BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 September, 2007, 23:10 GMT 04:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اغوا کا مقدمہ قائم ہو سکتا ہے‘

سجاد علی شاہ
سابق ججوں نےنواز شریف کو ملک بدر کیے جانے کو عدالتِ عظمٰی کے فیصلے کی توہین قرار دیا ہے
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق ججوں نے معزول وزیرِاعظم نواز شریف کو ملک بدر کیے جانے کو عدالتِ عظمٰی کے فیصلے کی توہین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام اغوا کے زمرے میں آتا ہے اور اس پر اغوا کا مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس وجہیہ الدین احمد نے کہا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے اور توہینِ عدالت ہے۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ اغوا کا کیس ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کے واقعہ میں جہاز کو جہاں اترنا تھا وہیں اتر گیا لیکن اس کو موڑنے کی کوشش کی گئی تھی جس پر کیس بنا اور نواز شریف کو اس میں عمر قید کی سزا ہوئی ’لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حالیہ واقعہ اس سے بھی بدتر ہے اور اس سے پہلے جو شہباز شریف صاحب کے ساتھ ہوا تھا وہ بھی اسی قسم کی بات تھی۔ یہ تو وقت کی بات ہے کہ کس کے ساتھ کس قسم کی جوابدہی ہو‘۔

معزول وزیرِاعظم نواز شریف کو جبراً واپس بھیجے جانے پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانونی پوزیشن بالکل واضح ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان کو آنے کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے کسی بھی شہری کو ملک بدر نہیں کیا جاسکتا اور ایک شہری کو آئین کی شق پندرہ کے تحت اجازت دیتا ہے کہ شہری ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایات بھی دیں ہیں کہ ان کے یہاں پہنچنے کے بعد رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔ ’اسی وجہ سے وہ (نواز شریف) آئے تھے اور ان کو وہیں ایئرپورٹ سے واپس کر دینا، میں سمجھتا ہوں قانون کے خلاف ہے اور آئین کے بھی خلاف ہے۔ اس میں عدالت کے فیصلے کی توہین ہوئی ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے‘۔

سجاد علی شاہ نے کہا کہ ’وہ جب ائرپورٹ پہنچ گئے تھے تو زبردستی کس نے ان کو بھیجا ہے۔ وہ پاکستانی شہری ہیں۔ ابھی تو ہمیں حقائق کا بھی پتہ نہیں ہے کہ ان کو واپس جدہ کیوں بھیج دیا گیا ہے، اغوا کا مقدمہ بھی ہوسکتا ہے۔‘

بچوں جیسی باتیں
 یہ پوزیشن بالکل واضح ہے اور اس وقت جو بیانات آ رہے ہیں کہ اجازت صرف آنے کی ملی تھی اور ڈی پورٹ کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی، یہ تو میرے خیال میں بالکل بچوں جیسی باتیں کر رہے ہیں
ناصر اسلم زاہد، سابق چیف جسٹس

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ناصر اسلم زاہد نے کہا ہے کہ وہ معاہدے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، لیکن ملکی اور عالمی قانون اور آئین میں صورتِ حال بالکل واضح ہے اور یہی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل پندرہ کے تحت ایک شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک واپس آئے اور جہاں چاہے رہے۔

انہوں نے کہا کہ بے تحاشہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو واپس پاکستان کیوں بھیجا جاتا ہے ’اس لیے کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ قانونی طور پر جو ہمارے شہری ہیں ان کو اپنے یہاں قبول کریں اور اس پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی جاسکتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص کو سزا ہو جائے اور وہ لکھ کر دے دے کہ اس کی سزا معاف کر دی جائے تو وہ ملک سے باہر چلا جائے گا اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا اور قسم بھی اٹھا لے لیکن اس کے باوجود کوئی اس سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ پوزیشن بالکل واضح ہے اور اس وقت جو بیانات آ رہے ہیں کہ اجازت صرف آنے کی ملی تھی اور ڈی پورٹ کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی، یہ تو میرے خیال میں بالکل بچوں جیسی باتیں کر رہے ہیں‘۔

ریٹائر جسٹس ناصر اسلم زاہد نے حکومت کی جانب سے اسلام آباد ایئرپورٹ کی طرف جانے والے راستوں کی بندش کے حوالے سے کہا کہ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ میں بارہ مئی سے متعلق پیر کو مقدمہ کی سماعت نہیں ہو سکی۔ انتظامیہ اور پولیس کو لوگوں کو روکنا چاہیے تھا اور پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ کورٹ کیسے جا رہے ہیں۔ ’کورٹ میں تو جانے کی اجازت مل گئی لیکن ایئرپورٹ پر لیڈر کے استقبال کے لیے اجازت نہیں دے گئی۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت یا انتظامیہ راستے بند کر سکتی ہے بشرط یہ کہ کوئی ہنگامہ آرائی اور لوگوں کی جان و مال کا خطرہ ہو، لیکن پھر کورٹ میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ حالات ایسے تھے کہ اس اقدام کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

مشرفہندوستان میں ردعمل
نواز شریف کی آمد، تابوت میں ایک اور کیل
رپورٹرز نے کیا دیکھارپورٹرز نے کیا دیکھا
راولپنڈی اسلام آباد سے تازہ ترین صورتِ حال
خدشات اور سکون
’ان کے چہرے پر پہلی دفعہ مکمل سکون تھا‘
سابق وزیراعظم میاں نواز شریفنواز فلائٹ
ہیتھرو سے اسلام آباد تک کا سفر
نواز شریفنواز واپسی اور سندھ
سندھیوں کو پنجاب کے ردعمل کا انتظار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد