BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 September, 2007, 22:25 GMT 03:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منتخب اراکین سے استعفوں کا مطالبہ

وکلا نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے لیے بھی طویل جدوجہد کی تھی
وکلا کے منتخب نمائندوں نے تمام ارکان اسمبلی سے فوری طور پر استعفیْ دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صدر جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی طور پر موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ انتخاب کی کوشش کو روکا جاسکے ۔

یہ مطالبہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام آل پاکستان وکلا نمائندہ کانفرنس کے اختتام پر منظور کردہ اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔

کانفرنس میں پنجاب کی ضلعی اور تحصیل بارایسوسی ایشنوں کے منتخب نمائندوں کے علاوہ سندھ بارکونسل کے ارکان اور کراچی ہائی کورٹ بار کے صدر نے شرکت کی۔

کانفرنس کے شرکاء نےاس بات پر زور دیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ارکان اور وکلا برادری کو چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرانے چاہیں کیونکہ ایسا کرنا صدارتی انتخاب کو قانونی تحفظ دینے کے مترادف ہوگا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو صدارتی امیدوار کی اہلیت کے بارے میں نوٹیفیکیشن جاری کرنے کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نےنوٹیفیکفیشن جاری کرکے جنرل پرویز مشرف سے اپنی جانبداری ظاہرکردی ہے۔

کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے جانبداری کے بعد فوری طور سپریم کورٹ کے ایسےسابق جج کو چیف الیکشن کمیشن مقرر کیا جائےجنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو۔

کانفرنس میں کہاگیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صدارتی انتخاب کے لئے جاری کردہ شیڈول آئین سے متصادم ہے کیونکہ موجودہ اسمبلیاں صدر مشرف کو ایک مرتبہ منتخب کرچکی ہیں اور اب ان کی معیاد مکمل ہونے کے بالکل قریب ہے اس لئے موجودہ اسمبلیاں صدر مشرف کو دوبارہ منتخب نہیں کرسکتیں۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ موجودہ اسمبلیوں سے صدر مشرف کا دوبارہ چناؤ آئندہ اسمبلی کے ارکان کی حق تلفی کے مترادف ہے۔

کانفرنس کے اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے آئین کی پامالی پر صدر مشرف، وزیراعظم اور ان کی کابینہ فوری طور پر مستعفی ہوجائے جبکہ ایک غیر جانبدارنہ نگران حکومت اور آزاد الیکشن کمیشن ملک میں شفاف انتخاب کرائے۔

کانفرنس میں منتخب وکلا نمائندوں نے اعادہ کیا ہے کہ آئین میں باوردی صدر کی کوئی گنجائش نہیں ہے صدر مشرف کے ستائیس ستمبر کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کےموقع پر ملک بھر کے وکلا یوم سیاہ منائیں گے، عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائےگا اوراحتجاجی اجلاس ہونگےاور جلوس نکالے جائیں گے۔

کانفرنس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ سابق وزراء اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سمیت دیگر سیاسی جلاوطن رہنماؤں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے اور ان کے خلاف سیاسی عناد کی بنیاد پر قائم تمام مقدمات فوری طور پرختم کئے جائیں۔

اسی بارے میں
مشرف کیخلاف پٹیشن منظور
06 September, 2007 | پاکستان
ایڈوکیٹ قتل کیس، احتجاج مؤخر
15 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد