نواز، جلاوطنی کے خلاف یوم سیاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد ایئرپورٹ سے ہی ایک بار پھر سعودی عرب روانہ کر دیے جانے والے پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو جدہ میں ان کی ذاتی رہائشگاہ شریف پیلس میں منتقل کیا گیا ہے۔ نواز شریف اپنی سات سالہ جلاوطنی ختم کر کے پیر (دس ستمبر) کو پی آئی اے کی ایک پرواز کے ذریعے لندن سے اسلام آباد پہنچے تھے، لیکن چند گھنٹوں بعد ہی انہیں ایک دوسرے طیارے میں چڑھا کر سعودی عرب کے لیے روانہ کر دیا گیا تھا۔ نواز شریف کو لے کر آنے والا خصوصی طیارہ جب جدہ کے شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترا تو سعودی عرب کے فرمانرواں شاہ عبداللہ کے بھائی اور اپنے ملک کی انٹیلیجنس سروس کے سربراہ شہزادہ مقرن نے ان کا استقبال کیا۔ شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز لبنان نے مقتول وزیراعظم رفیق الحریری کے بیٹے سعد حریری کے ساتھ سنیچر (آٹھ ستمبر) کو اسلام آباد میں غیر معمولی طور پر ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے نواز شریف پر زور دیا تھا کہ وہ سعودی فرما نرواں کے ساتھ کیے گئے اپنے معاہدے کا احترام کرتے ہوئے سال دو ہزار دس سے پہلے پاکستان نہ آئیں۔ تاہم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سال دوہزار میں طے پانے والا پاکستان سے دور رہنے کا معاہدہ پانچ سال کے لیے تھا نہ کہ دس سال کے لیے۔
نواز شریف کے دوبارہ سعودی عرب پہنچنے کے بعد لندن سے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بتایا کہ جدہ ایئرپورٹ پر سعودی حکام نے ان سے (نواز شریف) سے پوچھا کہ وہ کہاں رہنا پسند کرینگے تو انہوں نے اپنےگھر شریف پیلس کو ترجیح دی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی اور قائد کو مشرف حکومت نے اغواء کر کے زبردستی جدہ بھجوایا ہے، جس کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کی جائے گی۔ سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق نواز شریف سلطنتِ سعودی عربیہ میں مہمان کے طور قیام کریں گے۔ ’پاکستان اور سیاست سے دور رہنے کے اپنے عہد کی خلاف ورزی کرنے کے بعد اسلام آباد سے واپسی پر سلطنت انہیں ایک بار پھر خوش آمدید کہتی ہے۔‘ اخبار عرب نیوز کے مطابق جدہ پہنچنے پر نواز شریف تھکے تھکے سے لگ رہے تھے۔ جدہ کے علاقے الحمرہ میں واقع شریف پیلس کے باہر ان کے چاہنے والے ایک بڑی تعداد میں اکٹھے تھے۔ تاہم سعودی سکیورٹی اہلکاروں نے صحافیوں کو نواز شریف سے بات کرنے اور تصویریں بنانے کی اجازت نہیں دی۔ ادھر حال ہی میں تشکیل پانے والے کثیرالاجماعتی آل پاکستان ڈیموکریٹک ایلائنس نے نواز شریف کو ’ملک بدر‘ کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور منگل (ستمبر گیارہ) کو ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وکلاء تنظیموں نے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے اسی روز عدالتوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں ذاتی طور ان حالات کا علم نہیں جس کے تحت نواز شریف کو دوبارہ سعودی عرب بجھوایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف اپنی مرضی سے سعودی عرب گئے ہیں تو پھر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی جس کے تحت انہیں پاکستان واپس آنے اور رہنے کی آزادی دی گئی تھی۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم کا دعویٰ تھا کہ سعودی عرب واپس جانے میں نواز شریف کی مرضی شامل تھی۔ ان کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ پر نواز شریف کو نیب کی طرف سے وارنٹ گرفتاری دیے گئے اور ساتھ ہی انہیں بتایا گیا کہ سعودی حکومت کا دباؤ ہے کہ انہیں واپس بھیجا جائے۔ طارق عظیم کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق نواز شریف نے سوچ و بچار کے بعد گرفتار ہونے کی بجائے سعودی عرب جانے کو ترجیح دی۔ تاہم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت مسلسل جھوٹ بول رہی ہے۔ ان کے بقول ایئرپورٹ پر سعودی حکومت کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ انہوں نے صدر جنرل مشرف کا حوالہ دیتے کہا کہ ایک ایسا شخص عہد کی پاسداری کی بات کر رہا ہے جس نے نہ اپنے فوجی حلف کا کبھی خیال کیا ہے اور نہ ہی دسمبر سال دو ہزار چار تک وردی اتارنے کے وعدے کو نبھایا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||