 | | | ’مشرف حکومت نے نواز شریف کو اغواء کر کے زبردستی جدہ بھجوایا ہے‘ |
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو ایک بار پھر جلاوطن کیے جانے کی بین الاقوامی معاملات میں دلچسپی لینے والے ممالک کی طرف سے سفارتی محتاط انداز میں کم و بیش مذمت کی جا رہی ہے۔ امریکہ میں اس حوالے سے دو طرح کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اسے پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے مستقبل قریب میں ہونے والے عام انتخابات کے غیر جانبدارانہ اور شفاف انعقاد پر زور دیا ہے۔ لیکن امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے نواز شریف کی ملک بدری کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کو وطن واپسی کا حق حاصل تھا۔برطانوی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اگرچہ سیاست پاکستانی سیاستدانوں کا اندرونی معاملہ ہے لیکن برطانیہ کو موجودہ صورتحال پر تشویش ہے۔ ’ہم حکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی کے لیے قانونی اور عدالتی ضابطوں کا خیال رکھا جائے۔‘
 | دفاع کا حق  مسٹر شریف کے خلاف اگر کوئی مقدمہ تھا تو انہیں پاکستانی عدالتوں کے سامنے اپنے دفاع کا حق دیا جانا چاہیے تھا  یورپی یونین |
یورپی یونین نے نواز شریف کو ملک بدر کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مسٹر شریف کے خلاف اگر کوئی مقدمہ تھا تو انہیں پاکستانی عدالتوں کے سامنے اپنے دفاع کا حق دیا جانا چاہیے تھا۔‘ہمسایہ ملک بھارت نے اسے پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان میں امن اور استحکام رہے گا۔ ادھر انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے بھی واقعہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو زبردستی ملک بدر کر کے پاکستان اور سعودی عرب نے عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔ نیو یارک میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے اقدامات پاکستانی آئین اور عدالتی فیصلوں سے براہ راست متصادم ہیں۔ |