آخر اے پی ڈی ایم لوگ کیوں نہیں لا سکا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پاکستان آئے اور چلے بھی گئے، لیکن ان کی آمد نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اکثر لوگ حیران ہیں کہ نواز شریف کے استقبال کے لیے دس لاکھ لوگوں کو لانے کا دعویٰ کرنے والے ’آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ‘ یعنی ’اے پی ڈی ایم‘ کے رہنما زیادہ افراد جمع نہیں کر سکے۔ مولانا فضل الرحمٰن اور قاضی حسین احمد کو نظر بند کردیا گیا اور ظاہر ہے کہ وہ جلوس میں شریک نہیں ہوئے لیکن ان کی جماعتوں کا کوئی کارکن اسلام آباد کے مرکزی استقبالی جلوس میں کیوں شریک نہیں ہوسکا؟ اس بارے میں قاصی حسین احمد نے کہا کہ وہ مار دھاڑ نہیں چاہتے تھے اور پرامن استقبال کرنا چاہتے تھے۔ اسلام آباد سے نکالے گئے مرکزی استقبالی جلوس میں جو سات آٹھ گاڑیاں اور بیس پچیس افراد نظر آئے وہ سب مسلم لیگ نواز کے تھے۔ ان میں بھی لیڈر زیادہ اور کارکن کم تھے۔
مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ان کی جماعت کے تین ہزار کارکن گرفتار کیے گئے جبکہ مسلم لیگ وکلا ونگ کے نصیر بھٹہ کا کہنا ہے کہ پندرہ سو لوگ جیلوں میں قید ہیں، ان کے مطابق ساڑھے تین سو کارکن لاہور میں گرفتار ہوئے۔ جبکہ وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ کہتے ہیں کہ حکومت نے ایک ہزار مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کو گرفتار کیا۔ اکثر تجزیہ کار جو کہہ رہے تھے کہ میاں نواز شریف کے لیے لوگوں کا سمندر امنڈ آئے گا اب وہ خود بھی پریشان ہیں کہ آخر مسلم لیگ نواز کے ساتھ ہوا کیا ہے؟ اگر احسن اقبال کے دعوے کو درست بھی مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آٹھ کروڑ کی آبادی والے پنجاب میں مسلم لیگ کے تین ہزار کارکن ہیں؟ حکومت کی پابندیاں اور گرفتاریاں اپنی جگہ۔ ظاہر ہے کہ ہر حکومت ایسا کرتی ہے اور اپریل سن دو ہزار پانچ کو جب آصف علی زرداری دبئی سے لاہور آئے تھے تو اس وقت بھی ایسا ہوا تھا لیکن اُس وقت پھر بھی صورتحال مختلف تھی۔ دس ستمبر کو نواز شریف کے استقبال کے روز مسلم لیگ نواز کے ایک کارکن بلال احمد سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کو اسلام آباد آنے کا غلط مشورہ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ لاہور میں اترتے تو صورتحال بہتر ہوتی۔
ایک اور مسلم لیگی متوالے نے کہا کہ ’ہمارے لیڈر پہلے دن سے ہی کہتے رہے کہ میاں صاحب کو ایک گھنٹے میں واپس بھیج دیں گے وہ ایئر پورٹ سے باہر ہی نہیں آئیں گے تو استقبال کے لیے لوگوں کو لانے کا کیا فائدہ‘۔ میاں نواز شریف کے وطن پہنچنے کے فیصلے پر بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انہوں نے عجلت سے کام لیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب سعودی عرب میں میاں نواز شریف پر پابندیاں ہوں گی اور ذرائع ابلاغ سے رابطہ بھی نہیں کر پائیں گے۔ یہ بات تو مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف سمیت دیگر رہنما بھی مانتے ہیں کہ آئندہ انتخابات کے موقع پر اگر میاں نواز شریف وطن نہ بھی آتے اور لندن سے بیٹھ کر معاملات چلاتے تو پھر بھی پارٹی کو سیاسی طور پر زیادہ فائدہ پہنچتا۔ لیکن ساتھ میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے شریف خاندان کی جلاوطنی کو غیر آئینی قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں میاں نواز شریف کا وطن جانے کا فیصلہ ٹھیک ہی تھا۔ نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے بعد اب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور اب لگتا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے سیاسی منظر میں عدلیہ کا کردار بھی اہم بنتا دکھائی دیتا ہے۔ |
اسی بارے میں نواز کو بینظیر پر برتری ہو گی: کھر 10 September, 2007 | پاکستان ’یہ معاملہ ضامنوں اورعدالتوں کاہے‘10 September, 2007 | پاکستان نواز، جلاوطنی کے خلاف یوم سیاہ11 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||