| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو بے: ایک اور تنازعہ
اطلاعات کے مطابق گوانتانامو بے میں مقید مبینہ دہشت گردوں کی پیروی کرنے کے لئے مقرر وکلاء امریکی رویے سے سخت نالاں ہیں۔ برطانوی روزنامے’گارڈئین‘ کا کہنا ہے کہ وکلاء کی ایک ٹیم کو اس وقت برطرف کر دیا گیا جب انہوں نے شکایت کی کہ ان مقدموں کے قوائد غیر منصفانہ ہیں۔ اخبار نے امریکی فوجی عدالتی نظام کے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ مقید افراد کے لئے مقرر کی جانی والی وکلاء کی ایک ٹیم کو برخاست کر دیا گیا ہے۔ ان وکلاء نے مجوزہ ملٹری ٹربیونل کے طریقۂ کار کے بارے میں شکایت کی تھی۔ اس طریقۂ کار کے مطابق حکومت کے نمائندے وکلاء اور موکلوں کے درمیان ہونے والی گفتگو پر بھی نظر رکھ سکتے ہیں۔ امریکی جریدے ’وینِٹی فیئر‘ میں بھی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق کچھ وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے اخلاقی فرائض کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وکلاء کے ایک گروپ نے میگزین کو بتایا کہ اس طرح کے قواعد سے زیر حراست افراد کے مقدموں کا منصفانہ ہونا نا ممکن ہے۔ میگزین نے لکھا ہے کہ وکلاء حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں غیر قانونی احکامات دیے گئے۔ امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگن نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔ کیوبا میں امریکی فوجی اڈے گوانتانامو بے میں تقریباً چھ سو ساٹھ قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔ ان پر ابھی مقدمے نہیں چلایا گیا ہے اور نہ ہی انہیں وکلاء تک رسائی حاصل ہے۔ ان لوگوں کی حراست کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں اور امریکہ کے حلیفوں نے بھی احتجاج کیا ہے۔ ان میں سے بیشتر افراد کو دو برس قبل افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||