BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 September, 2007, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز ملک بدری:یوم سیاہ اور احتجاج

نواز شریف کے حامی کو سکیورٹی اہلکار لے کر رجا رہے ہیں
پیر کو سکیورٹی اہلکاروں نے نواز شریف کے حامیوں کو کہیں جمع ہونے نہیں دیا تھا
سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے خلاف کل پاکستان جمہوری تحریک کے زیر اہتمام منگل کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا۔

سیاسی جماعتوں نے اپنے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ بڑا مظاہرہ کابلی چوک میں ہورہا ہے جس میں مسلم لیگ نون، عوامی نیشنل پارٹی اور مجلس عمل سمیت آل پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کی تقریباتمام جماعتیں شامل ہورہی ہیں۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ تو نہیں ہوا لیکن مسلم لیگ کے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔مجلس عمل،مسلم لیگ نون اوردیگر جماعتیں بھی منگل کی سہ پہر لاہورپریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔

اسلام آباد میں بھی واحد مظاہرہ پریس کلب کے سامنے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔کراچی میں ایف ایٹ مارکیٹ میں مظاہرہ ہورہا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے عزیز اللہ خان نے بتایا ہے کہ نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے خلاف بلوچستان میں وکلاء نےعدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے جبکہ سیاسی جماعتیں آج یوم سیاہ منا رہی ہیں۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نگل کے روز صوبہ بھر میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور ان کا یہ احتجاج سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود نواز شریف کو دوبارہ جلا وطن کرنے کے خلاف ہے۔

انھوں نے کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کی مداخلت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اس کے علاوہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی اپیل پر یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے مختلف عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے ہیں اور لوگوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی ہیں۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہشام چار بجے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی جس کے بعد میزان چوک پر احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود دوبارہ جلاوطن کرنے اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا تھا اور اتحاد کے قائدین نے کہا تھا کہ منگل کے روز یوم سیاہ منایا جائے گا، لیکن دوپہر تک یوم سیاہ کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کا کوئی خاص ردعمل نظر نہیں آیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کے سرکردہ رہنما اورسرگرم کارکن پہلے سے گرفتار ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اس یوم احتجاج میں شامل نہیں ہے۔

سجاد علی شاہسابق ججوں کا ردعمل
’یہ اقدام اغوا کے زمرے میں آتا ہے‘
خدشات اور سکون
’ان کے چہرے پر پہلی دفعہ مکمل سکون تھا‘
نواز شریف’آئین سے متصادم‘
نواز شریف کی ملک بدری پر عالمی تشویش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد