BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جلاوطنی، سعودی عرب سے احتجاج

رسول بخش پلیجو
یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے: رسول بخش پلیجو
حزب اختلاف کی جماعتوں کےاتحاد اے پی ڈی ایم نے سابق وزیر عظم نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی کے فوراً بعد سعودی عرب منتقلی پر سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے اور اس پر سعودی حکومت سے سفارتی اور عوامی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

اے پی ڈی ایم کے راہنماؤں رسول بخش پلیجو نے منگل کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ میاں نواز شریف کو ذاتی طور پر لینے آئے تھے اور جدہ میں انہیں عملاً جیل میں قید کر دیا گیا ہے، ان کو کسی سے ملنے اور بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی فرمانروا کو اپنے خطاب ’خادمین حرمین شریفین’ کا لحاظ کرتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیر اعظم کے اغوا میں ملوث نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا ’ کسی آسمانی فرشتے کو بھی حق نہیں کہ وہ کسی ملک کے شہری کو یوں اغوا کر کے کسی دوسرے ملک میں قید کر دے۔ سعودی حکومت، امریکہ کے کہنے پر جیلر بن گئی ہے اور ہم اس پر احتجاج کرتے ہیں۔‘

سندھ سے تعلق رکھنے والے قوم پرست راہنما نے بے نظیر بھٹو سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت اور آئین کے قاتل جنرل سے ہاتھ ملانے کے بجائے اپنے والد ذولفقار علی بھٹو اور سندھ کے عوام کی لاج رکھتے ہوئے آمریت کے خلاف جدوجہد میں شامل ہو جائیں۔

مسلم لیگی راہنما صدیق الفاروق نے اس موقع پر کہا کہ اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں نواز شریف کی ملک بدری کے خلاف منگل کے روز ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔

ایک سوال پر صدیق الفاروق نے کہا کہ سعودی حکومت سے نواز شریف کی بازیابی کے لئے رابطہ کیا جائے گا۔ اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے انہیں خط تحریر کرنے کے علاوہ وفد کی شکل میں سیاسی راہنما سعودی عرب جائیں گے اور ملک کے اندر عوامی سطح پر مظاہرے بھی کئے جائیں گے۔

صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی تک ملک میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا اور بیگم کلثوم نواز شریف جو پہلے بھی اپنے شوہر اور دیگر اہل خانہ کی ملک میں حراست کے دوران سیاسی مہم چلاتی رہی ہیں اور ایک بار پھر پاکستان میں آکر اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے احجاج میں شامل ہوں گی۔

اسی بارے میں
ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا
10 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد