بدترین خدشات درست ہونے کا سکون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی کے 786 پر نواز شریف کے ساتھ لندن سے سفر کرنے والے صحافی ایک دوسرے کو بتا رہے تھے کہ یہ تاریخی سفر ہے۔ سات سال سے جلاوطن ایک سیاسی رہنما کی واپسی، ایک سیاسی جدوجہد کا آغاز خمینی جیسا انقلاب نہیں تو کم از کم بے نظیر بھٹو جیسا 1986ء والا استقبال تو ضرور ہو سکتا ہے۔ لیکن چکلالہ ایئرپورٹ پر انہیں ملی پنجاب پولیس کی روایتی مہمان نوازی۔ پہلے سیلوٹ، پھر چائے بسکٹ، گرفتاری کا اعلان، پھر دھکے اور آخر میں درجنوں کیمروں کے سامنے ملک کے ایک شہری کی دوبارہ جلاوطنی۔ لینڈ کرنے سے چند منٹ پہلے تک فلائٹ نارمل تھی۔ جہاز کا عملہ مسافروں کو ڈیوٹی فری ڈیجیٹل قرآن اور چاکلیٹ بیچنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ بچے رو رہے تھے۔ نو افراد پر مشتمل ایک خاندان اس میت کے بارے میں فکرمند تھا جسے وہ دفنانے کے لیے پاکستان لا رہے تھے۔ جہاز جیسے ہی لینڈ کرنے کے لیے نیچے آیا، نواز شریف اکانومی کلاس میں آ گئے۔ ان کے گال پالش کیے ہوئے سیبوں کی طرح چمک رہے تھے، ان کے نئے بالوں کے نیچے پرانی ٹنڈ پر پسینہ تھا، ان کے چہرے پر اس شخص کا تذبذب تھا جو ایک بڑا قدم اٹھا چکا ہو لیکن اسے یہ پتہ نہ ہو کہ وہ کھائی میں گرے گا یا قوس قزح پر سوار ہوگا۔ میں نے سوچا کہ کیا کان کے ساتھ مسلسل موبائل فون لگائے ہوئے اس شخص کو پتہ ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ڈیپورٹیشن یا جیل۔ ان کے ہر ساتھی کے پاس یہی جواب تھا لیکن یوں لگ رہا تھا کہ اپنی سیاسی آپشنز کا پورا ادراک ہونے کے باوجود نواز شریف کسی معجزے کی امید میں تھے۔ یہ امید اس وقت ختم ہونا شروع ہوئی جب ایک نوجوان پولیس افسر نے انہیں آ کر سیلوٹ کیا اور ساتھ چلنے کو کہا۔ نواز شریف کے ساتھیوں میں جذبے کی شدت تھی لیکن کوئی پلان نہیں تھا۔ سوائے لارڈ نذیر احمد کے جنہوں نے پولیس سے کہا کہ آؤ برٹش طریقے سے مذاکرات کرتے ہیں۔
جہاز سے اتریں یا نہ اتریں، پاسپورٹ امیگریشن والوں کو دیں یا نہ دیں، یا بس جہاز میں بیٹھے ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگاتے رہیں۔ قانون نافذ کرنے والوں یا اس کیس میں سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود قانون کی خلاف ورزی کرنے والے لوگوں کا صبر طویل تھا لیکن ارادہ پکا۔ نیچے آ جائیں۔ چلو نیچے آ جائیں گے لیکن پہلے پولیس والوں کو ہٹاؤ۔ پولیس والے ہٹے، ان کی جگہ بغیر وردی والے آ گئے جو نہ جانے کیوں ہمیشہ زیادہ خطرناک لگتے ہیں۔ بس تک چل کے نہیں جائیں گے۔ چلو بس جہاز کے ساتھ لگا دیتے ہیں۔ اس وقت تک لارڈ نذیر احمد کے پنجابی میں کیے جانے والے برطانوی طریقہ کار کے مذاکرات کامیاب لگ رہے تھے۔ نواز شریف جہاز کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے رکے اور اپنا عوامی لیڈر والا پوز بنا کر ہاتھ ہلایا۔ اس کے جواب میں دور کھڑے پولیس کے ایک دستے میں سے کچھ لوگوں نے ہاتھ ہلایا لیکن اس کے علاوہ میلوں دور تک پھیلی ہوئی ایئرپورٹ کی ویرانی ہی ویرانی تھی۔ بس میں کھڑے ہو کر نواز شریف نے جیب سے کنگھی نکالی اور اپنے نئے بالوں کو سنوارا۔
اس کے بعد راول لاؤنج میں موبائل فون ملانے کی ناکام کوششیں۔ میڈیا بے تاب کہ اب کیا ہوگا۔ نواز شریف کے چہرے پر پسینے کی ہلکی سی تہہ۔ خمینی بننے کا خواب پنجاب پولیس کے کمانڈوز کے ارادوں سے سر ٹکرا کر بکھر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ سادہ کپڑے والوں کی ٹکڑیوں میں مشورے تیز ہونے لگے، واکی ٹاکی پر کھسر پھسر بڑھتی گئی اور لارڈ نذیر احمد کی جگت بازی نیم دلانہ ہونے لگی۔ ’چلو اور کچھ نہیں تو چائے ہی پلا دو۔‘ نواز شریف نے چائے پی اور سکون کے ساتھ کیک کھایا۔ کیسا لگ رہا ہے، ایک انگریز رپورٹر نے پوچھا۔ نواز شریف نے چائے کا گھونٹ لیا، توقف کیا اور کہا ’اب تک تو اچھا ہے آگے کا پتہ نہیں۔‘ جب ڈراپ سین شروع ہوا تو صرف چند منٹ لگے۔ وردی والوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گھیرا ڈالا، ان کے پیچھے بغیر وردی والوں نے اس سے بھی مضبوط گھیرا بنایا اور لے چلے۔ نواز شریف کے ساتھیوں کی مزاحمت رسمی تھی۔ دھکے نہ دو، یہ تمہارا وزیراعظم رہا ہے۔ دھکے تم دے رہے ہو۔ بدتمیزی نہ کرو۔ تم بدتمیزی نہ کرو۔ تم نے اچھا نہیں کیا، تم پچھتاؤ گے۔ آپ تو پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ اس سارے شور شرابے اور دھکم پیل کے درمیان نواز شریف کے چہرے پر پہلی دفعہ مکمل سکون تھا۔ اس شخص کا سکون جس کے بدترین خدشات درست ثابت ہوئے ہوں۔ |
اسی بارے میں نواز، شہباز ہیتھرو ایئرپورٹ کی طرف روانہ09 September, 2007 | پاکستان نواز شریف واپس نہ جائیں: سعودی عرب04 September, 2007 | پاکستان ’معاہدہ صرف پانچ سال کے لیے تھا‘08 September, 2007 | پاکستان نواز واپسی کیخلاف سرگرمیوں کا الزام08 September, 2007 | پاکستان شہباز کی گرفتاری کا عدالتی حکم07 September, 2007 | پاکستان ’نواز کو واپس نہیں آنا چاہیئے‘08 September, 2007 | پاکستان ’ایک نیا نواز شریف‘08 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||