BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 December, 2003, 21:49 GMT 02:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو قیدیوں کےحق میں فیصلہ
گوانتامو میں چھ سو ساٹھ قیدی ہیں

بش انتظامیہ کو دو قانونی دھچکوں کا سامنا ہے۔

پہلا یہ کہ وفاقی اپیل کی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ امریکہ کے پاس یہ حق نہیں ہے کہ وہ امریکی شہریوں کو امریکہ کی سرزمین پر ہی ’دشمن جنگوؤں‘ کے طور پر گرفتار کرے۔

دوسری طرف کیلیفورنیا میں سان فرانسیسکو کی ایک عدالت نے کہا ہے کہ گوانتامو بے میں زیرحراست افراد کو وکلاء اور امریکی عدالتوں تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

عدالت نے کہا ہے کہ گوانتانامو میں ان افراد کی حراست امریکی اقدار کے برعکس ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں ان فیصلوں کے مخالف فیصلہ بھی دے سکتی ہیں۔

جوز پاڈیلا نامی ایک امریکی شہری کو ریڈیائی ہتھیار استعمال کرنے کے منصوبے میں ملوث ہونے کے شبہہ پر شکاگو سے گرفتار کیا گیا تھا۔ نیویارک کی عدالت نے کہا ہے کہ امریکی حکام کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اسے غیر معینہ مدت تک فوجی جیل میں قید رکھیں۔

عدالت کے جج نے کہا ہے کہ انہیں فوجی تحویل سے ملک کی عدلیہ کے حوالے کیا جائے۔

بش انتظامیہ گوانتانامو کے قیدیوں کو غیر قانونی جنگجو قرار دیتی رہی ہے اور انہیں دو برس سے بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ’قومی ایمرجنسی کے ایام کے دوران بھی۔۔۔ عدلیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ (ہمارے) آئینی اقدار کا تحفظ کرے اور انتظامیہ کو (امریکی) شہریوں اور غیر ملکی افراد دونوں کے حقوق کو نظر انداز کرنے سے روکے۔‘

عدالت کا دوسرا فیصلہ گوانتانامو میں رکھے گئے لیبیا کے ایک شہری کے معاملے میں سنایا گیا۔ اس شخص کو افغانستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔

عدالت نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ امریکی حکومت کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر امریکہ پر گوانتانامو کے معاملے پر سخت تنقید ہوئی ہے۔

کیوبا میں واقع اس امریکی فوجی اڈے میں تقریباً چھ سو ساٹھ افراد مقید ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ ان افراد کو جنگی قیدی تصور کیا جانا چاہئیے اور ان پر جنیوا معاہدے کے مطابق کارروائی کی جانی چاہئیے۔

حال ہی میں گوانتانامو میں مقید ایک ’آسٹریلوی طالبان‘ ڈیوِڈ ہکس کو ان کے وکیل سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی تھی۔ وہ گوانتانامو کے ایسے پہلے قیدی ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اگلے سال اعلیٰ عدالتیں بھی اس کی حمایت میں فیصلہ نہ دے دیں۔

تاہم عدالتوں کے ان حالیہ فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عدلیہ میں بش انتظامیہ کو چیلنج کرنے کا رجحان زور پکڑتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد