ’ڈیل‘ کے نتیجے میں چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑ دیتے ہیں تو وقتی طور پر شاید کامیابی کے شادیانے سننے کو ملیں، لیکن جلد ہی یہ حقیقت عیاں ہوجائے گی کہ فوج کے ’کولیکٹو بارگینگ ایجنٹ‘ اب مشرف نہیں بلکہ ان کی جگہ بننے والے نئے آرمی چیف ہیں۔

معاملات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے اور ’زیرو سم گیم‘ جاری رہے گی جب تک کہ سیاستدان یا تو فوج سے شراکت اقتدار کو کڑوی گولی کی طرح نگل نہیں لیتے یا پھر متحد ہو کر اسے بیرکوں میں واپس نہیں دھکیلتے۔

نواز شریف آمد کی تیاریاں اور گرفتاریاںسیاسی ہلچل
نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں اور گرفتاریں
ہیتھرو سے پرواز
ہیتھرو ایئرپورٹ سے نواز شریف کی پرواز
نواز شریف’فائدہ نواز شریف کا‘
’قیدی نواز شریف زیادہ خطرناک ثابت ہوگا‘
پاکستانی پریس جلاوطنی کا معاہدہ
کیا بلی تھیلے سے باہر آ گئی؟ پاکستانی اخبارات
نواز شریف کے منتظر
لاہور کے گول گپے، ریڑھی والے، ہریسہ فروش
جھنڈے، بینرز غائب
آمد سےقبل، جی ٹی روڈ پر پراسرار خاموشی
اردو اخبار نوائے وقت کے مدیر اعلیٰ مجید نظامیمجید نظامی کا مشورہ
’نواز شریف وطن واپس آئیں جیل سے نہ ڈریں ‘
اسی بارے میں
’ایک نیا نواز شریف‘
08 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد