BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آنکھ مچولی بند کریں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ
اب یہ بات شک سے بالاتر ہے کہ تمام لاپتہ افراد سرکاری ایجنسیوں کی تحویل میں ہی ہیں
سپریم کورٹ کی سات رکنی بنچ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ تمام لاپتہ افراد کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحویل سے آزاد کرانے کا بندوبست کرے کیونکہ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ لاپتہ افراد ان ایجنسیوں کی تحویل ہی میں ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کی سات رکنی بنچ نے آج صبح لاپتہ افراد کے کیس میں ایجنسیوں کی تحویل سے برآمد ہونے والے دو مزید افراد کا مؤقف سننے کے بعد اپنے مختصر حکم میں کہا کہ اب یہ بات شک سے بالاتر ہے کہ تمام لاپتہ افراد سرکاری ایجنسیوں کی تحویل میں ہی ہیں اور اس حوالے سے سرکاری اہلکاروں کے بیانات اور دعوے درست نہیں۔ لہذا اس معاملے میں انفرادی کیسز کی تحقیق کی بجائے حکومت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ تمام افراد کو رہا کرے اور اگر کسی کے خلاف مقدمات ہیں تو انہیں متعلقہ عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت آئین کو تماشہ نہیں بننے دے گی اور اگر حکومت چاہتی ہے کہ تمام ادارے اچھی طرح چلتے رہیں تو ان افراد کو پیش کر دیا جائے ورنہ عدالت اب تک برآمد ہونے والے افراد کی گواہیاں ریکارڈ کرنے کا سلسلہ شروع کر دے گی۔

آئین کو تماشہ نہیں بننے دیں گے
 عدالت آئین کو تماشہ نہیں بننے دے گی اور اگر حکومت چاہتی ہے کہ تمام ادارے اچھی طرح چلتے رہیں تو ان افراد کو پیش کر دیا جائے
چیف جسٹس

عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ لاپتہ افراد کی فہرست کے مطابق تمام لاپتہ افراد کی رہائی کو یقینی بنائیں۔

عدالت نے اکیس ستمبر تک کیس کو ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو یہ بھی حکم دیا کہ اب تک رہا کیے گئے افراد کی بیانات حلفی ریکارڈ کر کے اگلی پیشی پر عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔

انٹیلیجنس ایجنسی سے گزشتہ ماہ برآمد ہونے والے عمران منیر کے بارے میں عدالت نے حکم دیا کہ وہ بدستور ہسپتال میں زیر علاج رہیں گے۔ اگر فوج ان پر مقدمہ چلانا چاہتی ہے تو اگلی سماعت میں وزارت دفاع کی اس درخواست کے نکات پر بات کی جائے گی۔ عدالت نے عمران منیر کی تحویل کو پولیس سے فوج کو منتقل کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ عدالت نے یہ حکم مزید دو لاپتہ افراد کے ابتدائی بیانات سننے کے بعد جاری کیا۔

شازیہ مبشر نے عدالت کو بتایا کہ اسے جنوری 2004 میں ان کے تمام اہل خانہ، جن میں ان کا شوہر، باپ، سسر اور خاندان کے دیگر افراد شامل ہیں، اٹھایا گیا تھا اور اٹک قلعہ میں قائم فوجی عدالت نے ان کے شوہر کو صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے کے جرم میں سزا سنائی گئی جب کہ شازیہ کو بری کر دیا لیکن فوجی عدالت سے بری ہونے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا بلکہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جہاں وہ کئی ماہ بغیر کسی مقدمے کے قید رہیں۔

عدالت کے حکم پر پولیس نے شازیہ کے سسر کو سمہ سٹہ پولیس کی تحویل میں عدالت میں پیش کر دیا جب کہ شازیہ کے بقول ان کے والد کا تاحال کچھ پتا نہیں چل سکا۔

جہلم سے راولپنڈی منتقل کیا گیا ہے
 پیر کی رات جہلم سے راولپنڈی منتقل کیا گیا ہے اور ایک پولیس والا منگل کو اسے عدالت میں لایا ہے
حافظ محمد عابد

لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ایک اور فرد حافظ محمد عابد نے بتایا کہ اسے کل رات جہلم سے راولپنڈی منتقل کیا گیا ہے اور ایک پولیس والا منگل کو اسے عدالت میں لایا ہے جس نے اسے ایک بیان دینے کی بھی ہدایت کی تھی۔

عدالت کے استفسار پر حافظ عابد نے بتایا کہ یہ ایک جھوٹا بیان ہے جو وہ عدالت کے سامنے نہیں دینا چاہتا۔ عدالت نے مذکورہ پولیس افسر کو کمرہ عدالت میں طلب کیا تو اس نے بتایا کہ وہ جنوبی پنجاب کے قصبے سمہ سٹہ سے آیا ہے اور حکام بالا کی ہدایت کے مطابق وہ منگل کی صبح اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ کے چوراہے پر کھڑا ہو گیا جہاں ایک کار آئی جس میں سوار چند افراد نے حافظ عابد اس کے حوالے کر کے اسے سپریم کورٹ لے جانے کے لیے کہا۔

پولیس افسر نے کہا کہ اسے نہیں معلوم کہ کار میں سوار افراد کون تھے البتہ اس نے گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا تھا۔

اس موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا عدالت کے پاس کافی شہادتیں جمع ہو چکی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ لاپتہ افراد سرکاری ایجنسیوں کی تحویل ہی میں ہیں لہذا آپ انہیں پیش کر دیں اور عدالت اور آئین کا مزید تماشہ نہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے اور یہ معاملہ اب آخری حدوں کو چھو رہا ہے ہم اس مسئلے کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ عمران منیر کو گواہی کے لیے کٹہرے میں لائیں اور اگر آپ بھی یہی چاہتے ہیں کہ تمام ادارے اپنا کام کرتے رہیں تو غیر قانونی گرفتار شدگان کو رہا کر دیں۔

ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے
 ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے اور یہ معاملہ اب آخری حدوں کو چھو رہا ہے ہم اس مسئلے کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے
چیف جسٹس

جسٹس راجہ فیاض نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے اور حافظ عابد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ان لوگوں نے کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے اور ایجنسیوں نے آئین کا تماشہ بنا رکھا ہے۔ کیا لگتا ہے کہ اس ملک میں آئین ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس کو ان کی نائب ناہیدہ محبوب الہی دیکھ رہی ہیں اور اس کی جزویات کا انہیں علم نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں کچھ وقت دیا جائے۔ جسٹس نواز عباسی نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اب عدالت سے یہ آنکھ مچولی بند کر کے جن لوگوں پر مقدمات ہیں انہیں عدالتوں میں لے جائیں اور باقیوں کو رہا کریں یا ہمارے سامنے پیش کریں۔

اٹارنی جنرل کی درخواست پر مقدمے کی سماعت اکیس ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

ادھر حزب التحریر نامی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کے نائب ترجمان عمران یوسف زئی کو انٹیلیجنس ایجنسیوں نے حراست میں لے لیا ہے۔

حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ کے مطابق چھبیس سالہ عمران چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی تعلیم کے بعد تنظیم سے وابستہ ہوئے اور گزشتہ ماہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔

بھوک ہڑتالی کیمپ’لاپتہ کی تلاش‘
گمشدہ بلوچوں کی بازیابی کےلیے بھوک ہڑتال
لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
بھارتی فوجیلاپتہ بھارتی فوجی
جنگ اکہتر کے لاپتہ فوجی یا جنگی قیدی
لاپتہ افرادگمشدہ افراد واپس
سرحد میں آٹھ افراد رہا ہوئے: انسانی کمیشن
’آزاد‘ کشمیر میں لاپتہ۔۔۔لاپتہ کشمیری
لاپتہ افراد کے اہل خانہ فریاد کرتے ہیں
شیرپاؤ’رابطہ کریں‘
لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں: آفتاب شیرپاؤ
جسٹس افتخار چودھری’ ناروا سلوک‘
جسٹس افتخار سے پولیس کے ناروا سلوک کا نوٹس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد