BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 June, 2007, 16:40 GMT 21:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ریفرنس ایک حرفِ غلط ہے‘

چیف جسٹس
قائم مقام چیف جسٹس نے حکومتی درخواست سننے کے لیے بینچ کو از سرِ نو تشکیل دیا
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی بینچ سے کہا گیا ہے کہ اسے یہ بھی طے کرنا ہے کہ کیا ملک کی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ پر ججوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

سینئر قانون دان اکرم شیخ نےسپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ کے سامنے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کارروائی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت سے کہا کہ تمام شواہد اس بات کی نشاہدی کرتے ہیں کہ ملک کی اعلی ترین عدالت کے چیف جسٹس کے خلاف کارروائی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کی بنیاد کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے تیرہ ججوں پر مشتمل فل کورٹ پچھلے چودہ روز سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست سمیت تئیس ایسی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل سن رہی ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ یہ درخواستیں سماعت کے قابل نہیں ہیں اور عدالت ان کو رد کر دے جبکہ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ ان درخواستوں میں جو نکات اٹھائے گئے وہ عدالت کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اکرم شیخ نے کہا کہ عدالت کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا انٹیلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹیں بطور گواہی عدالتوں میں پیش کی جا سکتی ہیں۔ ’ان فدوی رپورٹوں پر اگر ججوں کو نکالا جانے لگا تو پھر کوئی نہیں بچے گا‘۔

تین مختلف درخواستوں گزاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ اکرم شیخ نے کہا عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا آئی ایس آئی کی رپورٹوں پر ججوں کو عدالت سے نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے مختلف انٹرویوز میں کہا ہے کہ ان کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے کوئی شکایت نہیں تھی اور ان کو مختلف رپورٹوں پر نکالا گیا ہے۔

انہوں نے کہا صدر جنرل مشرف کے انٹرویوز اور چیف جسٹس کے حلیفہ بیان سے یہ بات بھی عیاں ہو جاتی ہیں کہ ملک کے خفیہ ادارے چیف جسٹس کی نگرانی کر رہے تھے۔

اکرم شیخ نے عدالت سے کہا کہ اگر چیف جسٹس کو غیر فعال بنائے جانے اور ان کو جبری چھٹی پر بھیجے جانے کا معاملہ عدالت کےدائرہ کار میں نہیں آتا تو پھر شاید ہی ایسا کوئی مقدمہ ہو جو مفاد عامہ کے معیار پر پورا اتراتا ہو۔

اکرم شیخ نے کہا کہ چیف جسٹس کو ریفرنس دائر ہونے سے پہلے ہی غیر فعال بنا دیا گیا تھا اور ایک جج کو بطور قائم مقام چیف جسٹس کا حلف بھی دے دیا گیا تھا۔’چیف جسٹس کو ساڑھے پانچ گھنٹے تک حراست میں رکھ کر ان سے استعفی لینے کی کوشش کی گئی‘۔

اکرم شیخ نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس حرف غلط ہے اور عدالت اس حرف غلط کو مٹا دے۔

جب اکرم شیخ نے کہا ملک کے چیف جسٹس کو نکالنے سے ساری دنیا میں ملک کی ہزیمت ہوئی ہے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سمیت دنیا کے کئی اداروں نے پاکستان کے چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کا نوٹس لیا ہے تو حکومتی وکیل احمد رضا قصوری نے کھڑے ہو کر کہا کہ سٹیٹ دیپارٹمنٹ نے عراق میں قیمتی جانوں کے نقصان کا تو کبھی نوٹس نہیں لیا۔

عدالت نے احمد رضا قصوری کو کہا کہ وہ اپنی نشت پر بیٹھ جائیں اور وکلاء کے دلائل کے دوارن اس طرح کے ریمارکس نہ دیا کریں۔

چیف جسٹس کے وکیل اعتزازاحسن نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل کی طوالت پر اپنی بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے کہا کہ دلائل کو طول نہ دیا جائے اور عدالت کو ان کی مجبوری کا بھی خیال کرنا چاہیے۔

ایڈوکیٹ اکرم شیخ کے دلائل ختم ہونے پر ایڈوکیٹ مجیب پیرزاہ نے اپنے دلائل شروع کیے۔

مقدمے کی سماعت منگل کے روز بھی جاری رہے گی۔

جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد