نواز: جلا وطنی کے خلاف پٹیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جلا وطنی کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے۔ ممتاز ماہر قانون فخرالدین جی ابراہیم کے ذریعے دائر کی گئی آئینی درخواست میں تیرہ افراد اور اداروں کو فریق بنایا گیا ہے اور سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کو نواز شریف کو وطن واپس لانے اور عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایات جاری کرے۔ سپریم کورٹ کے تئیس اگست کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، آئینی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت نے قرار دیا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف پاکستان کے شہری ہیں اور آئین کی آرٹیکل پندرہ کے تحت ان کو وطن واپس آنے سے نہیں روکا جا سکتا اور وفاقی حکومت، چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی تھی کہ شریف برادران کی وطن واپسی میں کسی بھی نوعیت کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو سعودی عرب بھیج کر متعلقہ حکام توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں، اس لیے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ درخواست کے مطابق متعلقہ حکام کو آئین کی دفعہ ایک سو نوے کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے تھا لیکن وہ اس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی ’صریحاً خلاف ورزی‘ کے پسِ پردہ محرک صدر جنرل پرویز مشرف ہیں۔
آئینی درخواست فریق بنائے جانے والے تیرہ اداروں میں وفاقِ پاکستان، صوبہ پنجاب بذریعہ چیف سیکریٹری، وزیر اعظم شوکت عزیز، وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ، وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ، آئی جی پنجاب احمد نسیم، چیئرمین نیب نوید احسن، سی سی پی او راولپنڈی مروت شاہ، نیب کے اہلکار کرنل (ریٹائرڈ) افضل، ڈی جی رینجرز میجر جنرل ہارون، ڈی جی ایف آئی اے طارق پرویز، چیئرمین پی آئی اے ظفر اے خان اور ڈی جی سول ایوی ایشن فاروق رحمت اللہ شامل ہیں۔ اس آئینی درخواست کے ساتھ لارڈ نذیر احمد کا بیانِ حلفی بھی داخل کروایا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کے ہمراہ لندن سے اسلام آباد آئے تھے اور پھر حکام نے انہیں زبردستی سعودی عرب بھجوا دیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکنِ قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف نے آئین کے آرٹیکل دو سو چار کے تحت سپریم کورٹ میں پیر کو ایک درخواست دائر کی تھی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ حکومت کو میاں نواز شریف کو ملک بدر کرنے سے روکے اور وہ نواز شریف اور شہباز شریف کی واپسی سے متعلق اپنے تئیس اگست دو ہزار سات کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔
جس وقت درخواست دائر کی گئی اس وقت تک نواز شریف کو سعودی عرب ملک بدر نہیں کیا گیا تھا اور لیگی قیادت کے مطابق نواز شریف کی جلا وطنی کے بعد وہ غیر موثر ہو گئی تھی۔ منگل کے روز دائر کی آئینی پٹیشن کے دو درخواست دہندگان میں پاکستان مسلم لیگ نوار اور خود سابق وزیر اعظم نواز شریف شامل ہیں۔ بعدازاں سپریم کورٹ کے باہر اخباری نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ آصف اور حمزہ شہباز نے میاں نواز شریف کو زبردستی ملک بدر کرنے کے حکومتی اقدام کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو صریحاً خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے قائد کو اغوا کیا گیا ہے اور وہ ذمہ دار افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروائیں گے۔ انہوں نے حکومت کے اس موقف کو غلط قرار دیا جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اپنی مرضی سے سعودی عرب گئے ہیں۔ لارڈ نذیر احمد نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ انہوں نے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ نواز شریف کو پیر کے روز زبردستی بیرون ملک بھیجا گیا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ آیا آپ کا یہ اقدام کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ دوہری شہریت رکھتے ہیں اس لیے انہوں نے بطور پاکستانی اپنا بیان حلفی عدالت میں جمع کروایا ہے۔ جب اٹارنی جنرل ملک قیوم سے میاں نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی جن سرکاری اہلکاروں سے بات ہوئی ہے ان کے مطابق میاں نواز شریف اپنی مرضی سے سعودی عرب گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں نواز کو بینظیر پر برتری ہو گی: کھر 10 September, 2007 | پاکستان ’یہ معاملہ ضامنوں اورعدالتوں کاہے‘10 September, 2007 | پاکستان نواز، جلاوطنی کے خلاف یوم سیاہ11 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||