شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | نو رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس بھگوان داس کر رہے ہیں |
صدر پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم اور صدر مشرف کے وردی میں رہتے ہوئے آئندہ انتخاب کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر کے دو عہدے رکھنے کے بارے میں ایک سیاسی معاہدہ ہوا تھا اور پارلیمنٹ نے اس کی تائید کی تھی تو سپریم کورٹ اس کا کیسے جائزہ لے سکتی ہے۔ یہ ریمارکس انہوں نے پاکستان لائرز فورم کے وکیل اے کے ڈوگر کے دلائل کے دوران دیے۔ اے کے ڈوگر نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسمبلی ربڑ سٹامپ ہے اوراگر پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے تو آئین کے محافظ جج ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایسا قانون بنایا جائے جو آئین کے متصادم ہو تو سپریم کورٹ اس کو رد کرسکتی ہے۔ ڈوگر کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف نہ صرف متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے منحرف ہوئے بلکہ انہوں نےاپنے حلف کی بھی خلاف ورزی کی جو انہوں نے فوج میں کمشن لینے کے بعد اٹھایا تھا۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ آئین کی دفعہ دو سو چوالیس کے تحت کوئی بھی فوج کا اہلکار سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صدر یکجہتی کی ایک علامت ہوتا ہے لیکن جنرل پرویز مشرف غیر جانبدار صدر نہیں ہیں۔ ’ جنرل پرویز مشرف نہ صرف ایک متحرک سیاسی کارکن ہیں بلکہ ایک سیاسی پارٹی کو احسن طریقے سے چلا بھی رہے ہیں۔‘ پاکستان لائرز فورم کے وکیل نے کہا کہ وہ جس سیاسی جماعت کے صدر ہیں وہ پاکستان مسلم لیگ نہیں بلکہ پرویز مشرف لیگ ہے۔  |  جنرل پرویز مشرف نہ صرف متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے منحرف ہوئے بلکہ انہوں نےاپنے حلف کی بھی خلاف ورزی کی جو انہوں نے فوج میں کمشن لینے کے بعد اٹھایا تھا۔ آئین کی دفعہ دو سو چوالیس کے تحت کوئی بھی فوج کا اہلکار سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا۔  اے کے ڈوگر |
انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا ہے جو انہوں نے ظفر علی شاہ کیس میں دیا تھا جس میں عدالت نے انہیں کہا تھا کہ وہ تین سال کے اندر اقتدار سویلین حکومت کے حوالے کردیں۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ اس بینچ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے دلائل کے دوران جسٹس یعقوب کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا جو انہوں نے انیس سو بہتر میں دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو پھر ججوں کوگھر بیٹھ جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاءالحق صرف نوے دنوں کے لیے آئے تھے لیکن وہ نو سال سے زیادہ دیر تک برسر اقتدار رہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ سیاست فوج کے لیے شجرممنوعہ ہے اور یہ ایک ایسا پھل ہے جو حضرت آدم کو جنت سے نکال دیتا ہے اور پاکستان کے دو ٹکڑے کردیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو سیاست سے نکال دیں تو ملک ٹھیک طریقے سے چلنے لگے گا۔ انہوں نے بینچ سے استدعا کی کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے مشیر انہیں اپنے مفاد کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نیازی مجازی اٹارنی جنرل ہیں جبکہ ملک قیوم قانونی اٹارنی جنرل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو اقتدار کی ہوس ہے اور انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور فوج کو استعمال کیا، اس لیے وہ ایک بدعنوان شخص ہیں جو صدارت کے عہدے کے اہل نہیں ہیں۔ اے کے ڈوگر نے اپنے دلائل مکمل کرلیے جس پر عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت چوبیس ستمبر تک ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ نے زیر سماعت ان آئینی درخواستوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔ ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نو رکنی بینچ کر رہا ہے جبکہ اس کے ارکان میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں۔ حکومتی وکیل احمد رضا قصوری نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمنٹ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف کوئی قانون بناتا ہے تو سپریم کورٹ اس کو کالعدم کرسکتی ہے لیکن سپریم کورٹ کوئی فیصلہ دیتی ہے تو پارلیمنٹ اس کو سادہ اکثریت کے ساتھ کالعدم کرسکتی ہے۔ |