سعودی مداخلت، بھیانک واقعہ: نثار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’یہ سب کچھ ایک شخص کی حمایت میں کیا گیا ہے، ایک ایسا شخص جو پاکستان میں زور بازو اور زور بندوق کے عوض حکمرانی کر رہا ہے۔‘ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ سعد حریری نے میاں نواز شریف سے لندن میں جو بات چیت کی اس کا جو بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آپ واپس جا سکتے ہیں مگر آپ ایک مہینے کے بعد جائیں جب جنرل مشرف کا الیکشن ہو جائے۔ ’سعد حریری اور میاں نواز شریف کے مابین چار ملاقاتیں ہوئیں اور اس حد تک کہا گیا کہ آپ دس تاریخ کو نہ جائیں اور بہت ہی مجبوری ہے تو آپ میاں شہباز شریف صاحب کو دس تاریخ کو بھیج دیں اور آپ صدارتی الیکشن کے بعد جائیں تو تمام راہیں آپ کے لیے کھلی ہیں۔‘ چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا: ’امریکہ نے جب کبھی دخل اندازی کی ہے تو اس کی کوشش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ یہ بیک چینلز میں رہے، اس کا سامنے اظہار نہ ہو مگر جس دیدہ دلیری سے سعودی انٹیلیجنس چیف یہاں آئے ہیں، ایک تیسرے ملک کا ایک نام نہاد گواہ وہ ساتھ لے کر آئے ہیں جس انداز سے انہوں نے وہ ایک کاغذ لہرایا ہے اور جس انداز سے انہوں نے یہاں باتیں کی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان اور سعودی عرب کے جو عوامی تعلقات ہیں، جو ایک بہت بڑا احترام کا رشتہ ہے، اس کو ایک ایسا دھچکا لگا ہے جس کے بڑے دور رس اثرات ہوں گے‘۔ |
اسی بارے میں شریف برادران پر مقدمات کی حیثیت23 August, 2007 | پاکستان نیب درخواست کی سماعت ملتوی15 August, 2007 | پاکستان ’نوازشریف 2010 تک نہیں آ سکتے‘05 July, 2005 | پاکستان شہباز کی گرفتاری کی درخواست06 September, 2007 | پاکستان شہباز شریف نواز لیگ کے صدر 02 August, 2006 | پاکستان مشرف نے ہمیں لڑانا چاہا: نواز 13 February, 2006 | پاکستان شہباز:11 مئی کو پاکستان واپسی 03 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||