BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 September, 2007, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے پی ڈی ایم اعلان یا شکست

دوسری پارٹیاں یا گروہ اتنے چھوٹے ہیں کہ علیحدہ ان کا وجود اور عدم وجود برابر ہے
حزب اختلاف کے اتحاد اے پی ڈی ایم نے اپنے ایک طویل اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ صدر کے عہدے کے لئےجنرل پرویز مشرف کےکاغذات نامزدگی اگرمنظور ہوگئے تو اس کےتمام اراکین اسمبلی مستعفی ہوجائیں گے۔

یہ ایک انتہائی اہم لیکن خطرناک فیصلہ ہے اور اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ اتحاد میں شامل جماعتوں کو یقین ہوگیا ہے کہ وہ کوئی ایسی ملک گیر تحریک فی الحال نہیں چلاسکتیں جو صدر مشرف اور موجودہ حکومت کو ان کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کردے۔ خطرناک اس لئے ہے کہ اگر اس اتحاد کے اراکین مستعفی ہوبھی جائیں تو ایک اخلاقی دباؤ کے سوا عملی طور پر اس کا صدر مشرف کے انتخاب پر کیا اثر پڑے گا، جناب صدر اور ان کی پارٹی کواور چھوٹ مل جائے گی، بالکل جیسے کوریا کی جنگ کے دوران اقوام متحدہ نے سوویت مخالفت کے باوجود اپنی فوجیں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا اس لئے کہ سوویت مندوب سلامتی کونسل کے اجلاس کا بائیکاٹ کر رہے تھے۔

دوسری جانب اگر اتحاد میں شامل کسی پارٹی یا افراد نے ایسا نہیں کیا تو جہاں یہ تحریک ناکام ہوگی وہاں عوام کی نظر میں اتحاد کی بڑی بھد ہوجائےگی اور اس بات کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

بعض حلقوں کی جانب سے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں اب بھی شکوک وشبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں اس لئے کہ انہیں اس طرح کا کوئے اقدام کرنے سے پہلےصوبہ سرحد اور بلوچستان میں اپنی پارٹی کے مفادات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔

نظریاتی بنیاد نہ پروگرام
 پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، وہ اقتدار میں ہوں یا اختلاف میں، غیر منظم سیاسی گروہ بن کر رہ گئی ہیں جن کی نہ کوئی نظریاتی بنیاد ہے نہ کوئی واضح سیاسی و سماجی پروگرام

پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی عالم یہ ہے کہ محترمہ بینظیر جو کہہ دیں وہ حرف آخر ہوجاتا ہے، عام خیال ہے کہ جنرل پرویز مشرف سے موجودہ مذاکرات ان کی ذاتی پیش قدمی کا نتیجہ ہیں اور اگرچہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ ان کی پارٹی بھی دوسری جماعتوں کے ساتھ پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرسکتی ہے لیکن اس بیان کے لب ولہجہ سے لگتا ہے کہ اس کا مقصد مذاکرت کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس کے علاوہ 18 اکتوبر کو ان کی وطن واپسی کے اعلان سے یہ عندیا بھی ملتا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کے سلسلے میں کسی طرح کی محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہتی ہیں۔

پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، وہ اقتدار میں ہوں یا اختلاف میں، غیر منظم سیاسی گروہ بن کر رہ گئی ہیں جن کی نہ کوئی نظریاتی بنیاد ہے نہ کوئی واضح سیاسی و سماجی پروگرام۔ محض شخصیات پر انحصار ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے اراکین کو بھی اپنی وفاداریاں بدلنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا، جس کا پلہ بھاری دیکھا اس طرف لڑھک گئےاور جو ایسا نہیں کرتے وہ بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کہ’دیکھئے ہم برے وقت میں بھی آپ کے ہی ساتھ رہے۔‘

خود حکمراں مسلم لیگ اور صدر پرویز مشرف میں تعلق کی کوئی نظریاتی یا اخلاقی بنیاد نظر نہیں آتی،ماسوا اس کے کہ دونوں کو معلوم ہے کہ اگر ایک گیا تو دوسرے کا بھی وجود خطرے میں پڑ جائےگا۔ باقی جو دوسری پارٹیاں یا گروہ ان کے ساتھ نتھی ہیں وہ اتنے چھوٹے ہیں کہ حکومت میں شامل رہ کرہی زندہ رہ سکتے ہیں علیحدہ ان کا وجود اور عدم وجود برابر ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں اب بھی شکوک وشبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں

مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کا حال یہ ہے کہ اگر جمیعت العلماء اسلام اس سے الگ ہوجائے تو باقی سب یتیم ہوجائیں گے۔ اگرچہ اس میں جماعت اسلامی جیسی منظم اور نظریاتی جماعت بھی شامل ہے لیکن اسمبلیوں میں ان کی حیثیت سمندر میں قطرے کی ہے۔ وہ لاکھ چاہیں، کسے کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

مسلم لیگ (ن) کا حال یہ ہے کہ ’ن‘ نکال دیجئے تو کچھ نہیں بچتا۔ اس کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے آنے کا اتنا شور تھا وہ سعودی عرب چلے گئے تو باقی سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔

ایسی صورت میں اس طرح کا فیصلہ ایک طرح کا سیاسی جوا ہے جس کی کامیابی کا انحصار سو فیصد اتحاد میں شامل رہنماؤں کی دیانتدار اور بے لوثی پر ہے۔ اگر ان میں سے کسی نے اس سے انحراف کیا، جسکے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، توعوام کی مایوسی اور بددلی کی شکل میں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

صدر مشرفوردی اور انتخاب
پہلے صدرارتی انتخاب پھر وردی کی بات
سپریم کورٹسپریم کورٹ کا حکم
’عدالت سے اب آنکھ مچولی بند کی جائے‘
افتخار چودھریمعطلی سے بحالی تک
افتخار چودھری: عوام کا چیف جسٹس
جسٹس افتخار’پیپلز چیف جسٹس‘
کیا بڑھی ہوئی عوامی توقعات سے انصاف ہوگا؟
بے نظیر بھٹووطن واپسی اور وردی
بے نظیر کی صدر مشرف کے ساتھ ’خفیہ مفاہمت‘
اسی بارے میں
اسمبلی سے استعفے: APDM کا اعلان
16 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد