میاں صاحب گئے محترمہ آرہی ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف صاحب آئے بھی اور چلے بھی گئے، برصغیر میں آزادی سے ذرا پہلے ایک فلمی گانا بہت مقبول ہوا تھا، اس کے بول تھے’ آئے بھی وہ گئے بھی وہ ختم فسانہ ہوگیا‘۔ میاں صاحب کے معاملے میں ابھی یہ کہنا کہ فسانہ ختم ہوگیا کچھ مناسب نہیں لگتا، ماشااللہ ابھی انکی بیگم اور برادر خورد موجود ہیں۔ حکمراں مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کو دو ’ آپشن‘ فراہم کیےگئے تھے۔ ایک تو یہ کہ اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں یا پھر سعودی عرب چلے جائیں اور حسب وعدہ دس سالہ جلاوطنی کے باقی دن پورے کریں۔ انہوں نے بقول چودھری صاحب سعودی عرب جانے کو ترجیح دی۔ واللہ علم باالصواب۔اس کے دوسری ہی دن سعودی عرب کا قومی دن منایا گیا۔ اس موقع پر سعودی سفیر نے اسلام آباد میں ایک استقبالیہ دیا جس میں حزب اختلاف کے رہنما تو نہیں دکھائی دیئے لیکن سرکاری مسلم لیگ کے وزرا اور رہنماء سب ہی موجود تھے۔ ویسےمیاں صاحب بھی کمال کے آدمی ہیں۔ ایک طویل عرصے تک جلاوطنی کے معاہدے سے انکار کرتے رہے، یہاں تک کہ ہم سب کو یقین آگیا کہ واقعی کوئی معاہدہ وغیرہ نہیں ہوا تھا لیکن اچانک روانگی سے ایک دن پہلے معاہدے کا اقرار کر بیٹھے۔ جہاں اس سچ کو وہ اتنے دنوں تک ٹالتے رہے تھے کچھ دن اور ٹال جاتے۔
بہرحال ان کی دوسری جلاوطنی سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ مسلم لیگ ’ن‘ ہو یا ’ق‘ اقتدار کی پارٹی ہے، اقتدار سے باہر پھسڈی ہوجاتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماء جو ٹیلی ویژن چینلوں پر انتہائی کامیاب مناطرے اور مباحثے کرتے ہیں میدان عمل میں میاں صاحب کی مقبولیت یا مظلومیت کا صحیح استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ انہیں غالباً امید تھی کہ ایک بار میاں صاحب نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھ دیا تو لوگ اسی طرح سڑکوں پر نکل آئیں گے جیسے چیف جسٹس کے حق میں ابل پڑے تھے۔ یہ ان کی خام خیالی تھی۔چیف جسٹس ’جابر سلطان کے سامنے کلمئہ حق‘ کہہ کر میدان میں آئے تھے، اس لئے عوام نے ان کی ایسی پزیرائی کی تھی۔ میاں صاحب ایک عدالتی فیصلے کے تحت واپس آ رہے تھے۔ ان کے استقبال کی تیاری توویسے ہی کرنی چاہئےتھی جیسے حکومت اسے ناکام بنانے کی تیاری کر رہی تھی۔ محترمہ بھی واپس آرہی ہیں
ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی ڈیل کے تحت واپس نہیں جا رہی ہیں، اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ یہ بھی کہتی ہیں کہ انہیں اس طرح واپس نہیں کیا جاسکے گا جیسے میاں صاحب کو کیا گیا ہے اس لئے کہ وہ کسی سمجھوتے کے تحت ملک سے باہر نہیں گئی تھیں۔سرکاری ذریعوں کا بھی کہنا ہے کہ ان کی واپسی میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ محترمہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار بھی کیا ہے کہ جناب الطاف حسین نے ان کی واپسی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ویسے محترمہ کو جناب الطاف کی اس بات پر بہت زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیئے اس لئے کہ وہ قائد اعظم کے مزار کی حد تک تو ہر ایک کا استقبال کر لیتے ہیں لیکن اس سے آگے اگر کوئی بڑھتا ہے تو ناراض ہوجاتے ہیں۔ اب یہ بھی دیکھنا ہے کہ جناب الطاف اپنی واپسی کا اعلان کب کرتے ہیں۔ وہ بھی ایک طویل عرصے سے ’جلاوطنی‘ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پتہ نہیں انہیں اپنے عزیزآباد کے گھر کا پتہ بھی یاد ہوگا یا نہیں۔ جناب صدر کی وردی
یوں تو اسکے بارے میں چودھری شجاعت اور منظور وٹو پہلے ہی کہہ چکے ہیں لیکن اب جناب مشاہد حسین سید نے کہا ہے تو یقین آیا ہے۔ اس لئے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سوچ سمجھ کر اور مناسب لوگوں سے مشورے کے بعد کہتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سیاسی لوگوں کے خلاف مقدمات واپس لے لیے جانے چاہئیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اور نہ سہی کم از کم محترمہ بینظیر کے خلاف مقدمات تو واپس لے ہی لیے جائیں گے۔ دھماکے اور خودکش حملے گزشتہ ہفتے شاید ہی کوئی دن بغیر دھماکے کے گزرا ہواور اب تک معاملہ جنوبی، شمالی وزیرستان، بنوں، کوہاٹ، ڈیرہ اسمٰعیل خان، سوات کی وادی اور بلوچستان کے کچھ علاقوں تک محدود تھا اب ہری پور ہزارہ تک پہنچ گیا ہے، جو رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں بھی پرامن علاقوں میں شمار ہوتا تھا۔ پھر پہلے فوجی قافلوں اور چوکیوں پر ہی حملے ہوتے تھے اب یوں لگتا ہے کہ فوجی میسوں میں بھی دہشت گردوں کی رسائی ہوگئی ہے۔ گندم کی سمگلنگ یوں تو رمضان شروع ہوتے ہی ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس مقدس مہینے میں لوگ جتنے خشوع وخضوع سے نماز روزہ کرتے ہیں اتنے ہی انہماک سے ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری بھی شروع کردیتے ہیں۔ اس بار سننے میں آیا کہ پشاور میں 20 کلوآٹے کی بوری ایک ماہ پہلے 270 روپے میں دستیاب تھی اب 380 اور چار سو کی بک رہی ہے، حالا نکہ اس سال گندم کی پیداوار مقررہ حدف سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ بڑی مقدار میں گندم ہمسایہ ملکوں کو سمگل کی جا رہی ہے۔ ایک اخبار کی تو اطلاع یہ ہے کہ روزانہ کوئی دو سو ٹرک گندم سندھ کے سرحدی علاقوں سے ہندوستان سمگل ہو رہی ہے۔اس صورتحال میں تو اللہ کا شکر کرنا چاہیے کہ جس قیمت پر بھی سہی، آٹا مل تو رہا ہے۔ اگر سمگلر حضرات سب سمگل کردیتے تو کوئی کیا کرلیتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||