شیڈول: قانونی جنگ یا سیاسی حکمت عملی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے صدراتی الیکشن شیڈول کے اجراء کو ایک غیر قانونی اقدام قرار دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی جائے گی جبکہ سیاسی میدان میں بھی صدر پرویز مشرف کا ہرممکن طریقے سے راستہ روکا جائے گا۔ادھر حکومت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق کام کر رہا ہے۔ ایسے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب جبکہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کی قیادت اور منتخب ارکان اسمبلی میں موجود جنرل مشرف کی وردی کا مخالف دھڑا ڈھکا چھپا نہیں ہے یہ اندازہ لگانا مزید مشکل ہو گیا ہے کہ صدر کے انتخابی حلقے میں شامل کتنے نمائندے ان کے حق میں ووٹ دیں گے۔ لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما رضا ربانی نے کہا کہ ان کی جماعت صدارتی انتخاب کے موقع پر غیرحاضر رہنے، اس سارے عمل کے بائیکاٹ اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی صدر کے وردی میں رہنے اور موجود اسمبلیوں سے انتخاب کے خلاف ہے اور پرویز مشرف نے ایسا کیا تو ان کا راستہ روکا جائےگا۔ مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما راجہ ظفرالحق نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام اپوزیشن کو قومی سطح پر صدر کے خلاف حکمت عملی بنانی چاہیے اور یہ کہ وہ اس سلسلے میں غور کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جماعتیں خواہ الائنس میں ہیں یا نہیں، الیکشن کمیشن کے حالیہ اقدامات کو غیر آئینی سمجھتے ہیں۔
مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ مسلم لیگ نواز اس الیکشن شیڈول کو مسترد کرتی ہے اور اس سارے عمل کو غیر قانونی سمجھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز نے الیکشن کمیشن کے اقدامات کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راجہ ظفرالحق نے کہا کہ صدراتی انتخاب کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور الیکشن کمیشن نے پہلے آئین کی ایک شق کو غیر موثر کرنے پر مبنی نوٹیفیکیشن جاری کیا اور اب الیکشن شیڈول جاری کردیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عدلیہ کو نظر انداز کرکے من مانی کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنا صدارتی امیدوار کھڑا کرنے کا مطلب موجودہ صدراتی انتخاب کے عمل کو قانونی جواز دینا ہوگا تاہم اس بارے میں مشترکہ لائحہ عمل آل پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم سے بنایا جائے گا۔ مجلس عمل کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمدنے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدراتی انتخاب کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا اور اس کی روشنی میں اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر حکمت عملی طے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل اپنے فیصلے پر قائم ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے تو اسی روز پارلیمان سے استعفے دیدیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا عہدہ خود مملکت کی جڑیں کھودنے پر لگا ہے۔
ادھر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ اپوزیشن کے کہنے پرشیڈول قانونی یا غیر قانونی نہیں بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا صدارتی انتخابات کا ایک نظام الاوقات ہے جس کے مطابق شیڈول جاری ہوا ہے۔’ کسی فرد کے امیدوار بن سکنے یا نہ بن سکنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لیکن صدارتی انتخاب کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں تاخیر ہو تو کیا صدارتی انتخاب کا وقت گزار دیا جائے؟ شیخ رشید احمد نے کہا پیپلز پارٹی سے حکومت کی ڈیل حتمی شکل میں نہیں پہنچی ہے اور صدر اپنا یونیفارم اپنے مرضی سے اپنے دیئے ہوئے وقت کے مطابق اتاریں گے اس کا کسی ڈیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب کے شیڈول کے اعلان کو جلد بازی قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو کسی صورت میں باوری صدر قبول نہیں کریں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما مخدوم امین فہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدارتی انتخاب کے حوالے سے سپریم کورٹ میں معاملات زیر سماعت ہیں مگر کسی فیصلے سے قبل ہی شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کو فوجی وردی میں صدارتی انتخاب میں لایا جائےگا مگر پیپلز پارٹی یہ واضح کرچکی ہے کہ باوردی صدر قبول نہیں کیا جائےگا اور اس کی حمایت نہیں کی جائےگی۔
جب ان سےسوال کیا گیا کہ صدارتی انتخاب کےشیڈول کو مذاکرات کا اختتام تصور کیا جائے، تو مخدو امین فہیم کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں صدر مشرف کو جمہوریت کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھانے کے لیے کہا گیا تھا اور کچھ معاملات پر معاہدہ بھی ہوا تھا مگر حکومت نے ان پر تاحال عمل نہیں کیا ہے۔ ’اگر حکومت اس پر عمل نہیں کرتی تو ہم بھی آزاد ہیں جو فیصلہ کریں وہ حق بجانب ہوگا۔‘ مخدم امین فہیم نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ پیپلز پارٹی جنرل مشرف کو وردی میں ووٹ نہیں دے گی اب وہ اس آپشن پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کیا دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اسمبلیوں سے استعفے دیئے جائیں تاہم اس کا حتمی فیصلہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں مخدوم امین فہیم نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی واپس کا اعلان حتمی ہے اور موجودہ صورتحال کے باوجود اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں لائی جارہی ہے۔ کوئٹہ سے عزیزاللہ خان کے مطابق شیڈول کے اعلان کے بعد صوبہ سرحد اور بلوچستان اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل اور خصوصا جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ پر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
متحدہ مجلس عمل بلوچستان کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’ایک طرف مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے صدر کے دو عہدوں کے بارے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے۔ اس کے فیصلےکی مناسبت سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے فیصلے انفرادی طور پر نہیں کیے جاتے اور مولانا فضل الرحمان اتوار تک سعودی عرب سے واپس آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیزڈیموکریٹک موومنٹ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے اور جو فیصلہ کیا جائے گا اس پر عملدرآمد ضرور ہو گا۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام میں دو مختلف آرا کے گروپ پائے جاتے ہیں ان میں ایک گروپ بیشتر پارلیمانی اراکین پر مشتمل ہے جو حکومت میں ہیں، انہیں صوبائی قیادت کی حمایت حاصل ہے دوسرا گروپ اراکین قومی اسمبلی مولوی نور محمد اور حافط حسین احمد کی قیادت میں سرگرم ہے اور ان کا موقف ہے کہ اسمبلیوں سے فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ دوسری آرا رکھنے والے اراکین کی تعداد بلوچستان اسمبلی میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام حکمران مسلم لیگ کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کیے ہوئے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں یوں تو اراکین اسمبلی کی کل تعداد پینسٹھ ہے لیکن ایک رکن پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا اور ایک جمعیت علماء اسلام کا نااہل قرار دیے جا چکے ہیں اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو اراکین اسمبلی نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد احتجاج مستعفی ہو گئے تھے۔ صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق اس وقت بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد اکسٹھ ہے اور ہر رکن کا ایک ووٹ ہوگا اس لیے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں سترہ اراکین مجلس عمل کے پچیس حکمران مسلم لیگ اور تین حکومت کےاتحادی جماعتوں کے ہیں۔ حزب اختلاف میں نیشنل پارٹی کے اراکین کی تعداد پانچ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چار پیپلز پارٹی کے دو اور ایک آزاد رکن بالاچ مری شامل ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے چار اراکین اسمبلی کا کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں اور یا حزب اختلاف کے ساتھ کیونکہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد جماعت میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ استعفے دینا یا نہ دینا وہ مرکزی قیادت پر منحصر ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر اے پی ڈی ایم استعفے دینے کا اعلان کرتی ہے تو وہ ضرور مستعفی ہوں گے۔ کراچی سے ہی ہمارے دوسرے نمائندے احمد رضا کا کہنا ہے کہ صدر کے عہدے کے انتخاب کے شیڈول کے اعلان کے بعد صدارتی حلقہ انتخاب کے ووٹروں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اگرچہ اس انتخاب کے سب سے اہم امیدوار جنرل پرویز مشرف کا فوجی سربراہ اور ملک کا صدر ہونے کی بناء پر بظاہر ان کا پلہ بھاری نظر آتا ہے لیکن اگر حلقہ انتخاب میں ووٹوں کی سیاسی وابستگیوں کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال خاصی دلچسپ نظر آتی ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف کو جیت کے لئے الیکٹورل کالج یعنی صدارتی حلقہ انتخاب سے تین سو باون ووٹ درکار ہیں جہاں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کل ووٹ چھ سو اناسی ہیں جن میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے پاس تین سو چھیاسی ووٹ ہیں اور حزب اختلاف کے پاس دو سو ترانوے ووٹ ہیں۔ اس طرح بظاہر تو صدارتی انتخاب میں جنرل پرویز مشرف کا پلہ بھاری نظر آتا ہے کیونکہ ان کے پاس دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لئے مطلوبہ ووٹوں سے چونتیس ووٹ زیادہ ہیں، لیکن صدارتی انتخاب چونکہ سیکریٹ بیلٹ یعنی خفیہ رائے دہی کے ذریعے عمل میں آتا ہے اس لئے یہ اندازہ لگانا بہرحال مشکل ہے کہ جنرل مشرف کی حامی ووٹرز کی اصل تعداد کیا ہے۔ اس دھڑے کے سرکردہ نمائندہ کبیر علی واسطی کو تو ذرائع ابلاغ پر بار ہا صدر کی وردی سے اختلاف کے کھلم کھلا اظہار پر پارٹی سے جبراً رخصت کردیا گیا تاہم پارٹی کے سینئر نائب صدر ریٹائرڈ جنرل مجید ملک نے حال ہی میں پارٹی پالیسیوں سے اختلاف ظاہر کرتے ہوئے خود ہی مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ ان کے اختلاف کی اہم وجہ بھی جنرل مشرف کے باوردی صدر رہنے کی خواہش ہی بتایا جاتا ہے۔ اس سے قبل پچھلے ماہ مسلم لیگ (ق) سے ہی تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اسحاق خاکوانی جنرل مشرف کے وردی میں صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف پچھلے مہینے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے جبکہ اسکے اگلے ہی دن مسلم لیگ (ق) کے رکن قومی اسمبلی اور سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ کے پارلیمانی سیکرٹری علی حسن گیلانی نے بھی جنرل مشرف کے اسی ارادے کے خلاف احتجاجاً مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر جنرل مشرف نے وردی میں صدارتی انتخاب لڑا تو وہ ان کے خلاف ووٹ دیں گے۔ اسکے علاوہ پچھلے دو ماہ کے دوران حکمران جماعت کے بعض ارکان پنجاب اسمبلی پہلے ہی اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنرل مشرف نے پچھلے ایک ماہ کے دوران ملک کے سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز پر ٹاک شو کے ذریعے رابطہ عوام مہم چلائی ہے تاہم ان کے حلقہ انتخاب میں ان کی حمایت کا صحیح اندازہ صدارتی انتخاب میں ہی ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||