بینظیر سے رابطے، وزراء کے تحفظات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کچھ وفاقی وزراء نے پیپلز پارٹی سے ڈیل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعتماد میں نہ لیے جانے کا شکوہ کیا ہے۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بعض وزراء کی جانب سے پیپلز پارٹی سے ڈیل پر خدشات ظاہر کرنے کی تو تصدیق کی لیکن یہ دعویٰ بھی کیا کہ وزیراعظم نے وزراء کو تفصیلی بریفنگ دی جس کے بعد وہ مطمئن ہوگئے۔ ایک وزیر جو اجلاس میں شریک تھے، انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ متحدہ قومی موومینٹ یعنی ایم کیو ایم کے نمائندوں نے وزیراعظم سے شکوہ کیا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ ان کے مطابق صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر نے کہا کہ ’ہم اپنے حلقوں میں پیپلز پارٹی سے انتخاب جیت کر آئے ہیں اور اگر اب ڈیل ہوگی تو پارٹی کو نقصان ہوگا،۔ جس پر انہیں وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات شفاف ہوں گے اور مسلم لیگ جماعت کی صورت میں انتخابات میں حصہ لے گی۔ نیوز بریفنگ میں وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اجلاس میں حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے آئندہ صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر جنرل پرویز مشرف کو اپنا متفقہ امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ صدر کا انتخاب کب اور کِن اسمبلیوں سے عمل میں آئے گا؟۔ نیوز بریفنگ میں دو صفحات پر مشتمل ایک بیان بھی تقسیم کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اجلاس کو قومی مفاہمت کے لیے سیاسی جماعتوں سے حکومتی رابطوں کی تفصیل بتائی۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے دیگر جماعتوں سے تعاون پر بات ہورہی ہے۔ نیوز بریفنگ میں نواز شریف کی وطن واپسی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کے ترجمان کا بیان واضح ہے کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفرالحق کی جانب سے حکومت پر نواز شریف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے بیان کو انہوں نے مسترد کیا اور کہا کہ وہ غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں۔ دبئی میں بینظیر بھٹو سے ملاقات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الوقت کوئی دبئی نہیں جا رہا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سیاسی جماعتوں سے بات چیت غیر سیاسی شخصیات کیوں کر رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ کسی بھی فریق سے بات چیت کا اختیار افراد کے پاس ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں چودھری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین بھی شریک ہوئے۔ جب ان سے اعتماد میں نہ لیے جانے کے متعلق چودھری شجاعت سے منسوب بیان کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے جواب گول کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں وہ ایک روز پہلے بول چکے ہیں۔ | اسی بارے میں پیش رفت مثبت ہے: صدراتی ترجمان04 September, 2007 | پاکستان نواز شریف واپس نہ جائیں: سعودی عرب04 September, 2007 | پاکستان صدر کا عہدہ کب ختم ہو رہا ہے:عدلیہ کااستفسار05 September, 2007 | پاکستان بینظیر درخواست: دو وزراء کو نوٹس05 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||