پاکستانی عدلیہ پر دباؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں اعلی عدلیہ کا کردار بڑی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ معاملہ باوردی صدر کا ہو یا آئندہ صدارتی اور عام انتخابات کا، سیاسی جماعتوں نے ان معاملات سے جڑے سیاسی مسائل کے حل کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کررکھا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ عدالتی میدان زیادہ گرم نظر آتا ہے۔ اس معاملے میں شدت 20 جولائی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد آئی جب عدلیہ کی آزادی کی جنگ میں ملک کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی بظاہر ہار ہوئی تو وہاں گویا ان کے سیاسی مخالفین کی لاٹری نکل آئی اور وہ ہر اس معاملے کو عدالتی میدان میں لے آئے جن میں سے بیشتر کا تعلق ملک کے سیاسی مستقبل سے جڑے ان کے اپنے سیاسی کیرئر سے تھا اگرچہ ان میں قانونی اور دستوری پہلو موجود تھا۔ بنظیر بھٹو نے سپریم کورٹ میں کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹوں میں تین کروڑ ووٹروں کے اخراج کی شکایت کی تو نواز شریف نے وطن واپسی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جبکہ قاضی حسین احمد اور عمران خان جنرل مشرف کے بیک وقت سرکاری ملازم اور ملک کا صدر ہونے اور ایم ایم اے کی مہربانی سے ان کے تمام اقدامات کو آئینی تحفظ فراہم کرنے والی سترہویں ترمیم کے خلاف عدالتی میدان میں کود پڑے۔ بنظیر بھٹو نے وطن واپسی پر بلٹ پروف گاڑی کی درآمد کی اجازت حاصل کرنے کے لئے بھی سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفی دینے والے ناصر اسلم زاہد اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’عدالت پر غیرضروری بوجھ تو ہے لیکن عدالت کیا کرے کیا وہ یہ کہے کہ ہم اس پر فیصلہ نہیں کریں گے؟ عدالت یہ نہیں کرسکتی۔‘ ’سیاسی جماعتیں تو دیکھتی ہیں کہ وہ کوئی سیاسی تحریک تو چلانہیں سکیں تو ہوسکتا ہے کہ عدالت سے ہمیں کوئی فائدہ مل جائے، اب آپ یہ دیکھیں کہ اسمبلیوں سے استعفوں کی بات کہی جاتی رہی ہے اب تو پانچ سال گزر گئے ہیں اور آپ کو استعفی دینا ہی تھا تو کیا آپ ایک دن پہلے استعفی دیکر کہیں گے کہ ہم نے بڑا تیر مار لیا۔‘ ان کے مطابق ترقی پسند ممالک میں ایسے مقدمات عدالتوں میں بہت کم آتے ہیں لیکن پاکستان میں روزانہ عدالتوں میں اس طرح کے مقدمات چلے آرہے ہیں جس کی بنیادی وجہ خود سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی کا کہنا ہے کہ سیاسی مسائل کے حل کے لئے عدالتی میدان استعمال کرنا خود عدلیہ کے لئے نقصان دہ ہے۔ اُنھوں نے کہا: ’بدقسمتی سے پاکستان کے اندر یہ کلچر رہا ہے کہ جو سیاسی معاملات تھے جن کو سیاسی میدان میں طے کیا جانا چاہیے انہیں بھی عدالتوں کے ذریعے طے کرانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ صحیح نہیں ہے اگر عدالتیں سیاسی معاملات کو طے کرنا شروع کردیں تو ان کا وقار کم ہوجاتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ جب عدالتیں سیاسی معاملات طے کرتی ہیں تو اسکے اچھے اثرات برآمد نہیں ہوتے کیونکہ جن پارٹیوں کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے وہ اپنے تحفظات کا اظہار کرتی ہیں۔
لیکن پاکستان میں جہاں 60 میں سے 34 برس فوج کی حکومت رہی ہے اور اب بھی ہے اور موجودہ حکومت کے وزراء یہ کہتے رہے ہیں کہ عدلیہ کے فیصلے پر عملدرآمد تو انتظامیہ نے ہی کرنا ہوتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ آیا دستوری پہلو رکھنے والے سیاسی معاملات پر سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کراپائے گی۔ سعید الزماں صدیقی اس بارے میں کہتے ہیں کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ عدلیہ کو کس قدر عوامی تائید حاصل ہے۔ اُنہوں نے کہا: ’پاکستان تو کیا دنیا بھر میں کوئی بھی ادارہ ہو اس کی ترقی، افادیت اور مضبوطی کا دارومدار عوام کے اعتماد اور حمایت پر ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جوحالات ہیں عدلیہ کو پوری طرح سے عوامی تائید حاصل ہے۔‘ انہوں کا کہا ہے کہ عدلیہ کو جب تک عوامی تائید حاصل ہے وہ مضبوط کردار کا مظاہرہ کرتی رہے گی لیکن اگر مستقبل میں کسی مرحلے پر عوامی تائید ختم ہوجاتی ہے اس صورت میں صورتحال بدل بھی سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی نے جہاں ججوں کے حوصلے بلند کئے ہیں وہاں انہیں امتحان میں بھی ڈالا ہے اور اعلی عدلیہ کو اس امتحان سے نکالنے کا کام بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کیونکہ عوامی قبولیت اور سرگرم حمایت اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں عدلیہ کی آزمائش کو کم کرنے کے لئے کس قدر اخلاقی اور سیاسی جرآت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے مختلف سیاسی معاملات پر ملک میں اعلی عدالتوں خصوصاً سپریم کورٹ رجوع کیا ہے۔ نواز شریف کی جلاوطنی کا معاملہ ہو یا جنرل پرویز مشرف کی سرکاری نوکری کے ساتھ ساتھ صدر کے عہدے پر فائز رہنے کی اہلیت یا ان کی دوبارہ صدر بننے کے خواہش اور تو اور بے نظیر بھٹو کو وطن واپسی پر اپنی حفاظت کے لئے بلٹ پروف گاڑی درآمد کرنے کی اجازت کا معاملہ بھی، | اسی بارے میں شخصی آزادی سے متعلق مقدمے29 April, 2004 | صفحۂ اول انتخابی قانون کالعدم10.02.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||