عباس نقوی کراچی |  |
 |   اُنیس سو چھیاسی میں جب وہ پاکستان پہنچیں تو ان کا بھر پور استقبال ہوا۔ اس کے صرف دو سال کے عرصے کے بعد ہی اُن کی پارٹی نے ملک بھر میں کامیابی حاصل کی اور انہیں اُنیس سو اٹھاسی میں ملک کی پہلی خاتوں وزیرِاعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔  |
پاکستان میں دو بار وزیرِاعظم بننے والی بے نظیر بھٹو کے آنے کی خبریں پوری طرح گرم بھی نہیں ہو پائی تھیں کہ یہ اعلان آ گیا کے وہ اٹھارہ اکتوبر کو واپس آنے کا طے کر چکی ہیں۔ انہوں نے عملی سیاست کا آغاز اُنیس سو چھیاسی سے کیا تھا اور اس سال جب وہ پاکستان پہنچیں اور عوام نے اُن کا بھرپور استقبال کیا۔ اس کے صرف دو سال کے عرصے کے بعد ہی اُن کی پارٹی نے ملک بھر سے کامیابی حاصل کی اور انہیں اُنیس سو اٹھاسی میں ملک کی پہلی خاتوں وزیرِاعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ مگر صرف بیس ماہ بعد اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خاں نے ان کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ سنہ اُنیس سو ترانوے کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو اور اُن کی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر کامیابی حاصل کرلی اور وہ دوبارہ وزیرِاعظم کے منصب پر فائز ہوئیں اس بار اُنہیں تین سال تک حکومت کرنے کا موقع ملا تاہم سنہ اُنیس سو چھیانوے میں ایک بار پھر بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کردی گئی اس بار یہ کام صدر فاروق لغاری نے کیا جو ان کی اپنی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ بے نظیر بھٹو کی دونوں حکومتوں کی برطرفی آٹھویں ترمیم کے ذریعے ہوئی اور دونوں بار اس کا جواز کرپشن کے الزامات نے فراہم کیا، انہی الزامات کے تحت بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو آٹھ برس تک جیل میں رہنا پڑا۔  |   بے نظیر بھٹو کی دونوں حکومتوں کی برطرفی آٹھویں ترمیم کے ذریعے ہوئی اور دونوں بار اس کا جواز کرپشن کے الزامات نے فراہم کیا، انہی الزامات کے تحت بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو آٹھ برس تک جیل میں رہنا پڑا  |
دوسرے دورِ حکومت میں بے نظیر بھٹو کو ایک بڑا دھچکا اُن کے بھائی اور سیاسی حریف میر مرتضی بھٹو کے قتل کی صورت میں لگا۔ میر مرتضی بھٹو کو ستمبر اُنیس سو چھیانوے میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں اُن کے گھر کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔میر مرتضی بھٹو کے قتل کے کچھ عرصے بعد بے نظیر کی حکومت دوسری بار برطرف ہوئی اور اُنہون نے جلاوطنی اختیار کر لی جو اب تک جاری ہے۔ رواں سال کے وسط میں بے نظیر بھٹو اور موجودہ فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان شراکتِ اقتدار کے بالواسطہ اور بلاواسطہ رابطوں اور مذاکرات کی خبریں سامنے آئیں تاہم دونوں ہی نے اِن مذاکرات کی مکمل تردید یا تصدیق نہیں کی گئی۔ |