BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 September, 2007, 18:13 GMT 23:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سعودی عرب کے خلاف زبان بندی کا فیصلہ

نواز لیگ کا سعودی حکومت سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کےعزم کا اظہار
پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی دوسری جلاوطنی میں سعودی عرب کے کردار پر ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) میں چھڑنے والی بحث بظاہر سعودی عرب کے حمایتی دھڑے نے جیت لی ہے۔

میاں نواز شریف دس ستمبر کو اپنی زبردستی جلاوطنی ختم کرنے کے لیے پاکستان پہنچے تھے لیکن انہیں ائرپورٹ سے ہی دوبارہ سعودی عرب واپس بھجوا دیا گیا تھا۔ تاہم پہلے کے برعکس ان کی دوبارہ جلا وطنی سے ان کی پارٹی میں سعودی کردار پر گرما گرم بحث چھڑ گئی تھی۔

اس بحث میں ایک طرف تو چوہدری نثار علی، احسن اقبال اور بڑی تعداد میں مقامی رہنما اور کارکن تھے جن کا موقف تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو سعودی کردار کے خلاف پاکستان کے اندر اور باہر متحرک کرنا چاہئے۔

ان رہنماؤں کا مشورہ تھا کہ نواز شریف کو سعودی عرب میں رہتے ہوئے بھی سعودی رہنماؤں سے اپنی اور اپنی پارٹی کی ناراضگی کا اظہار کرتے رہنا چاہیئے جبکہ پاکستان بھر میں پارٹی کارکنان کے غصے کا اظہار ملک گیر مظاہروں کی شکل میں ہونا چاہیئے۔

دوسری جانب پارٹی چیئرمین راجہ ظفرالحق اور ان کے چند ساتھیوں کا موقف تھا کہ شریف خاندان اور سعودی عرب کے شاہی خاندان کے بیچ تعلقات کو پہلے ہی ٹھیس پہنچ چکی ہے اور انہیں مزید بگاڑ کی طرف نہیں دھکیلنا چاہیئے۔

دونوں طرف کی تجاویز دبئی میں مقیم سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار باقاعدگی سے شریف برادران تک پہنچا رہے تھے اور اس بات کا قوی امکان لگ رہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سعودی مخالف احتجاج کی پالیسی اپنا لے گی۔

تاہم منگل کے روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے سعودی حکومت کے خلاف احتجاج کی پالیسی ترک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سعودی حکومت سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کےعزم کا اظہار کیا ۔

جاوید ہاشمی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جنرل مشرف کی حکومت نے ایک سازش کے تحت سعودی حکومت کو نواز شریف کی جلا وطنی میں ملوث کیا تاہم انکی جماعت سعودی فرمانروا کے خلاف اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی اور انکے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے جائیں گے۔

مسلم لیگ کی جانب سے یہ بیان پارٹی سربراہ میاں نواز شریف کی سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ سے ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا۔

اس سے پہلے دس ستمبر کو لندن سے واپسی اور جدہ روانگی کو میاں نواز شریف کا اغوا قرار دیتے ہوئے انکی جماعت نے جنرل پرویز مشرف اور سعودی حکومت پر اسکی ذمہ داری عائد کی تھی اور سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کا نام لیے بغیر ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی تھی۔

مسلم لیگ کے مرکزی راہنما صدیق الفاروق نے اگلے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اس مبینہ اغوا میں ملوث ہونے پر سعودی حکومت سے باقاعدہ احتجاج کیا جائے گا، انہیں خطوط تحریر کئے جائیں گے، مسلم لیگی وفد احتجاج کے لئے سعودی عرب جائے گا اور یہ کہ گلیوں اور سڑکوں پر سعودی عرب کے خلاف مظاہرے کئے جائیں گے۔

جاوید ہاشمی سے جب صدیق الفاروق اور پارٹی کے دیگر راہنماؤں کے ان بیانات کی بابت دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بعض رہنما جذبات سے ملغوب ہو کر اس طرح کے بیانات دیتے رہے ہیں جو پارٹی جذبات کی تو نمائندگی کرتے ہیں لیکن پالیسی کی نہیں۔

صحافیوں نے ایک بار پھر جاوید ہاشمی سے نواز شریف کی آمد کے روز انکے استقبال کی خاطر خواہ تیاری نہ کرنے کے حوالے سے تند و تیز سوال کئے جنکے جواب میں جاوید ہاشمی نے اعتراف کیا کہ انکی جماعت موقع کی مناسبت سے اپنے ورکرز کو گھروں سے باہر نکالنے میں ناکام رہی جس پر وہ نواز شریف سے شرمندہ ہیں۔

اسی بارے میں
جلاوطنی، سعودی عرب سے احتجاج
11 September, 2007 | پاکستان
نواز: جلا وطنی کے خلاف پٹیشن
11 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد