’سیاسی تابوت میں ایک اور کیل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اپنے ملک روانگی کی خبر میں ہندوستان کے لوگوں کو گہری دلچسپی رہی ہے۔ پیر کو میاں نواز شریف کی جلا وطنی کے سات برس بعد پاکستان واپسی کی خبر نہ صرف ملک کے سب اخبارات کی نمایاں خبر تھی بلکہ ان کی اسلام آباد آمد اور بعد میں ہونے والے تمام واقعات کو ملک کے کم از کم سترہ نیوز چینلوں نے ایک ساتھ براہ راست نشر کیا۔ اخبارات میں تجزیاتی مضامین اور تبصرے شائع ہوئے ہیں اور ٹیلی ویثرن پر بڑے بڑے تجزیہ کار بحث مباحثے پیش کر رہے تھے۔ ملک کے سرکردہ اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے ایڈیٹر عزیز برنی کا خیال ہے کہ جلاوطنی کے باوجود نواز شریف نے اپنا کردار ادا کر دیا ہے۔’ میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کی وطن واپسی ہوگئی۔ عوام جمہوریت کے لیے بے چین ہیں اور انہوں نے صدر مشرف کو یہ بتا دیا ہے کہ وہ جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں‘۔ سرکردہ تجزیہ کار سعید نقوی کا خیال ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے فیصلے سے بے نظير اور جنرل پرویز مشرف کی مبینہ ڈیل کو دھچکا لگا ہے۔’ نواز شریف نے اسلام آباد جا کر بے نظیر بھٹو اور صدر مشرف کی پارٹی میں خلل ڈال دیا ہے۔ اب کوئی ڈیل کر کے بے نظیر کے لیے اسلام آباد آنا مشکل ہوگا‘۔ ملک کے سرکردہ سفارتکار ستیش چندرا کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے نواز شریف کو بے وطن کر کے آج پھر عدلیہ سے نئے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ’ نواز شریف کو آنے کی اجازت سپریم کورٹ نے دی تھی۔ انہیں جلاوطن کر کے صدر مشرف نے عدالت کی توہین کی ہے‘۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔’چیف جسٹس کی معطلی کے بعد ان کی حمایت میں جس طرح ہزاروں وکلاء اور بعد میں لاکھوں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے اس سے یہ بات واضح ہے کہ کوئی بھی حکومت آئندہ عدلیہ اور قانون کی بالادستی کو نظر انداز کرنے کی جرات نہیں کرسکتی‘۔ ستیش چندرا کا خیال ہے کہ جنرل مشرف کے اقتدار کے اب زیادہ دن نہیں بچے ہیں۔ ہندوستان میں صدر مشرف کی صدارت کے برقرار رہنے اور جمہوریت کی بحالی کے بارے میں سرکاری طور پر ملے جلے تاثرات ہیں لیکن جمہوریت کے حامیوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی دوبارہ جلا وطنی جنرل کے سیاسی اور ذاتی تکبر کا اظہار ہے۔ لیکن ان کی طاقت اب بتدریج کمزور پڑ رہی ہے۔ ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں ایک ناظر نے کہا ہے ’ نواز شریف کو جلا وطن کر کے جنرل مشرف نے اپنے سیاسی تابوت میں آخری نہیں تو کم از کم ایک اور کیل ضرور ٹھونک لی ہے‘۔ |
اسی بارے میں ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا10 September, 2007 | پاکستان پاسپورٹ امیگریشن کے حوالے کرنے سے انکار، نواز شریف اب لاؤنج میں10 September, 2007 | پاکستان پاسپورٹ امیگریشن کے حوالے کرنے سے انکار، نواز شریف اب لاؤنج میں10 September, 2007 | پاکستان فوج سے شراکتِ اقتدار کی کڑوی گولی 10 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||