پرانی اسمبلی سے نیا صدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اس ہفتے سب سے اہم اور بڑا واقعہ وہ قرار دیا جارہا ہے جومیری نظر میں انتہائی غیراہم اور معمولی ہے۔میرا مطلب صدارتی انتخاب کے شیڈول سے ہے جس کا اعلان گزشتہ دنوں کیا گیا۔ کون نہیں جانتا تھا کہ یہ انتخاب کرائے جانے والے ہیں اور ویسے ہی کرائے جانے والے ہیں جیسے کہ کرائے جارہے ہیں، میرے نزدیک یہ واقعہ اس وقت اہم ہوتا جب یہ انتخاب عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے کرائے جاتے، لیکن پاکستان میں جمہوری طور طریقوں کو اپنی ضرورت کے مطابق توڑنے مروڑنے کی روایت اتنی پختہ ہوگئی ہے کہ اس سے انحراف اگر کوئی چاہے بھی تو ممکن نہیں۔ بد قسمتی سےپاکستان میں صدر کے عہدے کو وہی اہمیت حاصل ہے جو آزادی سے پہلے وائسرے ہند کو حاصل تھی۔ صرف فرق یہ ہے کہ وائسرے ہندوستان میں مطلق العنان ہونے کے باوجود برطانیہ کی منتخب حکومت کو جوابدہ ہوتا تھا ، پاکستان میں صدر مطلق العنان تو ہے لیکن کسی کو جوابدہ نہیں ہے، وہ جو دل چاہے اور جب دل چاہے، کرسکتا ہے۔عوام کی منتخب حکومتیں توڑسکتا ہے، پارلیمان اور اسمبلیاں برخاست کرسکتا ہے، آئین میں اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق ترامیم کرسکتا ہے اور جو کام خود نہیں کرسکتا ہے وہ دوسروں سے کراسکتا ہے، اس عہدے سے نہ اس کو کوئی علیحدہ کرسکتا ہے نہ وہ خود ہوتا ہے، اگر اس کی مدت پوری ہوجائے تو اسے بڑھا لیتا ہے اور اسوقت تک بڑھاتا رہتا ہے جب تک حالات خود اسکو نہ بڑھا دیں۔ حزبِ اختلاف کی دھمکی
اس اتحاد میں پیپلز پارٹی شامل نہیں ہے لیکن جو شامل ہیں ان میں سے بھی بعض گومگو کی کیفیت میں مبتلاء نظر آتی ہیں، باالخصوص جمعیت العلماء اسلام، اس کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ انہیں استعفیٰ کی تاریخ کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اتحاد کی قیادت انہیں مقررہ تاریخ سے پہلے پہلے اعتماد میں لے لیگی ورنہ استعفے کی دھمکیوں کا وہی حشر ہوگا جو پہلے ہوتا آیا ہے۔ حکمراں اتحاد میں اختلاف ادھر حکمراں مسلم لیگ میں چوہدری برادران سے اختلافات کا سلسلہ تو بہت پہلے سے جاری ہے ، جسکا اظہار سابق وزیراعظم جناب ظفراللہ جمالی اور پیر صاحب پگاڑا کی جانب سے وقتاًفوقتاً کیا جاتا رہا ہے لیکن اب یوں لگتا ہے کہ حکمراں اتحاد میں شامل چھوٹی جماعتیں بھی چوہدری برادران کے منہ آنے لگی ہیں۔با الخصوص پیپلز پارٹی سے ’ڈیل‘ کے معاملے میں توبعض رہنما نجی ملاقاتوں میں چوہدری صاحبان کے خلاف زہر اگلنے سے بعض نہیں آتے،انکا کہنا ہے کہ صدر مشرف یوں تو پیپلز پارٹی سے ڈیل کے بغیر بھی منتخب ہوجائیں گے لیکن اخلاقی فتح کے لیے پیپلز پارٹی سے ڈیل ضروری ہے لیکن دوسرے گروپ کا کہنا ہے کہ فتح ایک بار حاصل ہوجائے تواخلاقی تقاضے بھی پورے کر دیتی ہے۔ ادھر چوہدری شجاعت بھی حکمراں اتحاد کو درپیش مشکلات کا ذمہ دار ان لوگوں کو قرار دیتے ہیں جنکی وجہ سے چیف جسٹس کا مسئلہ کھڑا ہوا تھا۔صدر پرویز مشرف نے اس معاملے میں اب تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے لیکن دوبارہ منتخب ہونے کے بعد انہیں اپنا یہ سکوت توڑنا پڑے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کا وزن کس کے پلڑے میں جاتا ہے۔ امن وامان کی صورتحال امن وامان کی صورتحال جوں کی توں ہے، چوری چماری، قتل و ڈکیتی وغیرہ کی وارداتیں عام ہیں جو ان کی زد میں آچکے ہیں ان کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیں جواب تک بچے ہوئے ہیں وہ ’ آج ہم، کل تمہاری باری ہے‘ کے مصداق منتظر بیٹھے ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان اور حفاظتی افواج کے درمیان مقابلوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔30 اگست کو جو تین سو فوجی اغواء ہوئے تھے ان میں سے 31 رہا ہوچکے ہیں اور امید ہے کہ جلد یا بدیرباقی بھی رہا کردیے یا کرلیے جائیں گے، لیکن مقامی طالبان کا مسئلہ یہ ہے کہ جتنے رہا کرتے ہیں اتنے ہی اور اغوا کرلیتے ہیں۔ وادی سوات میں بھی کوئی خاص تبدیل نہیں آئی ،انتہا پسند جب دل چاہتا ہے سی ڈی کی دکانوں کو اڑا دیتے ہیں، کبھی کسی حجام سے ناراض ہوجاتے ہیں، کبھی مہاتما بدھ کے کسی مجسمے کو نشانہ بنانے لگتے ہیں اورکبھی دو چار پولیس والوں کو ڈھیر کردیتے ہیں۔ چور بازاری اور ذخیرہ اندوزی اخباری اطلاعت کے مطابق چور بازاری، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ بھی معمول کے مطابق جاری ہے، معمول کے مطابق یوں کہ گزشتہ ساٹھ سال میں رمضان المبارک جب بھی آیا اپنے تقدس اور خیر وبرکت کےساتھ ان آرائشوں کو بھی لایا۔ جیسے ہم اس مقدس مہینے میں بھوک اور پیاس کی سختیاں عبادت کے طور پر برداشت کرتے ہیں ویسے ہی ان کمینگیوں کو بھی ہنسی خوشی برداشت کرنا چاہئے، کون جانے اللہ اسی بہانے ہمارے اور بہت سارے گناہ معاف کردے۔
زہریلی شراب تعجب صرف یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے واقعات صرف ان ملکوں میں ہی کیوں ہوتے ہیں جہاں شراب پر پابندی ہے۔ امریکہ کے بتیسویں صدر روزویلٹ کا تو کہنا تھا کہ اس طرح کی پابندی سےصرف چور بازاری اور سمگلنگ کو فروغ حاصل ہوتا ہے، مافیہ جنم لیتی ہے، غریب زہریلی شراب پینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور سرورآور شراب ،صرف ان لوگوں کی دسترس میں رہ جاتی ہے جو شراب پر پابندی کا قانون بناتے اور نافذ کرتے ہیں۔ اس نے اقتدار میں آتے ہی اس پر عائد پابندی اٹھالی تھی۔ ہم لوگ جو امریکہ سے اپنے دفاع کے لیے اسلحہ وغیرہ درآمد کرتے رہتے ہیں، کبھی کبھی ان کی ایسی پالیسیاں بھی درآمد کرلیا کریں جس سے غریبوں اور ناداروں کو زہریلی شراب سے بچایا جاسکے تو کیا حرج ہے۔ | اسی بارے میں دودھ میں مینگنی28 August, 2004 | قلم اور کالم کہیں یونہی نہ چلتارہے13 August, 2005 | قلم اور کالم باہر کے اتحادی کی خوشی اور قیمت19 June, 2004 | قلم اور کالم ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے24 September, 2005 | قلم اور کالم آج 14 اگست ہے14 August, 2004 | قلم اور کالم سب کچھ نظریۂ ضرورت کے لیے05 June, 2004 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||