BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 September, 2007, 08:54 GMT 13:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آخر اے پی ڈی ایم لوگ کیوں نہیں لا سکا؟

نواز شریف
قاضی حسین احمد نے کچھ دن پہلے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کا اتحاد لاکھوں لوگوں کو نواز شریف کے استقبال کے لیے لائے گا
پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پاکستان آئے اور چلے بھی گئے، لیکن ان کی آمد نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اکثر لوگ حیران ہیں کہ نواز شریف کے استقبال کے لیے دس لاکھ لوگوں کو لانے کا دعویٰ کرنے والے ’آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ‘ یعنی ’اے پی ڈی ایم‘ کے رہنما زیادہ افراد جمع نہیں کر سکے۔

مولانا فضل الرحمٰن اور قاضی حسین احمد کو نظر بند کردیا گیا اور ظاہر ہے کہ وہ جلوس میں شریک نہیں ہوئے لیکن ان کی جماعتوں کا کوئی کارکن اسلام آباد کے مرکزی استقبالی جلوس میں کیوں شریک نہیں ہوسکا؟

اس بارے میں قاصی حسین احمد نے کہا کہ وہ مار دھاڑ نہیں چاہتے تھے اور پرامن استقبال کرنا چاہتے تھے۔

اسلام آباد سے نکالے گئے مرکزی استقبالی جلوس میں جو سات آٹھ گاڑیاں اور بیس پچیس افراد نظر آئے وہ سب مسلم لیگ نواز کے تھے۔ ان میں بھی لیڈر زیادہ اور کارکن کم تھے۔

نواز شریف کی جلا وطنی کے ایک دن بعد اے پی ڈی ایم کا احتجاجی جلسہ

مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ان کی جماعت کے تین ہزار کارکن گرفتار کیے گئے جبکہ مسلم لیگ وکلا ونگ کے نصیر بھٹہ کا کہنا ہے کہ پندرہ سو لوگ جیلوں میں قید ہیں، ان کے مطابق ساڑھے تین سو کارکن لاہور میں گرفتار ہوئے۔

جبکہ وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ کہتے ہیں کہ حکومت نے ایک ہزار مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کو گرفتار کیا۔

اکثر تجزیہ کار جو کہہ رہے تھے کہ میاں نواز شریف کے لیے لوگوں کا سمندر امنڈ آئے گا اب وہ خود بھی پریشان ہیں کہ آخر مسلم لیگ نواز کے ساتھ ہوا کیا ہے؟ اگر احسن اقبال کے دعوے کو درست بھی مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آٹھ کروڑ کی آبادی والے پنجاب میں مسلم لیگ کے تین ہزار کارکن ہیں؟

حکومت کی پابندیاں اور گرفتاریاں اپنی جگہ۔ ظاہر ہے کہ ہر حکومت ایسا کرتی ہے اور اپریل سن دو ہزار پانچ کو جب آصف علی زرداری دبئی سے لاہور آئے تھے تو اس وقت بھی ایسا ہوا تھا لیکن اُس وقت پھر بھی صورتحال مختلف تھی۔

دس ستمبر کو نواز شریف کے استقبال کے روز مسلم لیگ نواز کے ایک کارکن بلال احمد سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کو اسلام آباد آنے کا غلط مشورہ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ لاہور میں اترتے تو صورتحال بہتر ہوتی۔

ایک اور مسلم لیگی متوالے نے کہا کہ ’ہمارے لیڈر پہلے دن سے ہی کہتے رہے کہ میاں صاحب کو ایک گھنٹے میں واپس بھیج دیں گے وہ ایئر پورٹ سے باہر ہی نہیں آئیں گے تو استقبال کے لیے لوگوں کو لانے کا کیا فائدہ‘۔

میاں نواز شریف کے وطن پہنچنے کے فیصلے پر بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انہوں نے عجلت سے کام لیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب سعودی عرب میں میاں نواز شریف پر پابندیاں ہوں گی اور ذرائع ابلاغ سے رابطہ بھی نہیں کر پائیں گے۔

یہ بات تو مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف سمیت دیگر رہنما بھی مانتے ہیں کہ آئندہ انتخابات کے موقع پر اگر میاں نواز شریف وطن نہ بھی آتے اور لندن سے بیٹھ کر معاملات چلاتے تو پھر بھی پارٹی کو سیاسی طور پر زیادہ فائدہ پہنچتا۔

لیکن ساتھ میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے شریف خاندان کی جلاوطنی کو غیر آئینی قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں میاں نواز شریف کا وطن جانے کا فیصلہ ٹھیک ہی تھا۔

نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے بعد اب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور اب لگتا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے سیاسی منظر میں عدلیہ کا کردار بھی اہم بنتا دکھائی دیتا ہے۔

سجاد علی شاہسابق ججوں کا ردعمل
’یہ اقدام اغوا کے زمرے میں آتا ہے‘
سابق وزیراعظم میاں نواز شریفنواز فلائٹ
ہیتھرو سے اسلام آباد تک کا سفر
خدشات اور سکون
’ان کے چہرے پر پہلی دفعہ مکمل سکون تھا‘
رپورٹرز نے کیا دیکھارپورٹرز نے کیا دیکھا
راولپنڈی اسلام آباد سے تازہ ترین صورتِ حال
نواز شریف’آئین سے متصادم‘
نواز شریف کی ملک بدری پر عالمی تشویش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد