’نو ڈیل‘ کی افواہوں کا قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایم کیو ایم کے گڑھ کراچی میں بے نظیر کی آمد کا اعلان اور ایم کیو ایم کی جانب سے انہیں مباردکباد نے ان افواہوں کا قتل کر دیا ہے کہ مشرف بے نظیر ڈیل ناکام ہو چکی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چودہ ستمبر کی پریس کانفرنس کے بعد کے حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسال قبل شروع ہونے والا مفاہمت کا سلسلہ قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا ہے اور حالیہ دنوں میں یہ قدم تیزی سے اٹھنے لگے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق دو تیز ترین تازہ مفاہمت بھرے اقدامات، نواز شریف کی زبردستی جلاوطنی اور ایم کیو ایم کی بے نظیر کو واپسی کی مبارکباد قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین بجاطور پر یہ سوال کر رہے ہیں کہ ایم کیوایم نے بےنظیر کی کراچی آمد کو ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کرلیا؟ وہ بھی ان حالات میں جب عمران خان جیسے ایک سیٹ والے کرکٹر نما سیاستدان کراچی میں داخل نہیں ہوسکتے، چیف جسٹس جیسی غیر سیاسی شخصیت نے داخلے کی کوشش کی تو چالیس سے زیادہ لاشیں گرا دی گئیں اور جب اس قتل و غارت کی عدالتی انکوائری شروع ہوئی تو بار اور بنچ پر خونی حملے شروع ہوگئے۔ آج بھی جماعت اسلامی کے کارکنوں کی لاشیں کراچی میں گر رہی ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ان سب سے ایم کیو ایم کی اتنی زیادہ پر تشدد سیاسی دشمنی نہیں رہی جتنی بڑی پیپلز پارٹی سے رہی ہے۔
بے نظیر کے دور حکومت میں ان کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے ایم کیوایم کےخلاف اتنا بڑا عسکری آپریشن کیا تھا جس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔کراچی کے نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد موت کے گھاٹ اتار دی گئی جس کی آج تک مکمل حتمی گنتی بھی نہیں ہوسکی۔ کراچی کے بعض علاقے ایسے ہیں جن میں شائد ہی کوئی گلی محلہ ایسا ملے جس کے کسی لڑکے کو بےنظیر دور میں ہلاک نہ کیا گیا ہو۔ بارہ مئی سنہ دوہزار سے قبل بےنظیر حکومت ہی تھی جس نے واضح انداز میں ملک کے باقی عوام کے سامنے ایم کیو ایم کے مبینہ شدت انگیز چہرے کو بے نقاب کیا تھا۔ تھوڑی بہت بھی سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے کے لئےاس بات کو ہضم کرنا بڑا ہی مشکل ہوگا کہ ایم کیو ایم کا بے نظیر کے استقبالیوں کی راہ میں خونی رکاوٹ نہ بننے کا فیصلہ ایک خالص جمہوری رویہ ہوگا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے بقول مفاہمت کا عمل مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے لیکن اس کی اصل شکل کیا ہے اور کس مرحلے پر کیا ہونے جا رہا ہے،اس بارے میں عوامی حلقے بے خبر ہیں۔ بے نظیر کے ساتھ ڈیل کے بارے میں پاکستانی صحافت اور سیاست میں شدومد سے کہا جاتا ہے کہ اسے امریکی پشت پناہی حاصل ہے اوراس کا کوئی بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کا سیاسی منظرنامہ عین اسی طرح تشکیل پا رہا ہے جیسا کہ سعودی قلمدان والے اور برطانوی روشنائی سےبھرے امریکی قلم سے پاکستانی لوح سیاست پرگذشتہ برس لکھ دیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر دہشت گردی کےخلاف نام نہادجنگ میں امریکہ کے لئے پاکستان میں حکمرانی کا آئیڈیل تال میل کچھ اس طرح ہوسکتا ہے:
’صدر پرویز مشرف اوروزیر اعظم بے نظیر بھٹو۔ پنجاب کا وزیراعلی بین الاقوامی معاملات میں ’بےضرر قاف لیگ‘ کے چودھری پرویز الہی، سندھ میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا مکسچر، سرحد میں ایسے مذہبی عناصر کی حکمرانی جن کےدروازے طاقتور حکام سے مذاکرات کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اور بلوچستان میں چھوٹی موٹی سیکولر، مذہبی ، وفاق و قوم پرست جماعتوں کا ایڈجسٹمنٹ۔۔۔۔۔۔۔‘ اس سیٹ اپ میں ایٹمی دھماکوں کےسلسلے میں امریکہ کی نافرمانی کرنے والے نواز شریف نے رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن اطلاعات کے مطابق اب وہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں عبادات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ایک غیرملکی صحافی نے لکھا ہے کہ ’جس پولیس نے نواز شریف کو ملک بدر کیا تھا وہی پولیس بے نظیر کے استقبال کی تیاریاں کرے گی۔‘ شطرنج کے کھلاڑی یہ سمجھتے ہیں کہ کھیل کےکچھ اصول وضوابط ہوتے ہیں لیکن جب بساط پاکستانی سیاست کی ہواور مہرے چلانے والے ہاتھ غیرملکی تو کچھ بھی ممکن ہے۔ پاکستانی سیاسی شطرنج کی بساط پر بیرونی ہاتھ تیزی سے مہرے آگے پیچھے کر رہے ہیں اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب کالی سینا کے بادشاہ کے بالکل ساتھ والے خانے میں سفید سپاہ کی ملکہ کھڑی ہوگی اور دونوں ایک دوسرے کو چت کرنے کی بجائے مسکرا کر دیکھ رہے ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||