نواز شریف ایک بار پھر جلا وطن، جدہ منتقل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف جو سات سال تک جلاوطن رہنے کے بعد پیر کی صبح پی آئی اے کی ایک پرواز کے ذریعے لندن سے اسلام آباد پہنچے تھے، انہیں ایک بار پھر سعودی عرب واپس بھیج دیا گیا۔ نواز شریف کا خصوصی طیارہ جب جدہ ائر پورٹ پر اترا تو انہیں جدہ میں شریف خاندان کی ذاتی رہائش گاہ ’شریف محل‘ میں منتقل کر دیا گیا۔ نواز شریف کی جلا وطنی پر ملک کی کئی سیاسی جماعتوں نے اظہارِ مذمت کیا ہے اور منگل کو ہڑتال کی کال اور وکلاء کی جانب سے عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ نواز شریف اپنی مرضی سے واپس سعودی عرب گئے ہیں جبکہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجازالحق کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا پاسپورٹ اب سعودی حکام کے پاس رہے گا کیونکہ وہ ایک معاہدے کے پابند ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ ’یہ سعودی عرب کے ڈکٹیٹر بادشاہ کی دوسرے ملک کے آمر کی مدد ہے۔‘ پیر کی صبح جب نواز شریف کا طیارہ اسلام آباد پہنچا تو سعودی عرب اور پاکستان کے حکام پر مشتمل وفد نے میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور ڈیڑھ گھنٹے سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد وہ طیارے سے باہر آئے۔ جہاز میں نواز شریف اور حکام کے درمیان تقریباً نوے منٹ تک مذاکرات ہوئے جہاں سابق وزیرِ اعظم سے ان کا پاسپورٹ بھی طلب کیا گیا لیکن انہوں نے اپنا پاسپورٹ حکام کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں انہیں راول لاؤنج میں لایا گیا جہاں نیب کے ایک اہلکار نے کرپشن کے ایک مقدمے میں انہیں گرفتاری کا وارنٹ دکھایا جو نواز شریف نے واپس کر دیا۔
اس سے قبل جب جہاز اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر پہنچا تو نواز شریف نے مختصر بات چیت میں کہا: ’اپنی سرزمین پر پہنچ کر مجھے وہ خوشی ہو رہی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔انہوں نے تمام سیاسی قوتوں کو پیغام دیا کہ وہ مل جل کر جمہوریت کی بحالی کے لیے کام کریں‘۔ ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق ایئرپورٹ کے اطراف میں سکیورٹی انتہائی سخت رہی اور وہاں مسافروں کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ادھر مسلم لیگ نواز گروپ نے سپریم کورٹ میں آئین کی دفعہ دو سو چار کے تحت حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی پیٹیشن بھی دائر کر دی تھی۔ پٹیشن میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ نواز شریف کی پاکستان آمد میں کوئی رکاوٹیں نہ پیدا کی جائیں لیکن حکومت نے اس حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس سے قبل نواز شریف کی وطن آمد کے کچھ دیر بعد وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس چار پانچ آپشنز موجود ہیں ان میں نظر بندی اور گرفتاری اور ڈی پورٹیشن اہم آپشنز ہیں۔
نواز شریف کی پاکستان آمد سے قبل پولیس نے مسلم لیگ نواز کے ان رہنماؤں کو گرفتار کر لیا جو مختلف ٹولیوں کی صورت میں ائرپورٹ جانا چاہتے تھے۔ پولیس نے راولپنڈی اور اسلام آباد ائرپورٹ کی طرف جانے والے دوسرے راستوں پر بھی مسلم لیگ کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کی۔ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے مقامی ٹیلی وژن چینل کو بتایا کہ پارٹی کے کئی اہم رہنما پولیس کی حراست میں ہیں۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق سفر کے دوران طیارے پر موجود نواز شریف کے حامی ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ پاکستان کے سکیورٹی حکام نے اتوار سے ہی اسلام آباد ایئرپورٹ کے علاقے کو ممنوعہ قرار دیدیا تھا اور ایئرپورٹ جانے والی تمام سڑکوں پر سکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔ صرف ایسے لوگوں کو ان راستوں سے ایئرپورٹ کی جانب دیا گیا جن کے پاس بیرون ملک سفر کے ٹکٹ موجود تھے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ کے قریب موجود ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ علاقے میں سکیورٹی اتنی سخت تھی کہ پیر کی صبح سات بجے تک دور دور تک کوئی سیاسی کارکن دکھائی نہیں دیئے۔
ایئرپورٹ کو جانے والی سڑکوں کو پولیس نے ٹرک کھڑا کرکے بلاک کردیا تھا اور جگہ جگہ خاردار تار لگائے تھے جبکہ ایئرپورٹ کے قریب والی عمارتوں پر رینجرز کے اہلکار تعینات تھے۔ ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے اندر اور باہر پنجاب پولیس کے سینکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور ایئرپورٹ کی جانب جانے والی تمام سڑکوں کے ارد گرد پولیس کے اہلکار تعینات تھے۔ اتوار کی شام سابق وزیراعظم نواز شریف لندن کے ہییتھرو ہوائی اڈے سے پی آئی اے کی فلائٹ 786 سے روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے بھائی شہباز شریف کو بھی پاکستان جانا تھا لیکن آخری وقت میں بتایا گیا کہ وہ پارٹی قیادت کے مشورے پر پاکستان نہیں جارہے ہیں۔ شہباز شریف نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو پاکستان جانے کے لیے بے چین تھے لیکن پارٹی رہنما نے انہیں آخری وقت کہا ہے کہ وہ ابھی نہ جائیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس لیے شہباز شریف اور اسحاق ڈار طیارے میں سوار نہیں ہوئے تھے۔
نواز شریف کا طیارہ مقررہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے لندن روانہ ہوا اور حکام نے اس کا سبب کسی مسافر کی ناساز طبیعت بتایا تھا۔ ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچنے پر نواز شریف کے استقبال کے لیے سینکڑوں سیاسی کارکن موجود تھے۔ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ نواز شریف گلف ایئرلائنز سے مسقط کے ذریعے پاکستان جائیں گے لیکن آخری لمحات میں یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سے سفر کرنا بہتر سمجھا۔ ان کے ہمراہ جانےوالے صحافیوں نے بتایا کہ جلاوطن وزیراعظم کے لئے پاکستان کے سرکاری طیارے پر ایک عرصے کے بعد سفر کرنا جذباتی موقع تھا۔ نواز شریف دسمبر سنہ دو ہزار میں سعودی حکومت کی مداخلت کے نتیجے میں ایک ’معاہدے‘ کے تحت اپنے تمام خاندان سمیت جدہ چلے گئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت نواز شریف دس سال تک پاکستان میں سیاست کر سکتے ہیں نہ واپس آ سکتے ہیں۔ تاہم نواز شریف کا کہنا ہے کہ یہ مدت دس سال کی نہیں بلکہ پانچ برس کی تھی جو پوری ہو چکی ہے۔ ہیتھرو سے روانہ ہونے سے قبل خود سابق وزیرِاعظم نے یہ عندیہ نہیں دیا ہے کہ اگر انہیں وطن واپس جانے دیا جاتا ہے تو انتخابی مہم کے علاوہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کس نوعیت کی ہوگی۔ وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی گزشتہ چند دنوں میں یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت اعلانات کی بجائے نواز شریف کے کسی عملی اقدام پر ردِ عمل کا اظہار کرے گی۔ |
اسی بارے میں ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا10 September, 2007 | پاکستان ’نواز کو واپس نہیں آنا چاہیئے‘08 September, 2007 | پاکستان ’ہمارے دو ہزار کارکن گرفتار‘09 September, 2007 | پاکستان شریف فیملی کیسز، سماعت ملتوی07 September, 2007 | پاکستان ’نواز شریف جیل جانے سے نہ ڈریں‘08 September, 2007 | پاکستان لاہور کے گول گپے، شریف کے منتظر09 September, 2007 | پاکستان تمام ہوائی اڈوں پر ’ریڈ الرٹ‘ 08 September, 2007 | پاکستان ’معاہدہ صرف پانچ سال کے لیے تھا‘08 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||