BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 April, 2004, 04:19 GMT 09:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شخصی آزادی سے متعلق مقدمے
پڈیلا
ملزم پڈیلا کو عبداللہ المہاجر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
امریکی سپریم کورٹ نے ان دو مقدمات کی سماعت شروع کر دی ہے جن میں عدالت یہ فیصلہ کرے دے گی کہ آیا امریکی شہری دہشت گردی کے شبہ میں غیر معینہ مدت تک نظر بند رکھے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

ان میں سے ایک یاسر حمدی جو لوئی زیانا میں پیدا ہوئے تھے اور جنہیں افغانستان کی جنگ کے دوران سن دو ہزار ایک میں گرفتار کیا گیا تھا۔

دوسرے ہوزے پدیلا ہیں جو سن دو ہزار دو میں سکاگو میں ایک امریکی شہر میں بم حملے کی سازش کے الزام میں پکڑے گئے تھے۔

وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوۓ کہا ہے کہ ان کے مؤکل کو وکلا اور عدالت کی سہولت سے محروم رکھ کر صدر بش اپنے اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں۔

لیکن وائٹ ہاؤس کے ایک وکیل کا موقف یہ تھا کہ یہ دونوں افراد قومی سلامتی کے لۓ خطرہ ہیں اور حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ غیر قانونی دشمن جنگ جو کو جنگ کے لۓ واپس جانے سے باز رکھے۔

سپریم کورٹ جون کے اواخر تک ان دونوں کےمقدمات کا فیصلہ سناۓ گی جو بحریہ کے ایک قید خانے میں زیر حراست ہیں ۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی نوعیت کے مقدمات ہیں جن کےامریکیوں کی شخصی آزادی اور حکومت کے اس اختیار پر دور رس اثرات ہونگے کہ وہ اپنے اُن شہریوں کو بند کردے جنہیں وہ خطرہ سمجھتی ہے۔

وکلا کا کہنا کہ چونکہ یاسر حمدی کو بیرون ملک علاقۂ جنگ میں پکڑا گیا تھا اس لۓ حکومت کے لۓ آسان ہوگا کہ ان کے بارے میں اپنا دلائل جیت لے۔ لیکن ہوزے پڈیلا کو شکاگو کے ہوائی اڈے پر اس الزام میں پکڑا گیا تھا کہ وہ ایک شہر میں ریڈیائی ہتھیار کا استعمال کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے ۔ تاہم ان کے خلاف کسی عدالت میں شہادتیں پیش نہیں کی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ کے نو جج دونوں جانب کے دلائل کی سماعت کریں گے ۔ عدالت نے ان مقدمات کی سماعت کا فیصلہ اس وقت کیا جب ایک اپیل عدالت نے ہوزے پڈیلا کو اس بنا پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا کہ کسی امریکی شہری کو دشمن جنگ جو کی حیثت سے گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن اٹارنی جنرل جون ایش کرافٹ کا کہنا ہے کہ ان کو قومی سلامتی کی خاطر دشمن جنگ جو قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ ثابت ہے کہ وہ سلامتی کے لۓ شدید خطرہ تھے۔ انہوں نے ہوزے پڈیلا پر الزام لگایا کہ ان کا القاعدہ سے قریبی تعلق تھا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صدر بش کو یہ اختیار ہے کہ افراد کو دشمن جنگ جو قرار دیا جاسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد