نواز، فضل ملاقات تین گھنٹے تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے دارالحکومت جدہ میں جلاوطن پاکستانی لیڈر نواز شریف سے پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کےسیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی ہے۔ دس ستمبر سنہ دو ہزار سات کو نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے بعد سے کسی مرکزی پاکستانی سیاستدان سے یہ ان کی پہلی ملاقات ہے اور یہ ملاقات نواز شریف کی سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کے بعد عمل میں آسکی ہے۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ ملاقات کے دوران نواز شریف بڑے ’موڈ‘ میں لگ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’ماشا اللہ انہوں نے اچھے طریقے سے اس سارے مشکل مرحلے کو عبور کیا ہے اور بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔‘ اس ملاقات کی تفصیلات مولانا فضل الرحمان کی سیاسی پارٹی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے جاری کی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان ان دونوں عمرہ کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔
جے یو آئی کے ترجمان کے مطابق میاں نواز شریف کی دعوت پر مولانا فضل الرحمان مدینہ منورہ سے جدہ پہنچے جہاں نواز شریف کی قیام گاہ جدہ پیلس میں ان کی نواز شریف سے مجموعی طور پر تقریباً تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے پہلے دور میں جے یوآئی کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری بھی موجود تھے۔ یہ ابتدائی ملاقات دو گھنٹے جاری رہی اور افطار ڈنر کے بعد ملاقات کا دوسرا دور ہوا۔ دوسرے دور کی ایک گھنٹہ ملاقات دونوں رہنماؤں نے تنہائی میں کی اور اس ملاقات میں ان کے علاوہ کوئی دوسرا شریک نہیں ہوا۔ دوسرے دور کی ون ٹو ون ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں البتہ پہلے دور کےحوالے سے جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ موجودہ صدارتی انتخابات اور اس کے حوالے سے آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ اس ملاقات سے پہلے اے پی ڈی ایم کا اسلام آباد میں اجلاس منعقد ہوچکا تھا جس میں پرویز مشرف کے دوبارہ صدارتی انتخاب کی صورت میں مشترکہ استعفوں کا اعلان کیا جا چکا تھا۔ اسلام آباد کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان اگرچہ موجود نہیں تھے لیکن انہوں نے اس کی تفصیلات سے نواز شریف کو آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ اجلاس کے دوران وہ اپنی پارٹی کے ساتھیوں اور جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد سے رابطے میں رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے استفسار پر نواز شریف نے اپنی جلاوطنی کا واقعہ انہیں تفصیل سے سنایا۔ جے یو آئی کے ذرائع کا کہنا ہے عام انتخابات کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے مختلف آپشنز پر اظہار خیال کیا البتہ مولانا فضل الرحمان نے انتخابات کے موقع پر بائیکاٹ کے آپشن کی سختی سے مخالفت کی۔ جے یو آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے الیکشن کمشن کے اس حالیہ نوٹیفیکشن کو غیر قانونی اور غیر جمہوری قرار دیا جس کے تحت صدر مشرف چیف آف آرمی سٹاف رہتے ہوئے صدر کا انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ جے یوآئی کے ترجمان کےمطابق مولانا فضل الرحمان ابھی مزید چند روز سعودی عرب میں ہیں اور ان کی نواز شریف سے دوبارہ ملاقات خارج ازامکان نہیں ہے۔ مسلم لیگ نون کی جانب سے اس ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ مسلم لیگ نون کے ترجمان احسن اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ملاقات کی تفصیل صرف جے یوآئی کے سیکریٹری جاری کر رہے ہیں اور وہ خود اس بارے میں لاعلم ہیں۔ پاکستان میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں قیام کےدوران نواز شریف کے سیاسی بیانات جاری کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی رہتی ہے ان حالات میں سعودی فرماں روا سے ملاقات کے بعد ان کے اہم اپوزیشن سیاسی رہنما سے ملاقات سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی سیاست میں اہمیت کی حامل ہے۔ |
اسی بارے میں شاہ عبداللہ سے نواز شریف کی ملاقات16 September, 2007 | پاکستان اسمبلی سے استعفے: APDM کا اعلان16 September, 2007 | پاکستان ’نو ڈیل‘ کی افواہوں کا قتل15 September, 2007 | پاکستان میاں صاحب گئے محترمہ آرہی ہیں15 September, 2007 | پاکستان سعودی مداخلت، بھیانک واقعہ: نثار13 September, 2007 | پاکستان ’نواز شریف کو دھوکے سے جدہ بھیجا‘11 September, 2007 | پاکستان نواز جلاوطنی پر اخبارات کا ردِعمل11 September, 2007 | پاکستان نواز کی ملک بدری پر عالمی تشویش11 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||