پیش رفت مثبت ہے: صدراتی ترجمان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی تاحیات چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے ساتھ تین رکنی حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہونے کی ایوان صدر نے تصدیق کر دی ہے۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف کے ترجمان میجر جنرل (ریٹائرڈ) راشد قریشی نے کہا کہ دبئی میں یہ مذاکرات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ صدارتی ترجمان نے پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی سے براہ راست مذاکرات کا اعتراف کیا ہے بلکہ انہوں نے اس میں مثبت پیش رفت کی بھی تصدیق کی ہے۔ تاہم دبئی میں طے پانے والے معاملات پر صدارتی ترجمان نے تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک معاملات پر حتمی اتفاقِ رائے نہیں ہوجاتا کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ گزشتہ ہفتے بے نظیر بھٹو نے لندن میں تین امور، پارلیمنٹ کی بلادستی، صدر اور وزیر اعظم کے انتخاب کی نشاندھی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر حکومت کی مذاکراتی ٹیم سے بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔ راشد قریشی نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ یہ مذاکرات ابھی کتنے اور دن چلتےہیں۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ایک عرصے سے مذاکرات جاری ہیں اور اس سلسلے میں جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ابو ظہبی میں براہ راست ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ اس ملاقات کو پہلے دونوں جانب سے خفیہ رکھنے کی کوششیں کی جاتی رہی لیکن بعد میں دونوں نے اس ملاقات کا اعتراف کر لیا تھا۔ صدر مشرف کے معتمدِ خاص طارق عزیز اور پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بےنظیر بھٹو کے درمیان دبئی میں منگل کو مذاکرات کا ایک دور ہوا۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ان مذاکرات کے بارے میں کہا کہ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر تو اتفاق ہوگیا ہے لیکن ایوان صدر اور پارلیمان کے درمیان طاقت کے توازن پر معاملات ابھی طے نہیں ہو پائے۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ فریقین نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ دریں اثناء پیپلز پارٹی نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے نائب چیئرمین مخدو امین فہیم اور سکیورٹی امور کے مشیر ڈاکٹر رحمنٰ ملک نے بھی منگل کو دبئی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی ہے۔ لندن میں گزشتہ ہفتے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اطلاعات کے مطابق صدر کے پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز، خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ اشفاق کیانی اور لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حامد نواز شامل تھے۔ | اسی بارے میں نواز واپسی، پیپلز پارٹی کا خیرمقدم31 August, 2007 | پاکستان لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کا اہم اجلاس 31 August, 2007 | پاکستان ’مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے‘01 September, 2007 | پاکستان ’بینظیر کے لیے دروازے کھلے ہیں‘02 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||