نواز ملک بدری:یوم سیاہ اور احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے خلاف کل پاکستان جمہوری تحریک کے زیر اہتمام منگل کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ بڑا مظاہرہ کابلی چوک میں ہورہا ہے جس میں مسلم لیگ نون، عوامی نیشنل پارٹی اور مجلس عمل سمیت آل پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کی تقریباتمام جماعتیں شامل ہورہی ہیں۔ لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ تو نہیں ہوا لیکن مسلم لیگ کے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔مجلس عمل،مسلم لیگ نون اوردیگر جماعتیں بھی منگل کی سہ پہر لاہورپریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں بھی واحد مظاہرہ پریس کلب کے سامنے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔کراچی میں ایف ایٹ مارکیٹ میں مظاہرہ ہورہا ہے۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے عزیز اللہ خان نے بتایا ہے کہ نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے خلاف بلوچستان میں وکلاء نےعدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے جبکہ سیاسی جماعتیں آج یوم سیاہ منا رہی ہیں۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نگل کے روز صوبہ بھر میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور ان کا یہ احتجاج سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود نواز شریف کو دوبارہ جلا وطن کرنے کے خلاف ہے۔ انھوں نے کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کی مداخلت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی اپیل پر یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے مختلف عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے ہیں اور لوگوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہشام چار بجے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی جس کے بعد میزان چوک پر احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا۔ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود دوبارہ جلاوطن کرنے اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا تھا اور اتحاد کے قائدین نے کہا تھا کہ منگل کے روز یوم سیاہ منایا جائے گا، لیکن دوپہر تک یوم سیاہ کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کا کوئی خاص ردعمل نظر نہیں آیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کے سرکردہ رہنما اورسرگرم کارکن پہلے سے گرفتار ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اس یوم احتجاج میں شامل نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں نواز شریف کی جلا وطنی کے خلاف پٹیشن11 September, 2007 | پاکستان نواز، جلاوطنی کے خلاف یوم سیاہ11 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||