BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 September, 2007, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جسٹس افتخار، ہر قربانی دینے کو تیار‘
جسٹس افتخار
’ہمارے حوصلے اس وقت بڑھے جب ہم نے عوام کو اپنے ساتھ پایا‘
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ (جسٹس افتخار) ملک میں قانون کی سربلندی کے لیے اپنی زندگی بھی خطرے میں ڈالنے کو تیار ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جسٹس افتخار کے بڑے بیٹے ارسلان نے کہا ہے کہ ان کے والد پاکستان کی عدالتی تاریخ میں بہترین جج کے طور پر پہچانے جانا چاہتے ہیں اور ہر آدمی کو انصاف مہیا کرنے کے لیے وہ کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں۔

جسٹس افتخار نے جنرل مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے اور صدر اور آرمی چیف کے عہدے بیک وقت اپنے پاس رکھنے کے خلاف دو مختلف درخواستوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک نو رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔

ٹیلیگراف کے مطابق جسٹس افتخار چودھری، جنہیں جنرل مشرف نے مارچ میں برخاست کرنے کی کوشش کی تھی، کئی مہینوں سے اپنے سرکاری گھر میں ایک قیدی کی طرح رہ رہے ہیں۔ وہ گھر سے صرف عدالت کے لیے یا پھر وکلاء سے ملنے کے لیے نکلتے ہیں۔

ٹیلیفون بگنگ
 والد کی بحالی کے بعد گھر کی سکیورٹی نصف کر دی گئی ہے اور خفیہ ذرائع سے ٹیلیفون سننے کا عمل بھی پہلے سے کم ہوگیا ہے
ڈاکٹر ارسلان

اخبار کے مطابق جسٹس افتخار اور ان کے اہلخانہ اپنی زندگیوں کو لاحق خطرات کے باعث اب گھر سے کم ہی نکلتے ہیں۔ ارسلان کا کہنا تھا ’ابّا کو طویل چہل قدمی پسند ہے ۔۔۔ لیکن سکیورٹی تحفظات کی وجہ سے اب وہ ایسا نہیں کر پاتے۔‘

ارسلان نے بتایا کہ ان کے والد کی بحالی کے بعد ان کے گھر کی سکیورٹی نصف کر دی گئی ہے اور (خفیہ ذرائع سے) ٹیلیفون سننے کا عمل بھی پہلے سے کم ہوگیا ہے۔

سنگ مرمر سے تعمیرشدہ اور سر سبز مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع جسٹس افتخار کے گھر کے ڈرائنگ روم کی دیواروں پر قرآنی آیات پر مبنی کیلیگرافی کے نمونے آویزاں ہیں۔ جسٹس چودھری کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ (چیف جسٹس) اپنی بحالی کے لیے خدا کے شکر گزار ہیں اور ان کے بقول وہ اس سے اور زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔

نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ان صعوبتوں نے انہیں پہلے سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔

اٹھاون سالہ جسٹس افتخار چودھری اپنی چھیالیس سالہ اہلیہ فائقہ، بیٹوں ارسلان (28) ، بالاچ (6) اور تین بیٹیوں عائشہ (28)، افرا (20) اور پلوشہ (16) کے ساتھ رہتے ہیں۔

مضبوط اعصاب
 والد مضبوط اعصاب کے حامل ہیں۔ وہ ہم سے کبھی بھی کسی ڈر یا خوف کا ذکر نہیں کرینگے
بیٹی عائشہ

معطلی کے بعد جسٹس افتخار کی پولیس کے ہاتھوں توہین اور وکلاء پر لاٹھی چارج کے مناظر ٹی وی پر نظر آنے پر ہزاروں لوگ احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ جسٹس افتخار کے بیٹے ارسلان کہتے ہیں: ’ہمارے حوصلے اس وقت بڑھے جب ہم نے عوام کو اپنے ساتھ پایا۔‘

(جسٹس افتخار کے خلاف صدراتی ریفرنس میں لگائے گئے الزامات میں اپنے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کا بلوچستان کی صوبائی حکومت سے وفاقی پولیس سروس میں اثر و رسوخ استعمال کر کے تبادلہ کرانا سرفہرست تھا)۔

جسٹس افتخار کی بیٹی عائشہ بتاتی ہیں کہ ان کے والد مضبوط اعصاب کے حامل ہیں۔ ’وہ ہم سے کبھی بھی کسی ڈر یا خوف کا ذکر نہیں کرینگے ۔۔۔ انہیں زیادہ فکر عوام کی ہے جنہوں نے ان کا ساتھ دیا اور یہ کہ انصاف تک عام آدمی کی رسائی کیسے ممکن ہو۔‘

جسٹس افتخار’پیپلز چیف جسٹس‘
کیا بڑھی ہوئی عوامی توقعات سے انصاف ہوگا؟
جسٹس افتخار (فائل فوٹو)چیف جسٹس کیس
اٹھارہ اپریل سے بیس جولائی تک کب کیا ہوا
’جج بنا دوں گا۔۔۔‘
عدالت میں دلچسپ اقوال سننے کو ملے
جسٹس خلیل الرحمن چیف جسٹس کیس
اگر فیصلہ آیا تو تاریخی ہوگا: سپریم کورٹ
جسٹس افتخار محمد چودھری حکومتی بیاناتِ حلفی
چیف جسٹس پر خفیہ اداروں کے الزامات
حماد رضا کے والد سید امجد حسین حماد کا قتل کیوں ہوا
’چیف جسٹس کو میرے بیٹے پر بہت اعتماد تھا‘
جسٹس افتخار ’جنرل کے داماد‘
ڈاکٹر ارسلان کی ترقی، دلچسپی کس کس کو؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد